کابل اورقندھار میں پاکستان کے فضائی حملے؛ سینکڑوں دہشتگرد ہلاک

0
4

(پاکستان نیوز)پاکستان اور افغانستان کے درمیان گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی اب ایک باقاعدہ مسلح تصادم کی شکل اختیار کر چکی ہے جس کے نتیجے میں دونوں جانب جانی اور مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ تازہ ترین واقعات کے مطابق پاکستانی فضائیہ نے افغانستان کے دارالحکومت کابل اور قندہار کے مضافات میں قائم مخصوص ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جس کے بارے میں حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ مقامات دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث عناصر کے زیر استعمال تھے۔ ان کارروائیوں کے جواب میں افغان سرحدی افواج نے بھی بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر گولہ باری کی ہے جس کی وجہ سے سرحد کے قریبی علاقوں میں مقیم شہریوں کو نقل مکانی کرنی پڑی ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ یہ اقدامات ملکی خود مختاری کے تحفظ اور سرحد پار سے ہونے والے مسلسل حملوں کے سدباب کے لیے ناگزیر ہو چکے تھے۔ دوسری جانب کابل میں موجود انتظامیہ نے ان فضائی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں عام شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا گیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے کیونکہ اس جنگی صورتحال کی وجہ سے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو انسانی المیے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ طورخم اور چمن کے مقامات پر اہم تجارتی گزرگاہیں مکمل طور پر بند کر دی گئی ہیں جس کے باعث ہزاروں مال بردار گاڑیاں دونوں جانب پھنس چکی ہیں اور کروڑوں روپے کا تجارتی نقصان ہو رہا ہے۔ فوجی ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحد پر اضافی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں اور فضا میں نگرانی کا عمل چوبیس گھنٹے جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دراندازی کو فوری طور پر روکا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا عمل فوری طور پر شروع نہ ہوا تو یہ تنازع پورے خطے کے امن کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے جس کے اثرات وسط ایشیائی ریاستوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ فی الحال دونوں جانب سے بیانات میں تلخی برقرار ہے اور سرحدوں پر توپ خانے کی گونج تاحال تھمی نہیں ہے جو کسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here