عمان کے شام و سحر” نیویارک میں مقیم معروف کالم نگار، دانشور، صحافی اور سماجی شخفیّت بشیر قمر کا پانچواں سفر نامہ ہے جو عمان کی تاریخ، اور اہلِ عمان کی ثقافت، سماجیات، روحانیّت اور زندگی کی مختلف جہتوں اور گوشوں پر بڑے سادہ و سلیس انداز میں روشنی ڈالتا ہے۔نیویارک کی ادبی اور صحافتی فضاؤں میں ایک معتبر نام بشیر قمر کا ہے جنہیں عصرِ حاضر کا ابنِ بطوطہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا۔ بشیر قمر محض ایک کالم نگار یا سماجی شخصیت نہیں بلکہ ایک ایسے دیدہ ور سیاح ہیں جن کی تحریریں تاریخ، ثقافت اور روحانیت کا حسین سنگم پیش کرتی ہیں۔ ان کا تازہ ترین سفر نامہ عمان کے شام و سحر اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو قاری کو عمان کے گلی کوچوں، وہاں کے تمدن اور سماجی زندگی کے ان گوشوں سے روشناس کرواتا ہے جن تک عام سیاح کی نظر نہیں پہنچ پاتی۔ مصنف نے اپنی اس کاوش میں روایتی سیر و سیاحت سے ہٹ کر حقائق کی جستجو اور مشاہدات کی سچائی کو اہمیت دی ہے تاکہ نسلِ نو ان تحریروں سے نہ صرف لطف اندوز ہو بلکہ رموزِ زندگی سے بھی آگاہی حاصل کر سکے۔ان کی ادبی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سے قبل عکسِ قمر، گفتارِ قمر، سفر نامہ مصر اور ارضِ مقدس فلسطین جیسی کتب قارئین کے دل جیت چکی ہیں۔ ان میں سے ارضِ مقدس فلسطین محض ایک سفری داستان نہیں بلکہ مسئلہ فلسطین پر ایک ایسی عالمی دستاویز ہے جو فلسطینیوں کے حقوق کی ترجمانی کرتی ہے۔ اسی علمی پختگی کا تسلسل ہمیں عمان کے شام و سحر میں بھی نظر آتا ہے جہاں وہ عشرہ مبشرہ میں شامل حضرت عبدالرحمن بن عوف کا تذکرہ کرتے ہیں اور اصحابِ کہف کی غار، عجلون کے قلعے اور اردن کے عجائب گھروں کی ایسی تصویر کشی کرتے ہیں کہ قاری خود کو ان مقامات پر موجود محسوس کرتا ہے۔ بشیر قمر کی تحریر میں وہ سادگی اور مقصدیت موجود ہے جو انہیں البیرونی، ابنِ بطوطہ اور مارکو پولو جیسے قدیم سیاحوں کے نقشِ قدم پر چلنے والا ایک جدید دانشور ثابت کرتی ہے۔پاکستانی سفر نامہ نگاری کی تاریخ میں مستنصر حسین تارڑ اور ابنِ انشا جیسے بڑے ناموں کی موجودگی کے باوجود بشیر قمر کا اپنا ایک جداگانہ اسلوب ہے جو انہیں ستاروں کے جھرمٹ میں نمایاں کرتا ہے۔ ان کے اس کٹھن اور علمی سفر میں ان کی شریکِ حیات محترمہ تسنیم صاحبہ کا تعاون ایک ایسی لہر کی مانند ہے جو ریگزاروں میں تازگی کا احساس پیدا کرتا ہے۔ بشیر قمر کی شخصیت کا ایک پہلو ان کی حب الوطنی اور انسانیت دوستی بھی ہے جس کا ثبوت نیویارک میں پاکستانیوں کی فلاحی تنظیم کی بنیاد رکھنا اور مسئلہ کشمیر و فلسطین پر دو ٹوک موقف اختیار کرنا ہے۔ ان کے نزدیک زندگی کے حقائق پر نظر رکھنا ہی اصل دانائی ہے اور ان کا ہر سفر نامہ اسی شعور و آگہی کا چراغ ہے جو اندھیری راہوں میں علم کی روشنی پھیلا رہا ہے۔
٭٭٭













