چاند کا دیرینہ مسئلہ: نئی نسل پر منفی اثرات!!!

0
16
کوثر جاوید
کوثر جاوید

امریکہ جیسے کثیر الثقافتی معاشرے میں مقیم لاکھوں مسلمانوں کے لیے رمضان المبارک اور عیدین کے چاند کا فیصلہ محض ایک مذہبی فریضہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک ایسی پیچیدہ بحث بن چکا ہے جس نے پوری کمیونٹی کو واضح فکری دھڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ اس تقسیم کی جڑیں اس بنیادی سوال میں پیوست ہیں کہ آیا جدید سائنسی ترقی کو مذہبی احکامات کے تابع ہونا چاہیے یا روایتی طریقوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھال لینا چاہیے۔ ریاستہائے متحدہ کے مختلف شہروں میں بسنے والے مسلمان برسوں سے اس تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں جہاں ایک ہی محلے کی دو مختلف مساجد میں الگ الگ دنوں پر روزے کا آغاز اور عید کی خوشیاں منائی جاتی ہیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے اتحادِ امت کا تصور کمزور پڑنے لگتا ہے۔اس فکری تصادم کا ایک سرا ان تنظیموں سے جڑا ہے جو جدید فلکیاتی حسابات اور سائنسی ڈیٹا پر مکمل بھروسہ کرتی ہیں جن کا موقف ہے کہ جب چاند کی پیدائش اور اس کے افق پر نمودار ہونے کے وقت کا تعین منٹوں اور سیکنڈوں کی درستگی کے ساتھ ممکن ہے تو پھر انسانی آنکھ سے چاند دیکھنے کے روایتی طریقے پر اصرار کرنا بلاجواز ہے۔ یہ گروہ اس منطق کو تقویت دیتا ہے کہ پیشگی سائنسی تقویم سے مغربی معاشرے میں رہنے والے مسلمانوں کو اپنی ملازمتوں اور تعلیمی اداروں سے چھٹیوں کا بندوبست کرنے میں آسانی ہوتی ہے اور اس طرح سماجی نظم و ضبط برقرار رہتا ہے۔ تاہم اس سائنسی نقطہ نظر کے برعکس ایک بڑا طبقہ ان علمائے کرام اور مذہبی اداروں کا ہے جو روایتی روئیت ہلال کو ہی شرعی اعتبار سے مستند تسلیم کرتے ہیں۔ان کا استدلال یہ ہے کہ مذہبی عبادات کا تعلق محض وقت کی پیمائش سے نہیں بلکہ اس سنت پر عمل پیرا ہونے سے ہے جس میں چاند کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے یا معتبر شہادتوں پر یقین کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے خلیج مزید وسیع ہوتی ہے کیونکہ ایک گروہ کے لیے حساب کتاب حتمی حقیقت ہے جبکہ دوسرے کے لیے مشاہدہ ہی اصل بنیاد ہے جس کے نتیجے میں امریکی مسلمانوں کے درمیان جغرافیائی اور فکری دوری پیدا ہو جاتی ہے۔ اس بحث میں مزید شدت اس وقت آتی ہے جب ایک تیسرا دھڑا مقامی روئیت یا سائنسی حسابات کو چھوڑ کر مشرق وسطیٰ بالخصوص سعودی عرب کے اعلانات کی پیروی شروع کر دیتا ہے جس سے مقامی سطح پر ہم آہنگی کے امکانات مزید دھندلا جاتے ہیں۔اس سہ طرفہ تقسیم کا سب سے منفی اثر نئی نسل پر پڑ رہا ہے جو ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے مختلف دنوں پر عید منانے کو تفرقہ بازی سے تعبیر کرتی ہے اور یوں ان کے اندر اپنی مذہبی شناخت کے حوالے سے سوالات جنم لینے لگتے ہیں۔ سماجی ماہرین اور دانشور اس بات پر متفق ہیں کہ جب تک تمام مکتبہ فکر کے نمائندے ایک مشترکہ میز پر بیٹھ کر سائنسی حقائق اور مذہبی روایات کے درمیان کوئی معتدل راستہ تلاش نہیں کرتے تب تک یہ انتشار ختم نہیں ہوگا۔ امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے اب یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ جزوی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایک ایسی متفقہ پالیسی تشکیل دیں جو نہ صرف شرعی اصولوں پر پوری اترتی ہو بلکہ جدید دور کی سہولیات سے بھی ہم آہنگ ہو تاکہ مستقبل میں اس قسم کی تقسیم کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here