کلانچی سے کراچی تک!!!

0
17
رمضان رانا
رمضان رانا

زمانہ قدیم میں بھارت سونے کی چڑیا کہلاتا تھا جس پر سب سے پہلے آرین قبائل نے آکر وادی سندھ پر قبضہ کیا۔ جو بعدازاں اس سرزمین کے مالک بن گئے جن کو راجے اور مہارجے کہا جاتا تھا دو ہزار سال پہلے بھارت پر یونانی سکندر نے بھی حملہ کرکے فتح کرنے کی کوشش کی جن کو پنجاب کے راجہ بورس سے مقابلہ کرنا پڑا جس میں راج پورس اپنی ناقص جنگی حکمت عملی اور سازوسامان کی وجہ سے شکست کھا گیا کہ جن کے پاس ہاتھیوں کی فوج تھی جبکہ سکندر کے پاس جدید ترین رتھ موجود تھیں جو گھوڑوں کے ذریعے تیز ترین گاڑی کہلاتی تھی جس طرح آج کی فوجی جیبیں اور ٹینک وغیرہ کہلاتے ہیں اس جنگ میں سکندر کی فوج جو مصری فرعونوں اور فارس کے بادشاہوں کی روندتا ہوا ہندوستان کو بھی فتح کرنے نکلا تھا۔ جن کے سپاہیوں نے راتوں کو دریائے اٹک پار کرکے ہاتھیوں کی سونڈیں کاٹ دی تھی جو تکلیف کی وجہ سے واپس اپنی فوج کو کچلتے ہوئے بھاگ نکلے جس کی وجہ سے راجہ بورس کو شکست ہوگئی مگر سکندراعظم دریائے اٹک کو پار نہ کر پایا جو ملیریا سے بیمار ہو کر واپس چلا گیا بعدازاں بھارت کو لوٹنے کے لیے سات سال تک ترکوں، چنگریزوں، افغانوں اور پٹھانوں نے حملے کیئے جن کے نمرہ نویوں، نمودیوں، مغلوں، سوریوں، بودھیوں ابدالیوں، دورانیوں نے بھارت کو خوب لوٹا جس کے سلطان اور بادشاہ بنے رہے اس طرح کراچی بھی سونے کی چڑیا ہے۔ جس کے بارے میں کلاچی سے کراچی تک ہماری بچت کا حصہ ہے کہ جس میں کراچی نے کلاچی جیسی مچھیروں کی بستی سے دنیا کا جدید ترین شہر کراچی بننے میں کراچی کے بلاتفریق اور بدتمیز محنت کش، مزدور اور مڈل کلاس شامل ہیں جنہوں نے دن رات محنت ومشقت کرکے کلاچی کو کراچی بنایا ہے جو آج 75 فیصد آمدن کا حصہ فیڈرل اور سندھ حکومت کو دیتا ہے جس کی وجہ سے مرکزی اور صوبائی ادارے چل رہے ہیں۔ جو قدیم بھارت کی طرح آج کی پاکستان کی سونے کی چڑیا کہلاتا ہے جس کی اپنی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں اہلیان شہرم پانی پینے کو ترس رہے ہیں۔ پورا شہر گندگی کا ڈھیر بن چکا ہے۔ بجلی جس سہولت ایک خواب بن چکا ہے لوگ اب بجلی کی جگہ تیل کی بستیاں جلانے پرمجبور ہیں جس سے اہلیان کراچی تمام ایسے مسائل کے شکار ہیں جس کا بیان کرنا مشکل ہے یہ جانتے ہوئے کہ کراچی پاکستان کے تمام مرکزی اور صوبائی اداروں کو آمدن فراہم کرتا ہے مگر خود شہری بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں جو کسی بھی وقت پورے پاکستان کے لئے کسی بھی طوفان کا باعث بن سکتا ہے چونکہ ماضی میں شہر کراچی کے عوام اپنے مسائل حل کے لئے متحد اور مضبوط ہوا کرتے تھے جس کے مزدور اور محنت کش تنظیمیں یا پھر طلبا تنظیمیں عوام کے مسائل کے حل کے لئے مشترکہ جدوجہد کے شہر کراچی کو احتجاجی ہڑتالوں جلسوں جلوسوں سے بند کر دیا کرتے تھے جس پر حکمران بھتہ غوری طور پر حرکت میں آجاتا تھا۔ سیاسی رہنما کراچی کا مقدم صحیح بنیادوں پر بڑا کرتے تھے جس کی وجہ سے کراچی نہ صرف پاکستان بلکہ ایشیا کا بہت بڑا ترقی یافتہ شہر بن گیا تھا جس کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لئے اہلیان کراچی کو فرقوں نسلوں اور لسانوں میں بانٹا گیا جس کی وجہ سے کراچی خانہ جنگی کا شکار ہوگیا جس کی سب سے بڑی قومی پرچم پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ہے جنہوں نے اہلیان شہر کو تقسیم کرکے اپنی جان بچائی جو اب پورے ملک کے لئے وبال بننے جارہی ہے۔ بہرحال کراچی ہندوستان پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، عربوں، ایرانیوں، افغانیوں کے شہریوں کا متحدہ شہر ہے جو جنوبی ایشیا کا اقوام متحدہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا یہاں ہر نسل، لسان، کلچر کے باشندے لاکھوں کی تعداد میں آباد ہیں جو عام طور پر منی پاکستان بھی کہلاتا ہے کہ یہاں ہر علاقے کا پاکستانی آباد ہیں بے اختیار شہریوں کی مدد کر پائے کاش کراچی کو بھی کوئی نیویارک جیسا ممدانی مل پائے جو تمام لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرکے عوام کے بنیادی مسائل حل کر پائے۔

٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here