ایران کا امریکہ کے پیٹرو ڈالر پر کاری وار!!!

0
17

ایران کی حالیہ تزویراتی پیش قدمی نے عالمی اقتصادی نظام کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں اور یہ ایک ایسا غیر متوقع اقدام ہے جو دہائیوں سے قائم امریکی ڈالر کی بالادستی کو براہ راست چیلنج کرتا ہے۔ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو تمام بحری جہازوں کے لیے کھلا رکھنے کا اعلان اس کڑی شرط سے مشروط کر دیا گیا ہے کہ تیل کی لین دین اب ڈالر کے بجائے صرف چینی کرنسی میں کی جائے گی۔ اس فیصلے کے دور رس اثرات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عالمی منڈی میں پیٹرو ڈالر کا خاتمہ امریکی معیشت کو اسی سال ایک گہرے بحران میں دھکیل سکتا ہے کیونکہ جب ڈالر کی طلب میں عالمی سطح پر کمی آئے گی تو واشنگٹن کے لیے اپنے دیوہیکل قرضوں پر سود کی ادائیگی ناممکن ہو جائے گی۔تیل کی تجارت کو ڈالر سے الگ کرنے کا یہ عمل محض ایک معاشی تبدیلی نہیں بلکہ ایک نئے عالمی نظام کی آہٹ ہے جہاں واشنگٹن کی پابندیاں اور مالیاتی دباؤ بے اثر ہو کر رہ جائیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی سلطنت نے اپنے سکے کی قدر کھوئی اس کا زوال یقینی ہو گیا اور موجودہ حالات میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی افراط زر اور اندرونی خلفشار اس عمل کو مزید تیز کر رہے ہیں۔ اسی دوران اسرائیلی وزیر اعظم کی منظر عام پر آنے والی ویڈیوز نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے جہاں ماہرین ان تصاویر اور مناظر کو مصنوعی ذہانت کا شاہکار قرار دے رہے ہیں جو محض وقت گزاری اور عوامی رائے عامہ کو دھوکہ دینے کی ایک کوشش معلوم ہوتی ہے۔سیاسی منظر نامے پر اس وقت محض افراد کی اہمیت ثانوی ہو چکی ہے کیونکہ اصل جنگ ان پالیسیوں کی ہے جو خطے میں دہائیوں سے جاری ظلم اور استحصالی نظام کو تحفظ فراہم کر رہی ہیں۔ روس اور چین کا ایران کی پشت پناہی کے لیے کھل کر سامنے آنا اس بات کی علامت ہے کہ اب فوجی طاقت کے بجائے معاشی استحکام اور توانائی کے وسائل عالمی سیاست کا رخ متعین کریں گے۔ اگر امریکی حصص کی منڈی میں مندی کا رجحان غالب آتا ہے تو یہ نہ صرف ایک ریاست کا دیوالیہ پن ہوگا بلکہ اس عالمی چوہدراہٹ کا بھی خاتمہ ہوگا جو محض کاغذی نوٹ چھاپنے کے بل بوتے پر قائم تھی۔ انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ دنیا ان قوتوں کا زوال اپنی آنکھوں سے دیکھے جنہوں نے انسانیت کو جنگوں اور معاشی غلامی کی آگ میں جھونکے رکھا ہے۔اسی دوران تل ابیب سے آنے والی پراسرار خبریں اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ ویڈیوز کے پیچھے چھپے حقائق یہ بتاتے ہیں کہ شاید وہاں کی قیادت اب براہ راست عوام کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہی۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر اسرائیلی وزیراعظم کے حوالے سے گردش کرنے والی خبریں درست ثابت ہوئیں تو یہ خطے میں طاقت کے توازن کو مکمل طور پر تبدیل کر دے گا اور امریکہ کے لیے اپنے اتحادیوں کو یکجا رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔ عالمی معیشت کے اس نازک موڑ پر جہاں ایک طرف سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے وہیں دوسری جانب خام تیل کی قیمتیں اب براہ راست تہران اور بیجنگ کے تزویراتی گٹھ جوڑ کے تابع ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔انصاف اور توازن کی اس نئی دوڑ میں مغربی میڈیا کا روایتی بیانیہ بھی اب اپنی ساکھ کھوتا جا رہا ہے کیونکہ دنیا اب صرف وہی نہیں دیکھ رہی جو اسے دکھایا جاتا ہے بلکہ وہ ان معاشی حقائق کو بھی سمجھنے لگی ہے جو ان کے روزگار اور مستقبل پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اگر انے والے مہینوں میں ڈالر کی قدر میں گراوٹ کا یہ سلسلہ نہ رکا تو ہم تاریخ کے اس بڑے تغیر کے گواہ ہوں گے جہاں ایک پرانی سپر پاور کا غرور خاک میں مل جائے گا اور مشرق کی ابھرتی ہوئی قوتیں عالمی نظام کی نئی باگ ڈور سنبھال لیں گی۔ یہ محض ایک ملک کی دوسرے پر برتری کا معاملہ نہیں بلکہ اس استحصالی مالیاتی نظام کے خاتمے کا آغاز ہے جس نے پوری دنیا کو ایک طویل عرصے تک اپنے شکنجے میں جکڑے رکھا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here