کراچی(پاکستان نیوز) سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری اعداد وشمارکے مطابق جنوری 2026 کے دوران بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے 3.46 ارب ڈالرزکی ترسیلات زر پاکستان بھجوائیں، جو عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے باوجود مضبوط بیرونی آمدن کی عکاسی کرتی ہیں۔ اگرچہ جنوری کی ترسیلات دسمبر 2025 میں ریکارڈکی گئی 3.59 ارب ڈالرکی رقم سے معمولی کم رہیں، تاہم یہ جنوری 2025 کے 3.00 ارب ڈالرزکے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ رواں مالی سال کے جولائی تاجنوری عرصے میں مجموعی ترسیلات زر 23.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں،جوگزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 20.85 ارب ڈالر تھیں، یوں سالانہ بنیادوں پر 11.3 فیصد اضافہ ریکارڈکیاگیا۔گروتھ سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ نشیدملک کے مطابق گزشتہ 6 ماہ میں ترسیلات زرکی اوسط 3.331 ارب ڈالر جبکہ گزشتہ بارہ ماہ کی اوسط 3.387 ارب ڈالررہی اور جنوری 2026 کی ترسیلات ان دونوں اوسط سے زیادہ تھیں۔ ملک وار اعدادو شمارسے ظاہر ہوتاہے کہ اگرچہ خلیجی ممالک بدستور ترسیلات زرکاسب سے بڑاذریعہ ہیں، تاہم یورپ اور دیگر ترقی یافتہ معیشتیں تیزی سے ابھرتے ہوئے ذرائع کے طور پرسامنے آ رہی ہیں۔ سعودی عرب جنوری میں 739 ملین ڈالرزکے ساتھ سرفہرست رہا، متحدہ عرب امارات سے 694.2 ملین ڈالر اور برطانیہ سے 572 ملین ڈالرموصول ہوئے۔ اس کے برعکس امریکاسے ترسیلات زرگھٹ کر 294.7 ملین ڈالر رہ گئیں،جو سالانہ بنیادوں پرکمی ظاہرکرتی ہیں اور ممکنہ طور پر تجارتی و ٹیرف کشیدگی کے اثرات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ یورپی یونین سے آنیوالی ترسیلات میں نمایاں اضافہ ہوااور جنوری میں یہ 479.6 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں،جبکہ FY26 کے دوران یورپی یونین سے مجموعی ترسیلات میں 24.6 فیصد اضافہ ریکارڈکیاگیا۔ آسٹریلیااورکینیڈاسے آنیوالی رقوم میں بالترتیب 46.5 فیصد اور 29.5 فیصداضافہ دیکھاگیا،جو مغربی ممالک میں ہنرمند پاکستانی افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی ہجرت ظاہرکرتاہے۔ ماہرینِ معیشت کے مطابق ترسیلات زر پاکستان کے بیرونی کھاتوں کے استحکام میں کلیدی کردار اداکر رہی ہیں،جو تجارتی خسارہ کم کرنے اورزرمبادلہ ذخائرکوسہارادینے میں مددگار ثابت ہورہی ہیں۔ سٹیٹ بینک نے مالی سال 2026 کیلیے ترسیلات زرکاہدف 42 ارب ڈالر مقررکیاہے،جبکہ مارچ اور جون 2026 میں عیدکے باعث مزید اضافے کی توقع ہے۔









