واشنگٹن (پاکستان نیوز) امریکی ایوانِ نمائندگان کے ارکان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا پر عائد کردہ محصولات (ٹیرف)کو مسترد کرنے کے حق میں ووٹ دے دیا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گزشتہ روز ڈیموکریٹس کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد 219 کے مقابلے میں 211 ووٹوں سے منظور ہوئی، جس میں6ریپبلکن ارکان نے بھی حمایت کی۔ ایوانِ نمائندگان ان قومی ہنگامی حالات کو ختم کرنے سے متعلق قراردادوں پر غور کر سکتا ہے جنہیں صدر ٹرمپ نے مختلف ممالک سے درآمدات پر وسیع محصولات عائد کرنے کے لیے گزشتہ سال نافذ کیا تھا لیکن کینیڈا اور دیگر تجارتی شراکت داروں پر عائد محصولات کو ختم کرنے کے لیے کسی بھی اقدام کو سینیٹ کی منظوری اور صدر کے دستخط درکار ہوں گے۔ اگر یہ سینیٹ سے منظور بھی ہو جائے تو ٹرمپ کی جانب سے ویٹو کیے جانے کا قوی امکان ہے اور کانگریس کے لیے دو تہائی اکثریت سے ویٹو مسترد کرنا مشکل ہوگا۔ووٹنگ کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنی جماعت کے ارکان کو براہِ راست سیاسی دھمکی دی۔ انہوں نے کہا کہ ایوان یا سینیٹ میں کوئی بھی ریپبلکن اگر ٹیرف کے خلاف ووٹ دے گا تو اسے آئندہ انتخابات میں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیرف نے ہمیں معاشی اور قومی سلامتی فراہم کی ہے اور کوئی بھی ریپبلکن اس سہولت کو تباہ کرنے کا ذمہ دار نہیں ہونا چاہیے۔ ریپبلکن رکن ڈان بیکن نے سوشل میڈیا پر کہا کہ قانون ساز اپنی ذمہ داریاں دوسروں کو سونپ نہیں سکتے اور نہ سونپنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک روایتی قدامت پسند ہونے کے ناطے میں جانتا ہوں کہ ٹیرف دراصل امریکی صارفین پر ٹیکس ہوتا ہے اور اس معاملے پر بحث اور ووٹنگ ایوان میں ہونی چاہیے۔







