بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے گذشتہ ہفتے استعفی دے دیا لیکن اِس سے بھی اہم خبر بنگلہ دیش کی یہ ہے کہ وہاں کی سابقہ وزیراعظم شیخ حسینہ جو صدر شہاب الدین کی ایک اہم حلیف تھیں امروز فردا میں اپنے وطن واپس لوٹ کر اپنے آپ کو حکام کے حوالے کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ واضح رہے کہ اُن کے خلاف کئی مقدمات میں اُنہیں سزائے موت ہوچکی ہے اور جن میں ایک مقدمہ انسانیت کے خلاف جرم شامل ہے۔ تا ہنوز وہ دہلی میں صدر نریندر مودی کی مہمان خاص ہیں ، لیکن مودی کی شہنشاہیت اور مطلق العنانیت کا قالین خود کھِسک چکا ہے اور ماضی میں جو وہ کبھی تعظیم و تکریم کے مالک سمجھے جاتے تھے آج وہ اسکول کی سترہ سالہ بچیوں سے مغلظات سن رہے ہیں۔ بھارت میں طلبا کے احتجاج کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ وہ نعرے بازی، تقریروں کے علاوہ اپنے وزیراعظم کو گالیوں سے بھی نواز رہے ہیں اور جس کی گونج وہاں کی پارلیمنٹ میں بھی سنائی دے رہی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی رفیق کار نے شیخ حسینہ کو یہ عندیہ دینا شروع کردیا ہے کہ وہ اپنا بوریا بستر سنبھالیںاور اپنے ملک یا کسی اور ملک میں جائے پناہ تلاش کریں۔ مہمان نوازی ایک یا دو ماہ کی ہوتی ہے ، کوئی چار یا پانچ سال کی نہیں۔ اور پھر شیخ حسینہ کے نخرے بھی ہزار طرح کے ہیں۔ اُنہیں دِن کے کھانے میں چاٹگام کی تازہ ہلسا مچھلی اور راجشاہی کا لنگڑا آم ہر قیمت پر پیش کیا جانا پڑتا ہے اور سونے پر سہاگا کہ وہ بھارت کے خلاف گلہ و شکوہ کرنے میں بھی کوئی دقیقہ فرد گذاشت نہیں کرتیں۔ اُنکا کہنا تھا کہ اگر وہ بھارت نواز نہ ہوتیں تو اُنہیں آج یہ دِن دیکھنا نہ پڑتا۔ معلوم یہ ہوا کہ شیخ حسینہ نے نریندر مودی سے مرسڈیز گاڑی بھی خریدنے کی درخواست کی تھی، جس پر مودی نے جواب دیا تھا کہ اُن کے پاس خود ہندوستان کی بنی ہوئی گاڑی ہے۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق دنیا کے پندرہ ممالک نے شیخ حسینہ کو اپنے ملک میں سیاسی پناہ دینے پر راضی ہوگئے ہیں ، آیا وہ افریقہ یا ایشیا کے ممالک جانا جانا پسند کرینگی یا نہیں، یہ اُن پر منحصر ہے۔
صدر شہاب الدین نے اپنے استعفی کی وجہ علالت بتائی ہے اور آئین کے مطابق بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے اسپیکر حفیظ الدین احمد نے صدر کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ اُنہوں نے اپنے استعفی کے خط میں یہ تحریر کیا تھا کہ اُن کی علالت صدر کے ایک اہم عہدہ کے فرائض کے انجام دینے میں حائل ہوگئی ہے۔ اُنہوں نے یہ عذر ۔ پیش کیا کہ اُنہیں طویل المدت علاج کی ضرورت ہے۔ محمد شہاب الدین نے اپنا استعفی شیخ حسینہ کے اِس اعلان کے ٹھیک ایک ہفتے کے بعد پیش کیا جس میں وہ رائٹر کے نمائندے کو ایک انٹرویو دیتے ہوے کہا تھا کہ وہ اِسی سال دسمبر کے ماہ میں بنگلہ دیش واپس لوٹ جائینگی، تاکہ وہ اُن پر عائد ہونے والے الزامات کا خود سامنا کرسکیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اُن کے پارٹی کے رہنما و کارکن پر زبردست مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ اگر اُنہیں موت آنی ہے تو وہ اُن کی مٹی پر آئے جہاں اُن کے آباؤ اجداد مدفن ہیں اور جہاں کی سرزمین پر اُن کا خون جذب ہے۔ ایک دور میں شیخ حسینہ اپنے ملک کی انتہائی مقبول رہنما سمجھی جاتی تھیں جب وہ ایک حزب اختلاف کی رہنما ہوتے ہوے وہاں کی فوجی آمرانہ حکومت کا خاتمہ کردیا تھا اور جمہوریت کی داغ بیل ڈالی تھی۔ تاہم اب اُن کی پندرہ سالہ وزارت عظمی کے عہدے پر فائز رہنا بدعنوانی اور مطق العنانیت کا دور گردانا جاتا ہے۔
شیخ حسینہ کی حکومت کیخلاف مظاہروں کا آغاز سِول سروس کے کوٹے پر شروع ہوا تھا۔ ڈھاکا کے طلبا مکتی باہنی کے غنڈے اور ڈاکوئوں کو اپنے برحق حصے کو دینا نہیں چاہتے تھے۔ بعد ازاں مظاہروں کو شیخ حسینہ کے حکم پر گولیوں سے بھون دیا گیا جس میں کم ازکم دوہزار طلبا ہلاک ہوگئے تھے۔











