ٹرمپ کی مقبولیت میں واضح کمی

0
4

نیویارک (پاکستان نیوز)صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنی تقریبات میں عوام کے جم غفیر کی موجودگی کے دعووں پر اب ان کے شدید ترین حامیوں نے بھی خاموشی اختیار کر لی ہے، جسے سیاسی تجزیہ کار ان کی گرتی ہوئی مقبولیت اور سیاسی اثر و رسوخ میں کمی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ واشنگٹن میں منعقدہ چار جولائی کی حالیہ تقریب کے دوران سابق صدر نے ایک بار پھر بھیڑ کے حوالے سے متنازع دعوے کیے۔ انہوں نے اتوار کے روز دعویٰ کیا کہ 422000 لوگ ان کا خطاب سننے کے لیے موجود تھے جو خراب موسم کی وجہ سے چلے گئے اور بعد میں کم از کم 150000 افراد دوبارہ واپس آئے۔ اس سے قبل انہوں نے ایک الگ عدد بتاتے ہوئے 375000 لوگوں کی موجودگی کا راگ الاپا تھا۔ تاہم صحافتی تجزیوں اور جائے وقوعہ کی ویڈیو تصاویر سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ وہاں موجود افراد کی تعداد 150000 سے کہیں کم تھی۔ سال 2017 میں اپنی پہلی تقریبِ حلف برداری کے موقع پر بھی انہوں نے اس وقت کے صدر براک اوباما کے مقابلے میں زیادہ ہجوم کا دعویٰ کیا تھا، لیکن اس وقت ان کی سیاسی ٹیم اور حامی ان کے دفاع کے لیے میدان میں اتر آئے تھے۔ اس بار صورتحال بالکل برعکس رہی اور ان کے کسی بڑے رہنما یا ترجمان نے ان کے حق میں کوئی بیان جاری نہیں کیا بلکہ انہیں اپنے ہی دعووں کے ساتھ تنہا چھوڑ دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ سرد مہری ظاہر کرتی ہے کہ اب ان کے مبالغہ آرائی پر مبنی بیانات کی اہمیت ختم ہو چکی ہے اور عوامی و سیاسی سطح پر ان کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here