خاندان کی اہمیت!!!

0
21
رعنا کوثر
رعنا کوثر

خاندان کی اہمیت!!!

اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ جب تک یہ چلتی رہے گی، اس سے انسان رخصت ہوتے رہیں گے اور نئے انسان نوزائیدہ بچوں کی صورت میں اس دنیا میں آتے رہیں گے۔ یہ پیارے بچے دنیا کی رونق کا سامان ہیں۔ پہلے زمانے میں بچوں کی پیدائش خاندان میں اضافے کا باعث بنتی تھی، خاندان بڑھتے رہتے تھے اور لوگ خوش رہتے تھے۔ بچے ایک دوسرے کے بہن بھائیوں کے کپڑے اور جوتے پہن کر، نیز گھر میں جو بھی پکتا تھا اسے کھا کر بڑے ہو جاتے تھے۔ والدین انہیں سرکاری اسکولوں میں بھیج کر تعلیم دلاتے تھے اور گھر میں بھی خود بچوں کی پڑھائی اور اسکول کی تیاری کروایا کرتے تھے۔ اگر ضرورت پڑتی تو چچا، ماموں، خالہ یا پھوپھی میں سے کوئی نہ کوئی مدد کر دیتا تھا، یا پھر بڑے بہن بھائی ہی چھوٹے بہن بھائیوں کو پڑھا دیتے تھے اور یوں زندگی رواں دواں رہتی تھی۔ اگرچہ بعض اوقات والدین کو مالی مشکلات کا سامنا بھی ہوتا تھا، تاہم خوشحال لوگوں کے لیے ایسا کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا۔ اس طرح لوگ خوش دلی سے متعدد بچوں کی پرورش کر لیتے تھے۔ بڑے بہن بھائی برسر روزگار ہو کر چھوٹوں کی ذمہ داری سنبھال لیتے تھے اور چھوٹے آگے سے ان کے بچوں کی پرورش میں ہاتھ بٹاتے تھے، جس کے باعث آنے والے بچے سب کے ہاتھوں بہت خوشی سے پل کر بڑے ہو جاتے تھے۔
تاہم اب حالات بدل چکے ہیں۔ آج کے دورمیں بچوں کی پیدائش والدین کے لیے چند مشکلات بھی ساتھ لاتی ہے۔ تین سے زیادہ بچے والدین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ ان کی پرورش کیسے کی جائے، ان کی تعلیم کے اخراجات کیسے پورے کیے جائیں اور ان کی دیکھ بھال کون کرے گا۔ اگر مائیں ملازمت کر رہی ہوں تو بچوں کی دیکھ بھال کے لیے بے بی سٹر کی خدمات حاصل کرنا بہت مہنگا ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح ڈے کیئر سینٹر اور پرائیویٹ اسکول بھی انتہائی گراں قدر ہیں، جبکہ سب سے مشکل کام بچوں کی دیکھ بھال کے لیے کسی اچھی آیا کا انتخاب ہے۔ دوسری جانب خاندان کا کوئی بڑا بھی بچوں کے لیے وقت نکالنے سے قاصر ہوتا ہے، کیونکہ خالہ اور ماموں بھی اپنی تعلیم کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں۔ ایسے میں لوگ دن بہ دن یہ سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ ایک یا دو بچے ہی مناسب ہیں۔
اس کے باوجود میں نے امریکہ میں یہ دیکھ کر بہت متاثر ہوئی۔ وہاں بے شمار نوجوان والدین ایک یا دو بچوں پر اکتفا کرنے سے مطمئن نہیں ہیں۔ وہ اپنے بچوں کے لیے زیادہ بہن بھائی چاہتے ہیں اور ہر طرح کا خطرہ مول لے کر چار بچوں کی پرورش بھی کر رہے ہیں۔ وہ نہ صرف سخت محنت اور ملازمت کر رہے ہیں بلکہ گھر کو سلیقے سے رکھنے کی بھی پوری کوشش کرتے ہیں۔ وہ وقت کی مناسب منصوبہ بندی کرتے ہیں، بچوں کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت نکالتے ہیں اور ان کی بہت اچھی تربیت کر رہے ہیں۔ وہ بڑے بچوں کو اس بات کے لیے تیار کرتے ہیں کہ وہ چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال رکھیں، جبکہ چھوٹوں کو آداب سکھاتے ہیں تاکہ وہ بڑے بہن بھائیوں کو تنگ نہ کریں۔ امریکہ میں ایسے گھرانوں کو دیکھ کر میں ان نوجوان والدین کو مبارکباد پیش کرتی ہوں جو نہایت عمدہ طریقے سے ایک بڑے خاندان کو پروان چڑھا رہے ہیں اور دوسروں کو بھی حوصلہ فراہم کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی ہمت اور حوصلے کو قائم رکھے اور وہ ہمیشہ خاندان کی اہمیت کو سمجھتے رہیں۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here