اسرائیل ہمیں جنگ میں الجھائے رکھنا چاہتا ہے، ٹرمپ کا تنقیدی بیان

0
6

واشنگٹن (پاکستان نیوز)واشنگٹن میں اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو سے ملاقات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے رویے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیتن یاہو انہیں زبردستی جنگ کے دلدل میں پھنسائے رکھنا چاہتے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا کہ انہیں ایران کی ایٹمی سرگرمیوں سے متعلق کسی بھی قسم کی خفیہ معلومات کی ضرورت نہیں ہے اور نیتن یاہو کو چاہیے کہ وہ یہ معلومات محض ان کے ساتھ شیئر کرنے کے بجائے پوری دنیا کے سامنے پیش کریں۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم صرف اس مقصد کے تحت نئی معلومات فراہم کرنے کی بات کر رہے ہیں تاکہ امریکہ جنگی عمل کا حصہ بنا رہے۔ ایران کی جوہری تحرکات اور خطے کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی انتظامیہ ایرانی سرگرمیوں پر مسلسل اور گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق کوہ کولانگ کے مقام پر جاری کام ان کے لیے کوئی بڑا مسئلہ یا خطرہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ پہلے ہی ایران کے اہم ایٹمی مراکزی مقامات کو تباہ کر چکا ہے اور اگر تہران کے ساتھ حتمی معاہدہ طے نہ پایا تو کوہ کولانگ کے زیرِ زمین مرکز کو بھی انتہائی آسانی سے تباہ کر دیا جائے گا۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران وہاں بارودی سرنگیں بچھائے یا کسی قسم کے حملے کرے، اس اہم سمندری گزرگاہ پر امریکہ کا کامل کنٹرول اور گرفت مضبوط رہے گی۔ دوسری جانب خبر ایجنسی کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس اہم ملاقات کے دوران نیتن یاہو کا ارادہ امریکی صدر کو ایران کی جوہری پیشرفت سے متعلق نئی معلومات فراہم کرنا ہے، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان نے دونوں اتحادیوں کے درمیان ایران پالیسی اور جنگی حکمتِ عملی کے اختلافات کو کھل کر سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here