ظلم کا نظام نہیں چل سکتا!!!

0
21
جاوید رانا

جس وقت ہم یہ کالم لکھ رہے ہیں سیاسی حوالے سے جو بحرانی کیفیت برپا ہے وہ مقتدروں اور خان کے چاہنے والے سیاسی قائدین کے درمیان خصوصاً 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے سبب نقطۂ عروج کی جانب متوقع تو ہے ہی لیکن سوموار کی شب خان کی بہنوں نورین، عظمیٰ خان کی گرفتاری بشمول بچوں اور افراد خاندان اور قبل ازیں علیمہ خان کو پابند سلاسل و مقید کیا جانا کسی بھی مذہب، تہذیب اور اخلاق کی تکذیب اور انسانیت کی گراوٹ کے سواء کچھ نہیں۔ MPO کے تحت یہ گرفتاریاں انگریز سامراج کے غیر منقسم ہندوستان کے آزادی کے متوالوں کے جذبے کو کُچلنے کا اتباع اور عمران کے آئین، جمہوری و انصاف کے منشور کیخلاف ملک پر ہر دور میں مسلط رہنے والوں کی نفرت انگیز اور دشمنی کی بدترین مثال اور خان کے غیر متزلزل اقدام کو کُچلنے کے سواء اور کیا ہو سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد 1960ء میں ایوب خان نے اپنی آمریت برقرار رکھنے کی غرض سے ایم پی او کا نفاذ کر کے مخالفین کو ڈپٹی کمشنرز کے توسط سے کُچلنے کا اہتمام کیا، 73ء کے آئین میں عوام دشمن قانون کو ختم کر دیا گیا تھا لیکن اگلے آمر ضیاء الحق نے اپنے مفاد کیلئے اس قانون کا احیاء کیا، اب موجودہ آمر نے عوام کو کُچلنے کیلئے پھر اس قانون کو سہارا بنایا تاکہ عمران کے اٹل و مضبوط مقصد کو کمزور اور پاکستانیوں کو خوفزدہ و ہراساں کر کے مقصد سے دور کیا جائے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ وفاقی یا پنجاب کی کٹھ پتلی یا سول انتظامیہ میں اتنا دم خم ہے کہ وہ مقتدرہ کی مرضی و منظوری کے بغیر ظلم و بربریت کا بازار گرم کر سکیں، سچ تو یہ ہے کہ عمران کے بغض اور اس کی مقبولیت و استحکام سے خوفزدہ اور اپنے وجود کے تسلسل کیلئے کوشاں مقتدر اعلیٰ کے اشارۂ ابرو پر ظلم و استبداد کا ہر حربہ آزمایا جا رہا ہے جو عمران کے پایۂ استقلال کو کمزور کر سکے۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ حافظ ہونے اور کلام پاک و دین مبین کے حوالے دینے والے محافظ کو ظلم خصوصاً خواتین، بچوں اور مظلوموں پر پہاڑ توڑنا، محض دین مبین میں ہی نہیں، ہر مذہب اور انسانیت و اخلاقیات کے ہر منشور کا بدترین و وحشیانہ ارتکاب ہے۔ حافظ صاحب کو خان کی بہنوں، افراد خانہ اور بچوں کی گرفتاریوں کے وقت یہ خیال نہیں آیا کہ یہی صورتحال ان کی خواتین، بچوں اور رشتہ و قرابت داروں کیساتھ پیش آئے تو ان کا کیا رد عمل ہوگا۔ اس حقیقت کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ ہر عمل کا رد عمل ضرور ہوتا ہے۔
خان کی بہنوں کیخلاف ایم پی او کے تحت کیا جواز بنتا ہے جو گرفتاری کی گئی، کوئی سازش پکڑی گئی، کوئی شواہد برآمد ہوئے کہ مقتدرہ کا تختہ پلٹا جائے، اپنے بھائی کیلئے نہتی بہنیں سرگرداں رہیں جو فطری عمل ہے اور کسی بھی طرح ایم پی او کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کو ناکوں چنے چبوانے والے، دنیا بھر میں امن کی پیامبری کا پرچار کرنے والے محافظ اعلیٰ بغض عمرانیہ کی بدولت خود گھر میں خوفزدہ اور خان کی لازوال عوامی محبت و مقبولیت سے ہراساں ہیں۔ انہیں بھی ادراک ہے کہ بیساکھیوں پر قائم سویلین حکومت محض ہرکارے ہیں۔ لہٰذا ملک کے ہر ادارے، شعبے اور ایشو پر ان کا اختیارہے انتظامیہ سے عدلیہ تک مقتدرین کا خصوصاً خان اور پی ٹی آئی کے حوالے سے سکہ چلتا ہے۔
نوبت اب تنگ آمد بجنگ آمد تک یوں پہنچی ہے کہ پی ٹی آئی نے اسلام آباد لانگ مارچ کا 20 لاکھ افراد کیساتھ برپا کرنے کا مصمم اعلان کر دیا ہے۔ دعوئوں اور جوابی دعوئوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن دو ہفتے قبل سے ہی اسلام آباد، کنٹینر آباد بنا ہوا ہے، اسلام آباد سمیت مختلف صوبوں اور شہروں کی پولیس اور رینجرز و دیگر فورسز بڑی تعداد میں پہنچ چکی ہیں۔ بات یہیں تک نہیں کے پی، پنجاب، سندھ و دیگر علاقوں سے پی ٹی آئی کے ہزارہا کارکنوں، عہدیداروں اورسپورٹرز کیساتھ منتخب ارکان کو گرفتار کیا جا رہا ہے، حد یہ ہے کہ سادہ لباس میں آئی ایس آئی کے اہلکاروں کے پختونخواہ کے اراکین اسمبلی اور عہدیداروں کو گرفتار کئے جانے کی خبریں منظر عام پر آئی ہیں، خبر تو سہیل آفریدی کو گرفتار کرنے کی بھی ہے۔ دوسری طرف جنید اکبر، بیرسٹر گوہر، سہیل آفریدی اور دیگر رہنمائوں کے اسلام آباد کو سومناتھ بنانے اور موجودہ نظام کو اُلٹنے کے دعوے بھی حالات کے مزید خراب ہونے کا پیغام دے رہے ہیں۔ مزید برآں جماعت اسلامی کی احجتجاجی مارچ، کسانوں کا خصوصاً مریم نواز کے استعفے کا مطالبہ و احتجاج اور مولانا کے مستقل حافظ کیخلاف بیانات وطن عزیز کی سلامتی کا سبب ہر گز نہیں ہو سکتے ہیں۔ تاہم شہبازشریف کے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سے رابطے اور واپس پاکستان آکر لیوی پر اتفاق کی یقین دہانی کی وجہ سے جماعت اسلامی نے دھرنا موخر کردیا ہے۔
حالات جس نہج پر پہنچ رہے ہیں وہ کسی بھی طرح نہ وطن و عوام کی سلامتی کے حق میں ہو سکتے ہیں، نہ فوج و مقتدرہ کے حق اور نہ ہی عوام کے حقیقی لیڈر خان کے حق میں۔ کنٹینرز، گرفتاریوں، ترشی اور گھمسان کا نتیجہ طاقتوروں کو ظاہری فتح تو دے سکتے ہیں لیکن ملک و عوام کی سلامتی اور بقاء کی ضمانت نہیں ہو سکتے ہیں۔ حضرت علی کا قول ہے ”کفر کا نظام تو چل سکتا ہے، ظلم کا نظام نہیں چل سکتا ہے”۔
٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here