ازدواجی زندگی میں مرد کا کردار!!!

0
12
سید کاظم رضوی
سید کاظم رضوی

محترم قارئین کرام آپ کی خدمت میں سید کاظم رضا نقوی کا سلام پہنچے۔ دیار غیر میں رہنے والے پردیسیوں کے مسائل بھی عجیب و پیچیدہ ہوتے ہیں۔ ان مسائل کو سننے والا، سلجھانے والا یا ان کے بیچ آنے والا شاہد ہی کوئی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں عدالتیں آپسی مسائل حل کرتی ہیں اگر حالات زمانے کی نظر ہو جائیں اور دونوں فریقین ایک دوسرے کو برداشت نہ کر سکیں۔ زیر نظر تحریر ایک حساس خاتون جن کا نام ساجدہ اصغر آرائیں ہے اور وہ کینیڈا میں رہتی ہیں، ازدواجی مسائل کو کس طرح دیکھتی ہیں آپ ملاحظہ فرمائیں اور اس کے بعد مختصر تجزیہ پیشِ خدمت ہے جو آج کا مقالہ ہے۔
ازدواجی زندگی کے ابتدائی ایام میں اکثر مرد یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ اس کی بیوی کو اس کی زندگی کے تجربات کی روشنی میں دنیا کو دیکھنا چاہیے، گویا وہ اس کے کندھے کے پیچھے کھڑی ہو اور ہر معاملے میں اس کی رائے کو فوقیت دے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کی بیوی بھی اللہ کی طرف سے عطا کردہ ایک منفرد فہم و فراست رکھتی ہے، جسے وہ محض دنیاوی معاملات کی تشریح کے لیے نہیں، بلکہ لوگوں کے کردار اور ان کے باطنی محرکات کو بھانپنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جسے بہت سے مرد اپنی خود پسندی یا ناپختگی کی وجہ سے تسلیم کرنے سے گریز کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عورت کا یہ فطری مشاہداتی زاویہ اسے ان تمام دھوکوں سے بچاتا ہے جن کا شکار مرد عموماً ہوتے ہیں۔
عورت جب کسی رشتہ دار، دوست، یا جان پہچان والے کے بارے میں اپنے شوہر کو آگاہ کرتی ہے کہ فلاں شخص تمہارا خیر خواہ نہیں، یا فلاں رشتہ دار تمہارا استحصال کر رہا ہے، تو اس وقت شوہر کو یہ باتیں اشتعال انگیز یا بے جا مداخلت لگتی ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ اس کی بیوی نے ابھی زندگی کے تلخ حقائق نہیں دیکھے، یا وہ غیر ضروری شکوک و شبہات میں مبتلا ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ جب وہی دوست یا رشتہ دار اپنا اصلی چہرہ دکھاتے ہیں، تب شوہر کو احساس ہوتا ہے کہ اس کی بیوی نے جو کہا تھا وہ سراسر سچ تھا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں مرد کو اپنی بیوی کی فطری دانائی پر ناز ہونا چاہیے، نہ کہ اسے اپنی حکمت پر حرف گیری سمجھنا چاہیے۔
اللہ نے بیٹی حوا کو ایک ایسا بیدار حسّی نظام عطا کیا ہے جو اولاد کی بہبود، خاندان کی سلامتی، شوہر کے مال اور اس کی عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے ہر وقت چوکس رہتا ہے۔ جہاں مرد لوگوں کی دوستانہ باتیں، قہقہے، اور ظاہری چمک دمک سے دھوکہ کھا سکتے ہیں، وہاں عورت فوراً بھانپ لیتی ہے کہ کون مکار ہے، کون شوہر کے قریب آ کر اس کی جیب یا اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی سازش کر رہا ہے، اور کون اس کے خاندانی نظام میں خرابی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ یہ اس کی فطرت کا حصہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو پہچان لے، چاہے وہ کتنے ہی قریبی کیوں نہ ہوں۔ چنانچہ جب وہ شوہر کو مشورہ دیتی ہے کہ فلاں ملنسار شخص سے تعلق توڑ لو، کیونکہ بالآخر تمہیں اس سے خسارے کے سوا کچھ نہیں ملے گا، تو یہ اس کی خوشامد یا بے جا مداخلت نہیں، بلکہ اس کی حفاظتی جبلت کا اظہار ہوتی ہے، جو اسے انسانی نفسیات کی گہرائیوں میں جھانکنے کی صلاحیت دیتی ہے۔
یہاں ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ مرد اکثر یہ سمجھ لیتا ہے کہ شادی کا مطلب صرف اتنا ہے کہ وہ ایک عورت کو اپنی زندگی کے وسیع و عریض کمرے میں رہنے کی دعوت دے، جہاں وہ اس کے سامانِ زندگی سے لطف اندوز ہو اور اس کی فراہم کردہ نعمتوں پر شکر گزار رہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب بیوی اس کمرے میں قدم رکھتی ہے، تو وہ اکیلی ایسی ہوتی ہے جو اس کمرے میں موجود کسی بھی بدبودار چیز کے ماخذ کو تلاش کر سکتی ہے، خواہ وہ ماخذ کتنا ہی چھوٹا یا بظاہر غیر اہم کیوں نہ ہو، اور خواہ اس کمرے میں کتنی ہی خوبصورت اور قیمتی اشیاء کیوں نہ بھری ہوں۔ اس کی یہ صلاحیت اسے اس قابل بناتی ہے کہ وہ شوہر کو اس کی زندگی میں موجود نقصان دہ عناصر سے آگاہ کرے، جو شوہر کی نگاہوں سے اوجھل ہوتے ہیں۔
بے شک یہ عظیم نعمت ہے کہ اللہ نے عورت کو یہ خصوصیت عطا کی ہے کہ وہ مرد کی نسبت زیادہ باریک بینی سے لوگوں کے ارادوں کو بھانپ سکتی ہے۔ لیکن افسوس کہ بہت سے مرد اپنی تکبر آمیز سوچ کی وجہ سے اس نعمت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اپنی بیوی کے مشوروں کو اہمیت دیں گے تو یہ ان کی مردانگی یا پختگی پر حرف ہوگا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عقلمند وہی ہے جو اپنی بیوی کی اس فطری بصیرت سے استفادہ کرے اور اسے اپنی زندگی میں ایک مضبوط قلعہ بنائے، نہ کہ اسے اپنی راہ میں رکاوٹ سمجھے۔
آخر میں، ازدواجی زندگی میں باہمی اعتماد اور احترام کی بنیاد پر ہی سکون پایا جا سکتا ہے۔ مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کی ان صلاحیتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھے، اور جب وہ اسے کسی دوست یا رشتہ دار کے بارے میں آگاہ کرے تو اسے فوراً رد کرنے کے بجائے غور سے سنے اور مشورہ لے۔ کیونکہ بیشک عورت کا یہ بیدار حسّی نظام اس کے خاندان، اس کی دولت، اور اس کی عزت کی حفاظت کے لیے اللہ کی طرف سے ایک تحفہ ہے، جسے نظر انداز کرنا بڑی نادانی ہوگی۔ جب مرد اس حقیقت کو سمجھ لے گا تو نہ صرف اس کی شادی زیادہ مضبوط ہوگی، بلکہ وہ زندگی کے بہت سے نقصانات سے بھی محفوظ رہے گا۔
قارئین آپ کا یا میرا ساجدہ اصغر صاحبہ سے جزوی یا کلی اتفاق یا اختلاف رائے رکھنا ان کا حق ہے کیونکہ وہ بیرون ملک جا کر رہ چکی ہیں، ایک سنجیدہ خاتون ہیں اور ادھیڑ عمری گزار چکی ہیں۔ ان کا مشاہدہ و تجربہ جو ان کو حاصل ہوا وہ انہوں نے بیان کر دیا۔ عمر عزیز کا کتنا ہی وقت گزر چکا ہو یا ان کو جو مشکلات دیکھنی پڑیں، اس سب کا احساس اس خوبصورت تحریر میں موجود ہے۔ مرد اگر بیوی کے جذبات کو سمجھے اور اس کو دوست جانے تو مسائل کا حل گھر میں موجود ہے، وگرنہ دنیا تو بس تماشہ ہی دیکھتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here