اتنے ہوئے ذلیل کہ جوتوں میں آ گئے !!!

0
7

ہماری امریکی زندگی کے پیر و مرشد، مولانا محمد یوسف اصلاحی مرحوم اکثر فرمایا کرتے تھے کہ فرخ، بین المذاہب مباحث کے مختلف پروگراموں میں انتہائی محتاط رہنا بے حد ضروری ہے کیونکہ ہمارے کئی رہنما وحدتِ انسانیت کے حصول کے لیے صرف توحید پر زور دیتے ہوئے اکثر نبوت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ مولانا محترم فرمایا کرتے تھے کہ الہامی کتاب یعنی قرآنِ مجید کے ساتھ ساتھ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا اور ان کی غیر مشروط اطاعت انسان کی ہدایت اور فلاح و کامیابی کے لیے لازم ہے۔ الہامی نظریہ اور باکردار شخصیت کے امتزاج سے ہی ایسی قیادت انسانیت کو میسر آتی ہے جس کی اطاعت کرکے قومیں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کرتی ہیں۔
مجھے مولانا محترم کی یہ بات آج دنیا کی واحد سپر پاور کے عظیم رہنما کے ترکی سے فرار کی تفصیلات جان کر یاد آگئی۔ راحت اندوری نے بالکل صحیح کہا تھا کہ!
کیا دن دکھا رہی ہے سیاست کی دھوپ چھاؤں
جو کل سپوت تھے وہ کپوتوں میں آ گئے
تھے اس قدر عظیم کہ پیروں میں تاج تھے
اتنے ہوئے ذلیل کہ جوتوں میں آ گئے
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے عروج و زوال پر تو مؤرخ بہت کچھ لکھے گا لیکن گزشتہ چالیس برس میں جو مشاہدہ ہم نے کیا ہے، وہ بھی آج کے نوجوان کی آنکھیں کھولنے اور سیکھنے کے لیے بہت اہم ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جب ہم 1986ء میں شکاگو پہنچے تھے تو صدر ریگن کے آٹھ سالہ دور کا نصف حصہ گزر چکا تھا۔ عراق ایران کی جنگ میں ایران کانٹرا جیسے اقدامات سے مغرب کی منافقت تو صاف نظر آتی تھی لیکن پھر بھی امریکی قیادت نے کسی حد تک اپنے غیر جانبداری کے لبادے کو بہتر انداز سے اوڑھا ہوا تھا۔ صیہونیت سے اتنا فاصلہ رکھا جاتا تھا کہ فلسطین کے مظلومین بھی اپنے جائز حقوق کے لیے امریکہ کی جانب ہی دیکھتے تھے۔
پھر رفتہ رفتہ امریکی قیادت نے مزید پستیوں کا رخ کیا۔ عراق پر مسلط کی جانیوالی دونوں جنگیں، جھوٹی سازشوں کا پلندہ تھیں۔ افغان مجاہدین کی دہشت گردوں میں تبدیلی اور بن لادن کا سی آئی اے کی ملازمت سے شہادت تک کا سفر، مغرب کی ساکھ کو مسلسل مجروح کرتا چلا گیا۔ اسی اخلاقی تنزلی کی عکاسی قرآنی فرمان میں ملتی ہے کہ!
ترجمہ: پھر ہم نے اسے لوٹا کر نیچوں سے سب سے نیچا کر دیا۔سورہ التین آیت 5
مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر کا انقرہ سے ایک کیٹرنگ ٹرک میں چھپ کر فرار ہونا، سپر پاور کی پستیوں کو روزِ روشن کی طرح اجاگر کرتا ہے۔ اس انتہا تک اپنی جان کا خوف کہ ایک جھوٹی اسرائیلی اطلاع پر اس قدر مغلوب ہو کر میدان سے فرار ہو جانا یقیناً بزدل ترین قیادت کی کمزوری ثابت کرتا ہے۔ اخلاقی پستی کی انتہا تو یہ ہے کہ اپنے قریبی ساتھیوں اور میڈیا ٹیم کو اسی طیارے میں چھوڑ جانا جسے دشمن کے راکٹ سے خطرہ ہے، بے وفائی اور خود غرضی کی ایسی روشن گواہی ہے جسے کسی دلیل و برہان کی حاجت نہیں۔ سونے پہ سہاگا یہ کہ خطرے میں گھرے ہوئے اپنے ساتھیوں کو انجان رکھا اور کچھ بتایا بھی نہیں، حالانکہ اصولاً تو ان کے متبادل سفر کا بندوبست بھی ضرور ہونا چاہیے تھا۔ ارتضیٰ نشاط کے مطابق، نام نہاد سپر پاور کو تو اب اس شعر پر عمل کرنا چاہیے کہ
کرسی ہے تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے
کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے
اس شرمناک صورتحال میں، ویسے تو نادم ندیم نے بھی بالکل صحیح کہا ہے کہ
ان سے امید نہ رکھ ہیں یہ سیاست والے
یہ کسی سے بھی محبت نہیں کرنے والے
گزشتہ چالیس سالوں میں سپر پاور کے اخلاقی زوال کا مشاہدہ کرتے ہوئے، یہاں کی سیاسی قیادت سے ہمیں زیادہ اچھی امیدیں تو کبھی بھی نہیں رہیں لیکن ٹرمپ جیسے عمومی سیاست سے باہر صدر کو ہم کچھ بہتر سمجھ رہے تھے۔ تاہم انقرہ سے اس طرح فرار ہونے کے واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ ان صاحب بہادر کی حالت انتہائی غیر شائستہ اور مایوس کن ہے۔ پوری دنیا میں طاقتور ترین سمجھے جانے والا شخص جب اس قدر پستی میں گرے گا تو اس کی حرکتوں پر ایسی ہی سخت تنقید صادق آئے گی۔
ویسے ہم جیسے پاکستانی نژاد جماعتیے لوگ تو ہمہ یاراں دوزخ ہمہ یاراں بہشت کے فلسفے کے قائل ہوتے ہیں۔ اپنے کسی بھی ساتھی کو اس طرح چھوڑ دینا، جیسے صدر ٹرمپ نے اپنے لوگوں کو خطرے میں چھوڑا، بھلا ہمیں کہاں گوارا ہونا تھا۔ شکیل بدایونی نے اس خوبصورت شعر کے ذریعے ہمارے فلسفے کو بیان کیا ہے کہ
کانٹوں سے گزر جاتا ہوں دامن کو بچا کر
پھولوں کی سیاست سے میں بیگانہ نہیں ہوں

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here