دہلی کی جواہر لال یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں دس اگست کو عمر خالد کی کتاب ” فریکچرڈ کمیونیٹیز ” کی رونمائی ہونے والی تھی۔ اُن کی مذکورہ کتاب اُن کے پی ایچ ڈی کی تھیسس بھی تھی جسے اُنہوں نے کامیابی کے ساتھ مکمل کیا تھا ۔ عمر خالد مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایکٹوسٹ بھی ہیں جس کی وجہ کر وہ بھارت کے جیل میں گذشتہ چھ سال سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ اُن پر دہلی میں ہونے والے فساد میں مسلمانوں کو برانگیختہ کرنے کا الزام تھا اور جس کی وجہ کر اُنہیں بھارت کا غدار قرار دے کر بغیر کسی ٹرائل کے جیل میں بند کردیا گیا تھا۔ اُن کی کتاب کی رونمائی کا اہتمام جے این یو اسٹوڈنٹس یونین نے کیا تھااور اُنہیں اِس مقصد کیلئے ایک دِن کی عارضی ضمانت بھی ملی تھی۔ لیکن بمشکل ایک دِن قبل یونیورسٹی کے حکام نے ایکس پر ایک نوٹس پوسٹ کیا جس میں تقریب کی آڈیٹوریم میں اجازت کے منسوخ کرنے کی اطلاع دی گئی تھی۔ اِس نوٹس میں وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ساتھ وزیر خارجہ جے شنکر اور درجنوں بھارتی وزرا کے نام درج تھے۔منسوخی کی وجہ تقریب کے بارے میں مکمل اطلاعات فراہم نہ کرنا تھیں۔ تاہم یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹس یونین نے یہ فیصلہ کیا کہ تقریب رونمائی حسب معمول یونیورسٹی کے پچھواڑے میں منعقد ہوگی۔ یونیورسٹی میں نریندر مودی کی اسٹوڈنٹس ونگ آر ایس ایس نے جشن منایا اور دعوی کیا کہ تقریب کی منسوخی میں اُس کا ٹھوس کردار کارفرما تھا۔جے این یو میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر اویناش کمار نے احتجاج کرتے ہوے کہا کہ یونیورسٹی کے حکام کا آڈیٹوریم میں تقریب کے منسوخی کی وجہ جھوٹ پر مبنی ہے۔ اسکول آف سائنس کے ڈین کو یہ بات واضح کردی گئی تھی کہ تقریب میں عمر خالد کی کتاب ” فریکچرڈ کمیونیٹیز” پر باتیں کی جائیں گی۔ یونیورسٹی کے حکام کو صاف و شفاف طور پر منسوخی کی وجہ بتانی چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ عمر خالد کی کتاب بھارت کے ایک مشہور پبلشرجُگر ناٹ نے شائع کیا ہے، اور اُنہیں اِس کتاب پر یونیورسٹی نے پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا ہے۔
”فریکچرڈ کمیونیٹیز” عمر خالد کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری کا موضوع تھا جسے اُنہوں نے بھارت کے جھارکنڈ کے آبائی لوگوں پر تحریر کیا تھا اور بعد ازاں 2018 ء میں اُسے یونیورسٹی کے ہسٹریکل اسٹڈیز کے ڈیپارٹمنٹ میں جمع کرایا ۔ اُنہیں اُسی سال ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی گئی تھی۔ بھارت کے مشہور مورخ راما چندرا گوہا جنہوں نے مذکورہ کتاب کے پیش لفظ کو رقم کیا ہے ، اُنہوں نے فریکچرڈ کمیونیٹیز کو تاریخ کے موضوع پر اِس دور کی بہترین کتاب قرار دیا ہے۔
عمر خالد کی والدہ صبیحہ خانم سب سے پہلی خاتون تھیں جنہوں نے اِس کتاب کے بارے میں بھارت کے مشہور اخبار ” انڈین ایکسپریس ” میں اپنے خیال کا اظہار کیا۔ اُنہوں نے تحریر کیا اُس منظر کو جب وہ اپنے شوہر کے ساتھ کتاب کے پارسل کو کھولا تھا، اور وہ اُسے چند لمحہ تک دیکھتی ہی رہیں تھیں۔ یہ ایک یادگار لمحہ ہوتا اگرچہ اُن کا بیٹا ایک کتاب کی کاپی پر خود دستخط کرکے اُنہیں دیا ہوتا۔ عمر خالد نے اِس کتاب کو کسی لائبریری کے پُر سکون ماحول میں نہیں لکھا ہے۔ اُس کے ارد گرد جیل ، عدالت کی سماعت اُس کی جان کا خطرہ ، میڈیا کا متعصبانہ ماحول سایہ بن کر پیچھا کررہا تھا۔اُنہوں نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک بات ہے کہ عمر خالد خود کسی کتاب کی دکان تک نہ جاسکا اور وہاں اپنی کتاب کو نہ دیکھ سکا۔اُنہوں نے کہا کہ انتظار کا لمحہ خود ایک سزا کی مترادف ہے، چاہے عدالت کا جو بھی فیصلہ نہ آئے۔
عمر خالد جن کی پیدائش دہلی کی ہے ، شہرت کی بلندی پر اُس وقت پہنچے جب اُن کی گرفتاری بغاوت کے الزام میں 2016 ء میں عمل میں آئی تھی۔ بھارت میں انسانی حقوق کی جو بھی تحریک ہو اُس میں وہ ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں، حتی کہ جب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کا دورہ کرنے گئے تھے تو عمر خالد کو امن عامہ کے تحفظ کیلئے حراست میں لے لیا گیا تھا۔















