عمران کو نجی ہسپتال منتقل کرنیکے عدالتی حکم پرسپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر

0
9

اسلام آباد (پاکستان نیوز)حکومت پاکستان نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواست دائر کی ہے جس میں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو اسلام آباد کے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اعلیٰ عدالت نے پی ٹی آئی اور عمران خان کے اہل خانہ کی جانب سے بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن اور نظر سے متعلق صحت کی تشویشناک صورتحال کے پیش نظر دائر کردہ درخواست کو منظور کرتے ہوئے ان کا نجی ہسپتال میں طبی معائنہ کرنے اور خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق حکومت نے عدالتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ جب تک کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہو کہ سرکاری ہسپتالوں میں درکار علاج کی سہولیات موجود نہیں ہیں، تب تک کسی قیدی کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کا اقدام قانون کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کا طبی معائنہ نجی ہسپتال کی بجائے کسی بھی اعلیٰ سرکاری ہسپتال میں کروایا جانا چاہیے۔ دوسری جانب تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم کے وکلا نے اس حکومتی اقدام کو عمران خان کی صحت اور زندگی سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ عمران خان 2023 سے قید ہیں اور ان کے وکلا اور اہل خانہ ایک عرصے سے ان کے نجی معالج سے طبی معائنے اور علاج کی اجازت مانگ رہے تھے۔ سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 9 یعنی زندگی کے بنیادی حق کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ حکم دیا تھا۔ حکومت کی اس قانونی چارہ جوئی سے نہ صرف ان کے حامیوں اور خاندان کی امیدوں پر خدشات کے بادل منڈلانے لگے ہیں بلکہ اس اقدام سے ملک میں سیاسی کشیدگی اور عوامی بے چینی مزید بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here