جشن آزادی کی تقاریب!!!

0
7
رعنا کوثر
رعنا کوثر

جشن آزادی
کی تقاریب!!!

14اگست گزرے ابھی چند دن ہوئے ہیں۔ نیویارک میں جشن چودہ اگست کا میلہ بروکلین یا کونے آئی لینڈ میں منعقد ہوتا ہے۔ ہیوسٹن میں ایک میلے میں گانے بجانے ہو رہے ہوتے ہیں، جب کہ اب تو اکثر مقامات پر لوگ گھروں میں بھی آزادی کی تقریب کا اہتمام کر لیتے ہیں، کیک بناتے ہیں، دوستوں کو مدعو کر کے ہرے کپڑے پہنتے ہیں۔ چودہ اگست کے موقع پر لوگوں میں کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے اور وہ ہر چھوٹے بچے بھی، جو کبھی پاکستان نہیں گئے، ہرا جھنڈا لہرا رہے ہوتے ہیں۔ ان کو بھی علم ہوتا ہے کہ ان کے والدین کا ملک پاکستان ہے اور وہ اس دن آزاد ہوا تھا۔
یہ لوگ اپنے ملک سے دور رہ کر بھی اپنے وطن کی یاد میں اور آزادی کے جشن میں پیش پیش رہتے ہیں اور اس قدر جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ بچوں کو بھی پاکستان کا نام سنتے ہی دل دل پاکستان کا نغمہ یاد آنے لگتا ہے اور چودہ اگست آتے ہی ان کی زبان پر آ جاتا ہے۔ تاہم اس دلی وابستگی کے ساتھ ساتھ ایک لمحہ فکر بھی سامنے آتا ہے۔
اب چودہ اگست کے آنے سے پہلے ہی ہم اکثر لوگوں کے ایسے پیغامات دیکھتے ہیں جن میں پوچھا جاتا ہے کہ کیا واقعی ہمارا ملک آزاد ہوا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ ہم انگریزوں سے تو آزاد ہو گئے، مگر کیا ہم ذہنی طور پر آزاد ہیں، کیا ہمیں بولنے کی آزادی میسر ہے اور کیا ہم اپنے وطن میں ظلم نہیں سہہ رہے ہیں۔ سوال اٹھائے جاتے ہیں کہ کیا وہاں نوجوان مطمئن ہیں اور کیا ان کو روزگار مل رہا ہے، نیز کیا عورتوں کی عزت اور ناموس محفوظ ہے۔
واقعی اس وقت پاکستان انتہائی نازک صورت حال سے گزر رہا ہے اور ہم ایک عجیب بحران کا شکار ہیں۔ پورے ملک میں اسلامی طرز زندگی کا اثر ہے اور ہر طرف مسلمان ہی نظر آتے ہیں، مگر پھر بھی لوگ ایک دوسرے سے خوف زدہ رہتے ہیں اور ایک دوسرے کو تکالیف پہنچاتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر اس پہلو پر غور کیا جائے کہ اگر ہم بھارت میں ہوتے اور آزادی حاصل نہ کرتے، تو آج ہمیں بھی یہی کہا جاتا کہ آپ کا ملک ہندوستان نہیں ہے اور آپ یہاں سے نکل جائیں۔ تب ہم کہاں جاتے؟ آج ہم لوگوں کو پناہ دے رہے ہیں، ورنہ خدانخواستہ ہم خود کہیں پناہ گزین بن کر بیٹھے ہوتے۔ بھارت اپنے ہاں مقیم مسلمانوں کو اس لیے کچھ رعایت دیتا ہے کیونکہ وہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور اس کے ساتھ موجود مسلم ممالک سے خوف زدہ رہتا ہے۔
پاکستان کے قیام کے بے شمار فوائد ہیں۔ اگر آج پاکستانی مسلمان بھارت میں ہوتے تو شاید بہت سے بچے نماز پڑھنا بھی نہ جانتے، دوسرے مذاہب میں شادیاں کر رہے ہوتے اور نہ جانے کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔ ہم اس بات پر مسرور ہیں کہ ہمارے پاس ایک آزاد ملک موجود ہے، مگر یہ حقائق اس وقت زیادہ بہتر طور پر سمجھ میں آتے ہیں جب ہم اپنے ملک سے دور ہوتے ہیں۔ کسی دوسرے ملک میں رہ کر اپنے وطن کے مفادات زیادہ واضح انداز میں سمجھ آتے ہیں، لیکن اپنے ملک میں رہنے والے لوگ آپس میں اتحاد قائم نہیں کر پاتے کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ اپنے وطن سے دور جا کر ہم سب کو اپنی بقا کے لیے کتنی جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔
اسی لیے چودہ اگست کے موقع پر جہاں خوشی ہوتی ہے اور جشن منایا جاتا ہے، وہیں اپنے ملکی حالات دیکھ کر دل رنجیدہ بھی ہوتا ہے۔ بارگاہ الٰہی میں دعا ہے کہ وہ ہمارے ملک پاکستان کی باگ ڈور اچھے اور مخلص لوگوں کے ہاتھوں میں تھما دے تاکہ ہر شخص کامل مسرت اور محبت کے ساتھ کہہ سکے، اے وطن تجھے آزادی مبارک۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here