محترم قارئین کرام، آپ کی خدمت میں سید کاظم رضا نقوی کا سلام پہنچے۔ آج آپ کی خدمت میں ایک ایسا مسئلہ پیش کر رہا ہوں جس سے اکثر واقف کار پریشان ہیں! اب سے پچیس برس قبل انسان کثیر الزوجی کر لیتا تھا اور نہ آسمان ٹوٹتا تھا نہ زمین پھٹتی تھی، لیکن آج کل کے دنیاوی قانون اور رسم و رواج ایسے بدلے ہیں کہ زمانے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ اب دو شادیاں رچانے والا اگر بادشاہوں اور امراء کے خاندانوں سے تعلق نہیں رکھتا تو دنیا، عورت اور اولاد اس کا سب سے بڑا امتحان لیتے ہیں۔ کسی وقت میں کہا جاتا تھا کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس ادھوری کہاوت کو کاظم رضا یہ کہہ کر مکمل کر رہا ہے کہ شاید دنیا کے ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہو، لیکن دنیا کے ہر برباد اور ناکام شخص کے پیچھے لازمی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے! ہنس لیجیے، زیادہ سنجیدہ نہ ہوں اور کبھی مسکرا بھی لیا کریں۔
آج کی کہانی حوا کی ایک بیٹی کی آپ بیتی ہے جو مشورہ چاہتی ہے۔ اس کو آپ بھی مشورہ دیں اور مجھے ای میل کے ذریعے ارسال کریں۔ مجھے جو مشورہ دینا تھا وہ میں دے چکا ہوں، اب آپ ان کی صورتحال اور آپ بیتی پڑھیں۔ کسی کی زندگی سے اس آپ بیتی کی مماثلت محض اتفاق ہو سکتی ہے اور میں اس سے بری الذمہ ہوں۔ اکثر نام بھی فرضی استعمال کرتا ہوں تاکہ مصیبت زدہ کا پردہ قائم رہ سکے۔
متاثرہ خاتون بیان کرتی ہیں کہ ان کے شوہر نے ان سے شادی کرنے سے پہلے ایک انتہائی امیر، مطلقہ اور ایک بچے کی ماں سے خفیہ شادی کر رکھی تھی۔ وہ خاتون وسیع جائیداد کی مالک ہے، عمر چالیس سال سے زائد ہے اور شوہر سے سات اٹھ سال بڑی ہے۔ وہ ان کے شوہر پر پیسہ خرچ کرتی ہے اور کاروبار کے لیے بھی لاکھوں روپے دئیے ہیں۔ شادی کے تین ماہ بعد خاتون کو ان تمام باتوں کا علم ہوا، جب شوہر نے رات کو گھر پر سونا چھوڑ دیا۔ بحث ہونے پر اس دوسری عورت کے بارے میں پتہ چلا۔ شوہر کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اس سے شادی نہیں کی بلکہ صرف اس کے پیسے دینے ہیں جس کی وجہ سے وہ بلیک میل کرتی ہے۔ جبکہ اس عورت نے ایک بار فون کر کے سخت برا بھلا کہا اور دعویٰ کیا کہ یہ اس کا شوہر ہے اور خاتون اس کے ساتھ گھومتی ہے۔ وہ انہیں اپنے شوہر کی محبوبہ سمجھتی ہے کیونکہ اس نے ان کے فون میں اسلام آباد کی سیر و تفریح کے دوران بنائی گئی ویڈیوز دیکھ لی تھیں۔
اس کے بعد سے وہ عورت شوہر پر بہت سختی کرتی ہے۔ اب شوہر گھر بھی نہیں سوتے اور نہ ہی خاتون کو باہر کہیں لے کر جاتے ہیں، یہاں تک کہ انہیں اپنی والدہ کے گھر جانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ شوہر کا رویہ یہ ہے کہ وہ انہیں صرف اسی صورت میں رکھنا چاہتے ہیں اگر وہ گھر پر سونے یا باہر لے جانے کی ضد نہ کریں۔ وہ اس عورت کی وجہ سے ایک قیدی کی مانند بن چکے ہیں، دن کے وقت تھوڑی دیر کے لیے گھر آتے ہیں اور گھر کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ شادی کو چھ ماہ ہو چکے ہیں اور خاتون چار ماہ کی حاملہ بھی ہیں، جبکہ معالج کے پاس بھی سسر لے کر جاتے ہیں۔ سسرال والے ان کے ساتھ بہت اچھے ہیں اور اپنے بیٹے کو گھر پر رہنے اور بیوی پر توجہ دینے کی تلقین کرتے ہیں، لیکن انہیں اپنے بیٹے کی خفیہ شادی کا علم نہیں ہے۔
آج کل خاتون اپنی والدہ کے گھر مقیم ہیں، جہاں شوہر کا رویہ کبھی ٹھیک ہوتا ہے اور کبھی نہیں۔ ان کے والد وفات پا چکے ہیں، جبکہ بھائی اور والدہ کی جانب سے کسی قسم کی معاونت میسر نہیں ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر بستی رہیں گی تبھی میکے والے خوش دلی سے ملیں گے، کیونکہ طلاق کی صورت میں انہیں سہارا دینے والا کوئی نہیں ہو گا۔ وہ اس حالت میں صرف چھپ چھپ کر روتی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود وہ شوہر سے پانچ برس چھوٹی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ شوہر انہیں پسند کرتے ہیں، لیکن دوسری عورت انتہائی بااثر اور طاقتور ہے۔ ایک دن شوہر نے انہیں بتایا کہ اس عورت کے بھائیوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کی بہن کو کوئی دکھ پہنچا تو وہ انہیں گولی مار دیں گے۔ والد کے نہ ہونے اور کمزور طبیعت کی وجہ سے خاتون جھگڑا کرنے سے قاصر ہیں اور اندر ہی اندر گھل رہی ہیں، جبکہ آنے والے بچے کے مستقبل کے حوالے سے بھی شدید فکر مند ہیں۔
قارئین کرام، ایک بات کا اظہار ضروری ہے کہ آج کل برصغیر میں مرد شادیاں نہیں کر رہے اور غیر محسوس انداز میں شادیوں کا تناسب کم ہو رہا ہے۔ وجوہات کی گہرائی میں جائے بغیر یہ عرض ہے کہ مرد اور عورت جوانی کو بغیر کسی ذمہ داری کے گزار سکتے ہیں، مگر مرد سے زیادہ شادی عورت کی ضرورت ہے۔ بہت سی وجوہات کی بناء پر سمجھدار خواتین سے دست بستہ درخواست ہے کہ ان اسباب کا تدارک کریں تاکہ مرد دوبارہ شادی پر آمادہ ہو سکیں۔ اس بات کا غلط مطلب نہ نکالا جائے۔ میری دعا ہے کہ ہر شادی شدہ جوڑا خوش رہے، ساتھ رہے اور اپنے بچوں کی خوشیاں دیکھے، نیز مرد و زن ایک دوسرے سے مخلص رہیں۔ آمین۔














