فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ
محترم قارئین! اللہ تعالیٰ کے نیک بندے ہی قربت کا خاص درجہ حاصل کرتے ہیں۔ اور یہی ولایت کا اعلیٰ مقام اور درجہ ہے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰة کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ حقوق العباد یعنی والدین کے حقوق، زوجین کے حقوق، ہمسائیوں کے حقوق اور زبردست لوگوں کے حقوق وغیرہ کا یہ لوگ پورا پورا خیال رکھتے ہیں۔ بلکہ نماز کے آداب کا بھی پورا پورا حق ادا کرتے ہیں۔ جبکہ عام لوگ ان چیزوں خاطر میں ہی نہیں رکھتے۔ بس نماز پڑھ لی بڑی بات ہے اسی طرح پر جمے رہتے ہیں۔ نماز کے آداب تو بہت زیادہ ہیں۔ یہاں چند کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ نماز کیلئے طہارت اور پاکی کا پورا خیال رکھنا چاہئے۔ وضو کریں تو مسواک کا اہتمام بھی نبی پاکۖ واصحابہ وسَلَّم کی بہت پیاری سنت مبارکہ ہے جس کے بارے میں جان کائناتۖ نے فرما رکھا ہے۔ کہ اگر میں اسے اپنی امت پر شاق نہ سمجھتا تو تمام نمازوں کے مسواک کا فرض قرار دے دیتا۔ مزید فرمایا کہ قیامت میں میری امت کی علامت یہ ہوگی کہ ان کی پیشانی اور اعضاء وضو نور سے چمک رہے ہوں گے پس جو جو شخص اپنے اپنے نور کو بڑھانا چاہے تو وہ بڑھائے۔
صاف ستھرے، سنجیدہ، مہذب اور سلیقے کے کپڑے پہن کر نماز ادا کرنی چاہئے قرآن مجید میں ہے: ترجمہ: اے آدم کی اولاد! ہر نماز کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ ہو کر جایا کرو۔ وقت کی پابندی سے نماز ادا کرنی چاہئے۔ کیونکہ فرمان خدا ہے: ترجمہ: مئومنوں پر وقت کی پابندی سے نماز فرض کی گئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریمۖ سے ایک بار پوچھا۔ یارسول اللہ! اللہ کے نزدیک کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے تو آپۖ نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا اور آپ ۖ نے یہ بھی فرمایا: اللہ نے اہل اسلام پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جس شخص نے نمازوں کو ان کے مقررہ وقت پر اچھی طرح وضو کرکے خشوع وخضوع سے ادا کیا تو اللہ پر اس کا یہ حق ہے کہ وہ اس کو بخش دے اور جس نے ان نمازوں کو کوتاہی سے گزار دیا تو اللہ پر اس کی مغفرت ونجات کی کوئی ذمہ داری نہیں، چاہے تو عذاب دے چاہے تو بخش دے۔ نماز ہمیشہ جماعت سے ادا کرنی چاہئے۔ اگر کبھی جماعت نہ ملے تو تب بھی فرض نماز مسجد میں ہی ادا کرنی چاہئے۔ البتہ سنتیں گھر پڑھنا بھی سنت ہے اور اچھا ہے مسجد میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔ نبی پاکۖ کا فرمان ہے: جو شخص چالیس دن تکبیر اولیٰ کے ساتھ نماز با جماعت پڑھے وہ دوزخ اور نفاق دونوں سے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ اور نبی کریمۖ نے یہ بھی فرمایا: اگر لوگوں کو نماز باجماعت کا اجروثواب معلوم ہو جائے تو وہ ہزار مجبوریوں کے باوجود بھی جماعت کے لئے دوڑ دوڑ کر آئیں۔ جماعت کی پہلی صف ایسے ہے جیسے فرشتوں کی صف تنہا یعنی اکیلے نماز پڑھنے سے دو آدمیوں کی جماعت بہتر ہے۔ پھر جتنے آدمی زیادہ ہو اتنی ہی یہ جماعت اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہوتی ہے۔
نماز سکون کے ساتھ پڑھنی چاہئے اور رکوع وسجود اطمینان کے ساتھ ادا کرنے چاہیئں۔ رکوع سے اٹھنے کے بعد اطمینان کے ساتھ سیدھے کھڑا ہونا چاہئے۔ پھر سجدہ میں جانا چاہئے۔ اسی طرح دونوں سجدوں کے درمیان بھی مناسب وقفہ کرنا چاہئیخ۔ جبکہ اکثر لوگ رکوع وسجود بہت تیزی سے ادا کرتے ہیں۔ ذرہ بھر توجہ نہیں کرتے ایسے نماز پڑھتے ہیں کہ جیسے تیز پڑھنے کی شرط لگا رکھی ہو۔ العبادباللہ نبی کریمۖ کا ارشاد گرامی قدر ہے کہ جو شخص نماز کو اچھی طرح ادا کرتا ہے نماز اس کو دعائیں دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی طرح تیری بھی حفاظت کرے جس طرح تو نے میری حفاظت کی ہے۔ اور نبی کریمۖ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ بدترین چوری نماز کی چوری ہے۔ لوگوں نے پوچھا یارسول اللہ! نماز کوئی کیسے چرا سکتا ہے؟ فرمایا: رکوع اور سجدے ادھورے ادھورے کرکے اذان کی آواز سنتے ہی نماز کی تیاری شروع کر دینی چاہئے۔ اور وضو کرکے پہلے ہی مسجد میں پہنچ جانا چاہئے۔ اور خاموشی کے ساتھ صف میں بیٹھ کر جماعت کا انتظار کرنا چاہئے۔ کیونکہ اذان سننے کے بعد سستی اور تاخیر کرنا اور تھکے ہوئے قدموں کے ساتھ نماز کے لئے جانا منافقوں کی علامت ہے۔ اذان بھی ذوق و شوق سے پڑھنی چاہئے اور غور سے سننی چاہئے۔ نبی پاکۖ سے ایک شخص نے پوچھا یارسول اللہ! مجھے کوئی ایسا کام بتا دیجئے جو مجھے جنت میں لے جائے۔ آپ سرکار ۖ نے فرمایا: نماز کیلئے اذان دیا کرو۔ آپۖ نے یہ بھی فرمایا: مئوذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے اور جو اس کی اذان سنتا ہے وہ قیامت کے دن مئوذن کے حق میں گواہی دے گا جو شخص جنگل میں اپنی بکریاں چراتا ہے اور اذان کا وقت آنے پر اونچی آواز سے اذان کہے تو جہاں تک اس کی آواز جائے گی قیامت کے دن وہ ساری چیزیں اس کے حق میں گواہی دیں گے۔ بہرحال دین کا ہر کام خوشی خوشی اور سعادت وعبادت سمجھ کر کیا جائے۔ نفع ہی نفع ہے باقی حقوق العباد کی پابندی بھی ساتھ ساتھ مکمل طور پر رکھی جائے تاکہ ایک اچھے معاشرے کی تشکیل ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقائق کو سمجھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے(آمین)۔
٭٭٭٭٭












