بعض کتابیں محض کتابیں نہیں ہوتیں وہ اپنے مصنف کے دل کی آواز روح کی کیفیت اور زندگی بھر کے تجربات کا ایسا نچوڑ ہوتی ہیں جو قاری کے ہاتھ میں پہنچ کر ایک معنوی تحفے کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ ”داستان عبد” بھی میرے نزدیک ایسی ہی ایک کتاب ہے ایک ایسی کتاب جس میں حمد باری تعالیٰ نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم قوالیاں قطعات اور نظمیں سب ایک ہی مرکزی کیفیت کے گرد گردش کرتے دکھائی دیتے ہیں اللہ کی محبت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق اور اپنے رب کی بندگی کا احساس ڈاکٹر عبدالرحمن عبد سے میری طویل رفاقت اور ان کے ادبی و فکری سفر سے واقفیت کی بنا پر میں یہ بات پورے اطمینان سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی شخصیت محض ایک شاعر یا صاحب علم ادیب کی شخصیت نہیں۔ وہ اپنی ذات میں ایک ایسے انسان ہیں جنہوں نے اللہ کی اس زمین پر اللہ کے بندوں کی فلاح و بہبود کو اپنی زندگی کا ایک اہم مقصد بنایا۔ ایک طویل عرصے تک شعب? طب سے وابستہ رہ کر انہوں نے جسمانی صحت کی مسیحائی کی مگر ان کی شخصیت کا دائرہ صرف طب تک محدود نہیں رہا۔ انسانی ذہن روح تہذیب علم ادب اور فکر بھی ان کی دلچسپیوں اور خدمات کا حصہ رہے ہیں ڈاکٹر عبد کی شخصیت علم و ادب تہذیب شائستگی اور فکری بالیدگی کا حسین امتزاج ہے۔ ان کی شاعری میں فکری گہرائی بھی ہے اور زبان و بیان کا نکھار بھی۔ ان کے ہاں کلاسیکی شعری روایت سے مضبوط رشتہ موجود ہے مگر وہ روایت کے قیدی نہیں۔ وہ روایت کو اپنے عہد کے شعور کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں روحانیت کلاسیکی اقدار اور جدید فکر ایک دوسرے سے ہم آہنگ نظر آتے ہیں وہ اقبال اور رومی سے متاثر ہیں حمد و نعت سے ان کی خصوصی رغبت ہے تاہم غزل اور نظم کے میدان میں بھی انہوں نے اپنے تخلیقی جوہر کا اظہار کیا ہے۔ ان کے اشعار فصاحت و بلاغت تہذیبی وقار اور جذبے کی صداقت سے عبارت ہیں۔ ان کی غزلوں اور نظموں میں موضوعات کی وسعت احساسات کی شدت اور الفاظ کی ندرت نمایاں ہے۔ ان کا اسلوب نرم متوازن اور پْراثر ہے۔ انسان دوستی روحانیت تہذیب محبت زندگی کے گہرے مشاہدات سیاست اور ظرافت یہ سب ان کے شعری مزاج کے مختلف پہلو ہیں ڈاکٹر عبد نے اب تک متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں شکوہ جواب شکوہ عرفان عبد صنم کدہ ہے جہاں شعلہ محبت رموز بشر سرِ شاخ خیال اور اپنا نسخہ شامل ہیں۔ ان کی مزید کتب مقصودِ کل اور نسخہ ظرافت اور عمرانیات زیر طبع ہیں۔ یہ تصانیف اس بات کا ثبوت ہیں کہ ڈاکٹر عبد کے لیے ادب محض مشغلہ نہیں بلکہ ایک مسلسل فکری اور روحانی سفر ہے ان کی ادبی خدمات کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے صرف لکھا ہی نہیں بلکہ ادب کے اجتماعی فروغ کے لیے بھی اپنی توانائیاں صرف کی ہیں۔ اردو کانفرنس ہو یا مشاعرہ قوالی نائٹ ہو یا حلقہ ارباب ذوق پسکاٹوے نیو جرسی کی سرگرمیاں وہ ہمیشہ پیش پیش نظر آتے ہیں۔ نیویارک اردو انجمن ہو یا علامہ اقبال گلوبل فورم تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ان کی ادبی وابستگی اور خدمات اردو زبان و ادب سے ان کی گہری محبت کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے اپنی علمی بصیرت فکری توانائی اور تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے نہ صرف خود لکھا بلکہ دوسروں کے لیے بھی ادبی فضا کو سازگار بنانے میں اپنا کردار ادا کیا زیر نظر کتاب داستانِ عبد ان کا دوسرا حمد و نعت کامجموعہ ہے۔ اس کتاب کی سب سے اہم خصوصیت میرے نزدیک یہ ہے کہ اس میں شاعر نے اپنے باطن کی ان کیفیات کو شعری پیکر عطا کیا ہے جو محض مطالعے یا فنی مشق کا نتیجہ نہیں بلکہ قلبی واردات اور وجدانی کیفیت کا اظہار ہیں۔ ڈاکٹر عبد مجھ سے اس کتاب کے حوالے سے متعدد بار گفتگو کرتے رہے ہیں اس لیے میں جانتا ہوں کہ حمد اور نعت کے موضوعات ان کے لیے محض شعری موضوعات نہیں بلکہ ان کے ایمان عقیدت اور محبت کے ترجمان ہیں اللہ کی وحدانیت کا اقرار اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ان کے شعری مزاج کے بنیادی عناصر ہیں۔ ان کے نزدیک حمد کہتے ہوئے توحید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے اور نعت کہتے ہوئے عقیدہ توحید اور مقامِ رسالت کی حدود و نزاکتوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں بھی اس بات کا خصوصی اہتمام کیا ہے۔ یہ احتیاط محض فنی احتیاط نہیں بلکہ ایک صاحب ایمان دل کی ذمہ داری کا احساس ہے
یہاں مجھے ان کا یہ شعر یاد آتا ہے
تھے اور بھی کئی عنوان سخنوری کے لیے
خوشا کہ عبد نے موضوع دلپذیر چنا
واقعی سخن کے لیے موضوعات کی کمی نہیں مگر حمد و نعت کے لیے اپنے قلم کو وقف کرنا ایک سعادت بھی ہے اور ایک ذمہ داری بھی۔ حمد میں رب کائنات کی حمد و ثنا بیان کرنا اور نعت میں سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں محبت و عقیدت کے پھول نچھاور کرنا ہر شاعر کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لیے جذبے کی پاکیزگی عقیدے کی پختگی زبان پر قدرت اور سب سے بڑھ کر توفیق الٰہی درکار ہے داستانِ عبد میں حمدیں ہیں نعتیں ہیں قوالیاں ہیں قطعات ہیں اور نظمیں ہیں مگر ان تمام اصناف کے پیچھے ایک ہی کیفیت کارفرما ہے اپنے رب کی ربوبیت کا اعتراف اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و محبت کا اظہار۔ یہی اس کتاب کی روح ہے اور یہی اس کی معنوی قوت بھی میرے نزدیک ڈاکٹر عبد کی یہ کتاب اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ یہ ان کی شخصیت کے اس باطنی رخ کو سامنے لاتی ہے جو ان کی سماجی طبی اور ادبی خدمات کے پیچھے خاموشی سے موجود رہا ہے۔ ایک ایسا دل جو انسانوں کے دکھ درد کو محسوس کرتا ہے جو علم و ادب سے محبت کرتا ہے جو تہذیبی اقدار کا پاس رکھتا ہے اور جو بالآخر اپنے خالق و مالک کے حضور اپنی عاجزی کا اظہار کرنا چاہتا ہے داستان عبد اسی دل کی داستان ہے ڈاکٹر عبدالرحمن عبد کی شاعری اور شخصیت دونوں اردو ادب کا سرمایہ ہیں۔ ان کی تحریروں میں سنجیدگی سچائی تہذیب اور فکری بلندی کے آثار نمایاں ہیں۔ وہ نہ صرف ایک اچھے شاعر ہیں بلکہ اردو ادب کے ایک مخلص خدمت گزار بھی ہیں۔ ان کی زندگی کا یہ پہلو قابل تحسین ہے کہ انہوں نے ادب کو صرف پڑھا اور لکھا نہیں بلکہ اسے زندہ رکھنے فروغ دینے اور نئی نسل تک پہنچانے کے لیے عملی کردار بھی ادا کیا بقولْ ان کے کشمیری زبان بولنے والے نے اردو ڈاکٹر اسرار احمد کی تقریریں سن سن کر سیکھی تو ان کی شاعری میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت کیوں نہ آتی۔ میں سمجھتا ہوں کہ داستانِ عبد ڈاکٹر عبد کے ادبی سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ کتاب ان کے باطن کی آواز بھی ہے اور ان کی عقیدت کا اظہار بھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں جس ذوق توفیق اور جذبے سے نوازا ہے وہ ان صفحات میں جگہ جگہ محسوس ہوتا ہے۔ بلاشبہ ایسی کتاب کی اشاعت محض ایک ادبی واقعہ نہیں بلکہ حلقہ ارباب ذوق پسکاٹوے نیو جرسی جس کے وہ صدر ہیں ایک روحانی تحفہ بھی ہے میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر عبدالرحمن عبد کو صحت عافیت سکون اور طویل عمر عطا فرمائے ان کے قلم کو مزید توانائی بخشے ان کی عقیدتوں کو شرف قبول عطا فرمائے اور ان کے علم و ادب کی خدمت کے سفر کو مزید وسعت دے۔ داستانِ عبد کے بعد بھی ان کے قلم سے ایسی بیسیوں کتابیں اردو ادب کی زینت بنیں اور آنے والی نسلیں ان کے علمی ادبی اور تہذیبی سرمائے سے فیض یاب ہوتی رہیں ڈاکٹر صاحب کو یہ اعزاز بہت بہت مبارک ہو اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے اور داستان عبد کو اہل دل اہل ادب اور اہل محبت کے لیے بھی ایک بابرکت اور یادگار تحفہ بنائے۔












