کیا حالات یہی رہنے ہیں؟

0
7
جاوید رانا

پاکستان کے قیام کو الحمد اللہ 79 سال تکمیل کو پہنچے، اگست کا مہینہ 14 تاریخ اور جمعہ کا دن جب نظریۂ اسلام کے حوالے سے دوسری مملکت وجود میں آئی، اس بار بھی پاکستان کا یوم آزادی جمعہ کے روز آیا البتہ فرق یہ رہا کہ 1947ء میں پاکستان کی آزادی و قیام رمضان المبارک کی 27 ویں شب ہوئی، اس بار ہادیٔ برحقۖ کی بعثت ماہ مبارک کے آغاز پر اُمت نے پاکستان کی 79 ویں سالگرہ تزک و احتشام سے منائی۔ ہماری اس تمہید کا مطمع نظریہ ہے کہ پاکستان کا معرض وجود میں آنا رب کریم کی مشیت کے مطابق ہوا اور تاحال خالق کائنات کے فیض و کرم کے سائے میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم بحیثیت قوم اور ہمارے بست و کشاد اس نعمت خداوندی کے حصول پر وہ فرائض و اعمال بہ احسن انجام دے رہے ہیں جو ہمارے دین کے مطابق انصاف مساوات، حقوق اور رواداری کے اصولوں پر سونپے گئے ہیں، یہی نہیں بلکہ یہی اصول و ضوابط دیگر ادیان و اقوام میں بھی مروج ہیں اور افراد و معاشروں کی بہتری و ترقی کی ضمانت ہیں۔
ہمارے مذکورہ بالا سوال کا جواب حکیم الامت علامہ اقبال کے شعر ”قصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم” سے مختص ہے۔ 79 برسوں سے وطن عزیز اور وطن کے لوگوں کیساتھ جو کھلواڑ ہوتی رہی ہے اس کی داستان ایک محب وطن اور وفادار پاکستانی ہونے کے ناطے ہم آپ تک پہنچاتے ہی رہے ہیں جو یقیناً اغراض کے پردے میں حکمرانی سے ہی مرتب رہی ہے۔ انصاف، جمہوریت، حقوق کے تحفظ اور قومی تشخص و احترام کی دھجیاں ہی اُڑائی گئی ہیں۔ قرارداد مقاصد اور قائد اعظم و لیاقت علی خان کی رحلت کے بعد برسوں وطن عزیز آئین سے محروم رہا اور جب آئین 56ء بنا تو شب خون مارا گیا اور بوٹوں کی دھمک نے جمہوریت کا خون کر دیا جسے نہ صرف اسوقت کے منصف اعلیٰ نے جائز بھی قرار بلکہ اس وقت کی افسر شاہی نے بھی سہارا دیا۔ گزشتہ 75برسوں کا اجمالی جائزہ لیں تو تین دہائیوں سے زیادہ مقتدرین کا قبضہ رہا، ایک وزیراعظم کی برطرفی سے ملک کے دو لخت ہونے کا سانحہ ہوا تو تین وزرائے اعظم کو قتل کر دیا گیا۔ گزشتہ چار دہائیوں سے دو خاندان ہی اصل مقتدرین کے سہارے اقتدار بلکہ خیرات کے ہما سے سرفراز ہو رہے ہیں لیکن وطن عزیز اور عوام مایوسیوں کی اتھاہ گہرایئوں میں ڈوبے ہوئے ہیں عوام کا حقیقی اور مقبول ترین رہنما پابند سلاسل ہے۔ عوامی مینڈیٹ کی نفی کر کے ناحقوں کو نوازنے اور حقداروں کو محروم کرنے کا تماشہ جاری ہے۔ اس تماشہ گری میں بیورو کریسی کی چاندی اور من مانی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ جعلی حکمرانوں کی شاہانہ و مفاداتی اغراض کے تناظر میں اور بابوئوں کی پالیسیوں کا نتیجہ یہ ہے کہ کابینہ کے طاقتور ترین اور مقتدرہ کے چہیتے وزیر کو نظام کی ابتری اور ری سیٹ کرنے کا اظہار کرنا پڑا ہے اور کہانی نئے صوبے اور ایڈمنسٹریٹو یونٹس بنانے تک پہنچ گئی ہے۔
پاکستان اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے کہ ایک طرف مشرقی و مغربی سرحدوں پر دشمن سرگرمیاں ہیں، آزاد کشمیر میں امن و امان ختم ہو چکا ہے اور حالات سنبھل نہیں رہے ہیں، دوسری طرف نئے صوبوں کے سوال پر سیاسی تفریق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نظام کو ری سیٹ کرنے کے پیچھے کیا منصوبہ بندی ہے۔ہمارے تجزئیے کے مطابق یہ بہت سوچ سمجھ کرنے کے بعد موجودہ ہائبرڈ نظام کو مزید مستحکم اور خود مختار کرنے کا منصوبہ رُوبہ عمل لانے کے ایجنڈے کے سواء کچھ نہیں۔ وزیر داخلہ کے تناظر میں سوال پر ترجمان آئی ایس پی آر کا ذاتی خیال اور اتوار کو مصطفیٰ کمال کا فیلڈ مارشل کے کراچی کے دورے میں ایشو پر خطاب کا انکشاف ہمارے تجزئیے کو قوی بناتا ہے۔ یہ بات بھی اب زبان زد عام ہے کہ پیپلزپارٹی کے مخالفانہ بیانیئے کے باوجود بھی 38 ویں ترمیم آئے گی اور منظور بھی ہو جائیگی کیونکہ اقتدار کے بھوکے (خواہ کسی بھی صورت میں ہو) محرومی برداشت نہیں کرنا چاہتے۔
ہماری ذاتی رائے تو یہ ہے کہ 73ء کے آئین اور 18 ویں ترمیم کی پاسداری کرتے ہوئے اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کر کے حل نکالا جا سکے لیکن شاہ خرچیوں کے عادی صوبائی حکمران کیسے قبول کر سکتے ہیں کہ نچلی سطح پر فنڈ منتقلی سے ان کی بلکہ ان کے بیورو کریٹس کی عیاشیوں میں فرق آئے، البتہ مقتدرین کا ڈنڈا سب کچھ کرا سکتا ہے۔
ہمارا یقین ہے کہ شب قدر میں اللہ رب الکریم کی عطاء میرا وطن انشاء اللہ تا ابد قائم و دائم رہے گا لیکن اس کو لوٹنے، نوچنے اور کھسوٹنے والے آمر، سیاسی تماشہ گر، منصفین، لٹیرے و لالچی بیورو کریٹ اپنے منطقی انجام تک پہنچ چکے ہیں اور پہنچتے رہیں گے۔ سکندر مرزا سے مشرف تک کا ریکارڈ تو ہر پاکستانی جانتا ہے۔ پاکستان کے بیوروکریٹس و منصفین جن عیش و عشرت کے مزے لوٹ رہے ہیں، انصاف کا قتل کر رہے ہیں وہ بھی بد ترین انجام سے بچ نہیں سکتے۔ پنجاب صوبے کی وزیر اعلیٰ اور بیوروکریسی کی عیاشیاں اور سہولتوں کے حصول کے مقابل اگر مشرقی پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور بیورو کریسی کے طرز رہائش و سہولیات کا موازنہ کریں تو افسوس ہوتا ہے کہ عوام کا پیسہ کیسے ضائع کیا جا رہا ہے۔ یہاں سفر کیلئے جہاز اور نئی گاڑیوں کا طمطراق ہے تو وہاں سستی چھوٹی گھڑیاں، یہاں بے تحاشہ تنخواہیں و سہولیات تو وہاں سادہ زندگی اور محدود ذرائع آمدنی۔ اس تفاوت کی وجہ کچھ اور نہیں سوائے وطن کی خدمت و محبت کے۔ سادگی اور قناعت کا درس تو ہمارے دین کا درس ہے مگر ہمارے ارباب بست و کشاد اپنی عاقبت کو بھول چکے اور انجام سے غافل ہیں۔
٭٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here