تکلف اور قناعت !!!

0
8

تکلف اور قناعت دونوں الفاظ اسلامی اخلاقیات میں بنیادی اور انتہائی اہم مقام رکھتے ہیں، لیکن جب ان دونوں تصورات کا ایک ساتھ مطالعہ کیا جاتا ہے تو ان کی معنوی گہرائی اور افادیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ قناعت دراصل انسان کے اندرونی سکون اور اطمینانِ قلب کا نام ہے، جس کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں اور قسمت کی تقسیم پر دل کی گہرائیوں سے راضی و شاکر رہے۔ جب کسی شخص کے اندر قناعت کا جذبہ بیدار ہو جاتا ہے تو وہ بنیادی ضروریاتِ زندگی پوری ہونے کے بعد مزید کی بے جا حرص اور لالچ سے خود کو محفوظ رکھتا ہے۔ قناعت پسند انسان کبھی بھی دوسروں کے مال، دولت، آسائشوں اور ظاہری شان و شوکت کو حسرت اور رشک کی نظر سے نہیں دیکھتا۔ یہی وہ عظیم اخلاقی صفت ہے جس کے بارے میں خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اصل مالداری مال و متاع کی کثرت کا نام نہیں بلکہ حقیقی مالداری دل کا غنی اور غنی النفس ہونا ہے۔ اس مبارک فرمان کی تصدیق صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متفق علیہ احادیث سے بھی ہوتی ہے، جو اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ روحانی اطمینان ہی انسان کا حقیقی سرمایہ ہے۔
اس کے برعکس اگر تکلف کا جائزہ لیا جائے تو یہ ایک ایسی منفی اور غیر فطری رویے کا نام ہے جو انسان کی زندگی کو الجھنوں اور مصائب میں مبتلا کر دیتا ہے۔ تکلف کا بنیادی مطلب بناوٹ، تصنع اور اپنی اصل حیثیت سے بڑھ کر دکھاوا کرنا ہے۔ اس رویے کا حامل شخص دوسروں کو متاثر کرنے اور ان کی نظروں میں معتبر بننے کے لیے غیر ضروری اخراجات اور سخت مشقت کا بوجھ اپنے سر لے لیتا ہے۔ مثال کے طور پر جب گھر میں کوئی مہمان آئے تو اپنی استطاعت سے باہر جا کر قرض لے کر پرتعیش ضیافت کا اہتمام کرنا، محض لوگوں کی داد اور تحسین حاصل کرنے کے لیے مہنگی ترین اشیاء اور برانڈز خریدنا، اور اپنی معاشی حقیقت کو چھپا کر خود کو امیر اور صاحبِ ثروت ظاہر کرنا تکلف کی بدترین مثالیں ہیں۔ یہ تمام اعمال نہ صرف انسان کی مالی حالت کو تباہ کرتے ہیں بلکہ اس کے ذہنی سکون کو بھی ختم کر دیتے ہیں۔
جب انسان تکلف سے پرہیز کرتے ہوئے قناعت کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات اس کی پوری شخصیت پر مرتب ہوتے ہیں۔ تکلف سے پاک قناعت پسندانہ زندگی کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا دل اللہ کی تقسیم پر کامل ایمان اور رضامندی سے لبریز ہو، اور وہ اپنے روزمرہ کے معاملات میں دکھاوے، بناوٹ اور نمائش سے مکمل طور پر پرہیز کرے۔ ایسا شخص سادگی کو اپنا شعار بناتا ہے اور ہمیشہ اپنی مالی استطاعت کے دائرے میں رہتے ہوئے خرچ کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو متاثر کرنے یا معاشرتی دباؤ میں آ کر خود کو کسی قسم کی معاشی یا نفسیاتی مشقت میں نہیں ڈالتا، بلکہ عزت، وقار اور خودداری کے ساتھ سادہ اور پرسکون زندگی بسر کرتا ہے۔
عملی زندگی میں اس رویے کی بے شمار مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ اگر گھر میں اچانک یا مقررہ وقت پر مہمان تشریف لائیں تو جو کچھ بھی گھر میں آسانی اور خوش دلی سے میسر ہو، اسے محبت، خلوص اور احترام کے ساتھ پیش کر دینا چاہیے، اور محض نام و نمود کے لیے قرض لے کر بھاری دعوتوں سے گریز کرنا چاہیے۔ اسی طرح شادی بیاہ اور دیگر سماجی تقاریب کے موقع پر انسان کو اپنی جیب اور استطاعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے، اور معاشرے کی دیکھا دیکھی یا رسومات کے نام پر فضول اور بے جا اخراجات سے مکمل بچنا چاہیے۔ لباس کے معاملے میں بھی صفائی، ستھرائی اور پاکیزگی کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے، لیکن صرف نمائش اور برانڈز کی نمائش کی خاطر گرامی قدر رقم ضائع کرنا قناعت کے اصولوں کے بالکل خلاف ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قناعت دل کی دائمی دولت اور حقیقی سلطنت ہے، جبکہ تکلف انسان کے لیے محض دکھاوے، نفسانی خواہشات اور غیر ضروری معاشی بوجھ کا ذریعہ بنتا ہے۔ ایک مومن اور باوقار شہری کی نمایاں ترین پہچان یہ ہے کہ وہ اپنی عملی اور شخصی زندگی میں قناعت پسندی کو فروغ دے اور تکلف کی تمام صورتوں سے کنارہ کشی اختیار کرے۔ اس متوازن اور سادہ طرزِ زندگی کو اپنا کر انسان نہ صرف دنیاوی زندگی میں سکون، برکت اور اطمینان حاصل کر سکتا ہے بلکہ اخروی زندگی میں بھی اپنے پروردگار کی رضا اور خوشنودی کا مستحق بن سکتا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here