فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ
محترم قارئین! غوث الثقلین، محبوب سبحانی، قندیل نورانی الشیخ السید عبدالقادر جیلانی الحسنی والحسینی رضی اللہ عنھم کو اللہ تعالیٰ نے ولیوں میں وہ مقام عطا فرمایا تھا جو محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰۖ کو نبیوں اور رسولوں علیھم الصّلوٰة والسّلام میں عطا فرمایا حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ سارے ولیوں کے سردار ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو سر کے بالوں سے لے کر پائوں کے ناخنوں تک کرامت ہی کرامت بنایا ہے جس طرح رسول اللہۖ کو سراپا معجزہ بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔
آپ رضی اللہ عنہ اللہ کے ولی تھے اور ولی بھی مادرزاد تھے اس کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ نے باقاعدہ بغداد یونیورسٹی میں جا کر علم حاصل کیا اور بڑی تنگدستی اور عسرت میں آپ کا طالب علمی دور گزرا۔ آپ کی علمی وعملی عظمت بہت زیادہ ہے آپ ایک صوفی ہی نہیں بلکہ بہت بڑے مفتی، فقہسہ اور مفسر قرآن تھے۔ آپ کے علمی کمال کا یہ حال تھا کہ جب بغداد میں آپ کی مجالس وعظ میں ساٹھ ساٹھ اور ستر ستر ہزار سامعین کا مجمع ہونے لگا تو بعض عالموں کو حسد ہونے لگا کہ ایک عجمی شخص کو بغداد میں اس قدر مقبولیت کیوں حاصل ہوگئی؟ چنانچہ حافظ ابوالعباس احمد بن احمد بغدادی اور علامہ حافظ عبدالرّحمن بن الجوزی جو دونوں اپنے وقت میں علم کے سمندر اور حدیثوں کے پہاڑ شمار کئے جاتے تھے آپ کی مجلس وعظ میں بغرض امتحان حاضر ہوئے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھ گئے جب حضور غوثیت مآب نے وعظ شروع فرمایا تو ایک آیت کی تفسیر بیان فرمانے لگے۔ پہلی تفسیر سنائی تو ان دونوں علماء نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور دونوں نے تصدیق کرتے ہوئے ہر ہلا دیا۔ اس طرح گیارہ تفسیروں تک تو دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ دیکھ کر سر ہلاتے اور تصدیق کرتے رہے مگر جب حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے بارہویں تفسیر بیان فرمائی تو اسی طرح چالیس تفسیریں آس آیت کریمہ کی آپ بیان فرماتے ہوئے چلے گئے اور یہ دونوں محو حیرت سنتے اور سردنتے رہے۔ پھر آخر میں آپ نے فرمایا کہ اب قال سے ہم حال کی طرف پلٹے، یہ فرمایا اور بلند آواز سے کلمہ طیبہ نعرہ بلند فرمایا تو ساری مجلس میں ایک جوش کیفیت اور اضطراب پیدا ہوگیا اور علامہ ابن جوزی نے جوش حال میں اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے۔(بہجتہ الاسرار) اور اسی طح مفرج بن نبہان کا بیان ہے کہ بغداد کے ایک سو بلند پایہ علماء کرام آپ کی مجلس وعظ میں امتحان کے لئے گئے۔ ہر ایک نے ایک ایک مشکل سے مشکل مسئلہ سوال کے طور پر آپ کے لئے اپنے اپنے ذہن میں رکھا۔ لیکن جس وقت آپ وعظ کر کرسی پر رونق افروز ہوئے تو قبل اس کے کہ کوئی سوال کرے آپ نے تھوڑی دیر سر جھکا کر مراقبہ فرمایا۔ پھر یکایک آپ کے سینہ اطہر سے ایک نورانی تجلی نمودار ہوئی اور بجلی کی طرح موجود تمام علماء کے سینوں میں پیوست ہوگئی اور سب کے سب چیخ مار کر اپنے اپنے کپڑوں کو پھاڑنے لگے۔ اور اپنی اپنی پگڑیاں پھینک کر برہنہ سر کرسی کی طرف دوڑ پڑے اور اپنا اپنا سرغوث اعظم رضی اللہ عنہ کے قدموں میں ڈالنے لگے پھر حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے ہر ایک کو اپنے سینے سے لگا لگا کر ان کے مشکل مسائل کا جواب دینا شروع کیا۔ یہاں تک کہ ہر ایک کے سوال کا جواب پورا ہوگیا۔ اور سب سکون کے ساتھ بیٹھ کر وعظ سننے لگے۔ مفرج بن نبہان کہتے ہیں کہ وعظ ختم ہونے کے بعد میں ان علماء سے ملا اور دریافت کیا کہ تمہارا کیا حال ہوگیا ہے؟ تو ان لوگوں نے بتایا کہ جیسے ہی ہم سوال کی نیت سے مجلس میں حاضر ہوئے اچانک ایک دم ہمارا سارا علم ہی سلب ہوگیا اور ہم اپنے علمی کمال کے زوال پر بیقرار ہو کر بلبلا اٹھے۔
لیکن جب غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے ہم کو اپنے سینے سے لگالیا تو ہمارا علم واپس آگیا بلکہ اس قدر زیادہ شرح صدر حاصل ہوگیا کہ حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے جوابات سے ہمارے دلوں کے بند دروازے کھُل گئے اور ہم علوم سے مالا مال ہوگئے(قلائدالجواہر) بہرحال آپ کا علمی کمال اس قدر بلند پایہ ہے کہ اصاغر ومعاصوین تو کجا؟ آپ کے اساتذہ نے آپ کے تبحر علمی اور فضل وکمال کا اعتراف فرماتے ہوئے آپ کو بڑی بڑی بشارتیں دیں۔ چنانچہ حضرت خواجہ ابو سعید مخزومی رضی اللہ عنہ جو آپ کے استاد فقہ اور شیخ خرقہ ہیں۔ بارہا فرمایا کرتے تھے کہ اے عبدالقادر ! وہ وقت آنے والا ہے کہ تہماری ذات مرجع الخلائق ہوگی اور تم سے رشد و ہدایت کا ایسا دریا جاری ہوگا جس سے فیض حاصل کرکے ہزاروں بندگان خدا سیراب ہوں گے۔ علوم عربیہ اور فقہ وحدیث میں کامل مہارت اور تکمیل کے بعد آپ علوم تصوف کی طرف متوجہ ہوئے اور حضرت ابوالخیر حماد بن مسلم دباس کی خانقاہ میں حاضر ہو کر علم تصوف کا درس حاصل کرنے لگے۔ حضرت ابوالخیرحماد کے ہم پلہ پورے بغداد میں کوئی نہیں تھا بلکہ آپ بغداد کے تمام صوفیاء ومشائخ مسلم الشبوت استاذالکل تھے۔ آپ خود فرماتے ہیں کہ برس ہا برس کے مجاہدہ کے بعد میں نے ایک مرتبہ خدا سے یہ عہد کرلیا کہ میں کچھ نہ کھائوں گا جب تک خدا مجھے نہ کھلائے گا اور کچھ نہ پئوں گا جب تک خدا مجھے نہ پلائے گا۔ پھر چالیس دنوں تک بغیر کچھ کھائے پئے رہا یہاں تک کہ خواجہ ابو سعید مخزومی رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے۔ پھر مجھے اپنے گھر بلایا اور اپنے ہاتھ سے مجھے کھلایا اور پلایا اور فرمایا کہ عبدالقادر! تم نہیں کھا پی رہے ہو بلکہ میں خدا کے حکم سے تمہیں کھلا پلا رہا ہوں تمہارا عہد پورا ہوگیا پھر آپ نے مجھے فرقہ پہنا کر اپنی خلافت سے سرفراز فرمایا۔ اللہ تعالیٰ آپ کے درجات مزید بلند فرمائے۔ اور آپ کے فیوض وبرکات سے ہمیں وافر حصہ عطا فرمائے(آمین)۔
٭٭٭٭٭












