کبھی کبھی زندگی ہمیں ایسے مقام پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں مسئلہ کسی ایک فریق کا نہیں رہتا بلکہ دونوں طرف محترم لوگ کھڑے ہوتے ہیں اور آدمی کو یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ بات کو کس طرح سنبھالا جائے کہ کسی کا دل بھی نہ ٹوٹے اور معاملہ بھی ہاتھ سے نہ نکلے۔ خاص طور پر جب دونوں اطراف سے رابطہ بھی ہو اور دونوں طرف اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ کھڑے لوگ بھی ہوں۔ گزشتہ روز مجھے بھی کچھ ایسی ہی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ میرے لیے بالکل نئی صورت حال ہرگز نہیں تھی۔ اس سے ملتی جلتی ایک کیفیت محترم واصف حسین واصف کی کتاب لا اکراہ کی تقریبِ رونمائی کے موقع پر بھی پیش آ چکی ہے۔ اس وقت حلق? اربابِ ذوق نیویارک رجسٹرڈ کتاب کی تقریبِ رونمائی کا اہتمام کر رہا تھا جس کے جنرل سیکریٹری میرے نہایت محترم کامل احمر تھے۔ تقریب میں کسی ممکنہ بدمزگی کی اطلاع پر واصف حسین واصف صاحب نے تقریب منسوخ کر دی مگر حلقے نے صاحبِ کتاب کی عدم موجودگی میں ہی تقریب منعقد کر لی۔ مقالے پڑھے گئے، گفتگو ہوئی، تصویریں بنیں، ویڈیو بھی شوٹ ہوئی اور تقریب اپنے طور پر ہو گئی۔ بعد ازاں محترم واصف حسین واصف نے اس معاملے کو عدالت میں لے جانے کا عندیہ دیا۔ انہوں نے وکیل کیا اور درخواست دائر کرنے کے لیے بہت سا کام بھی کر لیا۔ پھر میری طرف سے اور بہت سے لوگوں کی جانب سے بیچ بچاؤ کی کوششیں کی گئیں اور بالآخر معاملہ خوش اسلوبی سے طے پا گیا۔ میں نے اس واقعے سے ایک بات سیکھی کہ ادبی دنیا میں بعض اوقات ایک کتاب سے زیادہ حساس چیز اس کی تقریبِ رونمائی ہوتی ہے۔
اب ایک بار پھر کچھ ایسا ہی معاملہ سامنے آ کھڑا ہوا ہے۔ محترم طاہر محمود صاحب، جو پشاور ٹیلی ویڑن سے ایک اعلیٰ عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں، امریکہ یاترا کے بعد ایک کتاب لکھ کر لائے ہیں جس کا نام امریکہ مرے آگے ہے۔ اس کتاب کی تقریبِ رونمائی فکر و فن شمالی امریکہ کے روحِ رواں محترم وکیل انصاری صاحب، معروف دانشور، کالم نگار اور ادیب محترم عتیق صدیقی صاحب کے تعاون سے اگلے مہینے کے شروع میں منعقد کروا رہے ہیں۔ عتیق صدیقی صاحب اور طاہر محمود صاحب دیرینہ رفاقت رکھتے ہیں، اس لیے یہ تقریب محض ایک رسمی ادبی تقریب نہیں بلکہ ایک دوست کی کتاب کو دوستوں کی جانب سے خوش آمدید کہنے کی ایک خوب صورت کوشش بھی ہے۔
لیکن کہانی میں ایک ایسا موڑ آیا جہاں دو نقطوں نے پوری عبارت کا مزاج بدل دیا۔ اینکر، کالم نگار اور صحافی محترم اقبال کھوکھر صاحب کی گزشتہ روز ٹیلی فون کال آئی۔ انہوں نے کہا کہ وکیل انصاری صاحب، عتیق صدیقی صاحب اور طاہر محمود صاحب تک ان کا پیغام پہنچا دیا جائے کہ وہ مذکورہ بالا کتاب کی تقریبِ رونمائی منسوخ کر دیں کیونکہ اسی نام سے ان کی اپنی کتاب پہلے ہی شائع ہو چکی ہے، یعنی امریکہ میرے آگیے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی کتاب کا بین الاقوامی معیاری کتابی نمبر، جو کہ کتاب کی پہچان ہوتا ہے، وہ بھی امریکہ سے جاری ہو چکا ہے اور ان کے خیال میں وہ اس معاملے میں قانونی چارہ جوئی کر سکتے ہیں۔اب میں کیا کرتا، دونوں طرف محترم لوگ، دونوں طرف اپنی اپنی کتابیں، اور درمیان میں میں، لہٰذا میں نے عرض کیا کہ جنابِ من، یہ تو اچھی بات بھی ہو سکتی ہے کہ آپ کے دیے ہوئے نام پر اگر کوئی دوسرا بھی کتاب کا نام رکھ رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ نام اچھا ہے۔ فراز نے بھی تو کہا تھا:
ماؤں نے تیرے نام پہ بچوں کا نام رکھ دیا
کتاب بھی تو ادیب کا بچہ ہی ہوتی ہے۔ جس طرح ماں باپ اپنے بچے کے نام کے ساتھ جذباتی وابستگی رکھتے ہیں، اسی طرح مصنف اپنے عنوان کے ساتھ ایک خاص تعلق محسوس کرتا ہے۔ اس لیے میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ اقبال کھوکھر صاحب کا اپنے عنوان کے ساتھ جذباتی اور ادبی تعلق اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن کھوکھر صاحب کا مؤقف تھا کہ انہوں نے اس معاملے کے قانونی پہلو دیکھے ہیں اور ایک ہی عنوان کسی اور کے لیے استعمال کرنا قابلِ اعتراض ہو سکتا ہے۔ اس گفتگو کے دوران انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ محض کسی کے نام کے ساتھ وکیل لکھ دینے سے کوئی شخص وکیل نہیں بن جاتا، اس کے لیے بہت کچھ پڑھنا، امتحانات پاس کرنا اور لائسنس حاصل کرنا پڑتا ہے۔ غالباً یہ جملہ محترم وکیل انصاری صاحب کے بارے میں ایک تنقیدی نقطہ نظر کے طور پر ارشاد ہوا تھا۔ میں نے اسے بھی مسکراہٹ کے ساتھ سنا۔ اگرچہ کھوکھر صاحب، وکیل انصاری کے ہمسائے ہیں، پھر بھی کہنے لگے کہ چونکہ آپ ان کے قریب ہیں لہٰذا یہ پیغام پہنچا دیں۔
پھر دوپہر میں بابائے رباعیات محترم مامون ایمن صاحب کی کال آئی، وہ اپنے صاحبزادے کے ولیمے کی دعوت دینے کے لیے فون کر رہے تھے۔ میں نے دعوت دینے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور یہ سارا معاملہ ان کے گوش گزار کر دیا۔ انہوں نے بھی بڑی متانت سے فرمایا کہ اس معاملے میں میرا علم محدود ہے، آپ کو جو پیغام دیا گیا ہے وہ پہنچا دیں۔ سو میں نے عتیق صدیقی صاحب کو کال کر کے صورتِ حال سے آگاہ کر دیا اور باقی حضرات کو پیغام چھوڑ دیا۔
اگلی صبح صاحبِ کتاب محترم طاہر محمود صاحب کی کال آئی، انہیں کتاب کی اشاعت پر مبارک باد دی، انہوں نے شکریہ کے ساتھ مجھ سے مشورہ طلب کیا کہ آپ کے خیال میں اس کا کیا حل ہے۔ میں نے انہیں کسی بھی تصادم سے بچنے کا مشورہ دیتے ہوئے عرض کیا کہ آپ اقبال کھوکھر صاحب سے خود بات کریں۔ ان کا رابطہ نمبر بھی ان سے شیئر کیا اور کہا کہ انہیں شاید یہ سمجھانا آسان ہوگا کہ کبھی کبھی ایک نقطہ لفظ کا مفہوم بدل دیتا ہے۔ ایک طرف ہے امریکہ میرے آگے اور دوسری طرف امریکہ مرے آگے، لفظ وہی، امریکہ وہی، آگے وہی، صرف میرے اور مرے کا فرق ہے۔ اردو میں ایک نقطہ کبھی کسی لفظ کو محرم سے مجرم بنا دیتا ہے اور کبھی ایک معمولی سی تبدیلی پورے جملے کا مفہوم بدل دیتی ہے۔ آپ تو شاعر بھی ہیں، دو نقطے شعر کا وزن بدل دیتے ہیں۔ زبان کی یہی نزاکت ہماری طاقت بھی ہے اور کبھی کبھی ہماری آزمائش بھی۔
اقبال کھوکھر صاحب سمجھ دار آدمی ہیں اور طاہر محمود صاحب بھی میرے لیے قابلِ احترام ہیں۔ اس لیے میری خواہش صرف یہ ہے کہ معاملہ لفظوں سے نکل کر عدالتوں، اخبارات اور سماجی رابطوں کے ذرائع کی عدالت میں نہ پہنچ جائے۔ میرے پاس دونوں کتابیں دونوں حضرات کے دستخط کے ساتھ بذریعہ ڈاک پہنچی ہوئی موجود ہیں۔ میں نے دونوں کتابیں پڑھی ہیں، کھوکھر صاحب کی کتاب میں چنیدہ انٹرویوز اور ہمہ جہت شخصیات سے ملاقاتوں کا احوال ہے، جبکہ محترم طاہر محمود کی کتاب میں احوالِ امریکہ ہے جو کچھ انہوں نے آنکھوں سے امریکہ کو دیکھا، سنا اور جو ان پر بیتا اسے رقم کیا ہے۔ لہٰذا میں نے دونوں کے عنوانات کی اکٹھی تصویر بنائی اور پیغام کے ذریعے دونوں کو بھیج دی۔ ساتھ عرض کیا کہ اقبال کھوکھر صاحب سے کہیں، درگزر کریں، وہ سمجھدار انسان ہیں، سمجھ جائیں گے۔
آخر کتابیں لکھی ہی اس لیے جاتی ہیں کہ پڑھنے والوں تک پہنچیں نہ کہ ایک دوسرے تک پہنچ کر مقدمات کا سبب بنیں۔ ادبی دنیا پہلے ہی اختلافات، گروہ بندیوں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کے بڑے بڑے قصوں سے بھری پڑی ہے۔ اگر ہر مماثل عنوان، ہر ملتے جلتے جملے اور ہر مشابہ خیال کو قانونی معرکہ بنا دیا جائے تو پھر کتاب سے زیادہ مقدمے چھپنے لگیں گے۔ مجھے اس سارے قصے میں سب سے زیادہ فکر اپنی کمیونٹی کی ہے، کیونکہ اگر بات نہ سنبھلی تو پھر اخبارات میں کیا کیا چھپے گا، سماجی رابطوں کے صفحات پر کون کس کی لے دے کرے گا، کس کے حق میں کون سا بیان آئے گا، کون کس کی نیت پر سوال اٹھائے گا اور کون پرانے قصے نکال کر نئی بحث میں ڈال دے گا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
نتیجہ شاید پھر وہی نکلے گا جو لا اکراہ کی تقریب کے معاملے میں نکلا تھا؛ کچھ لوگ ناراض، کچھ پریشان، کچھ خاموش، کچھ سرگرم، اور آخر میں سب کو بیٹھ کر یہی سوچنا پڑے گا کہ یہ معاملہ شروع ہی کیوں ہوا تھا۔ اس لیے میری خواہش ہے کہ امریکہ میرے آگے اور امریکہ مرے آگے، دونوں کتابیں اپنے اپنے قارئین تک پہنچیں، دونوں مصنفین اپنے اپنے عنوان کے ساتھ خوش رہیں اور ہماری ادبی محفلیں عدالتوں کے بجائے کتابوں، مکالموں اور قہقہوں سے آباد رہیں۔ آخرکار دو نقطوں کی بھی تو اپنی عزت ہوتی ہے، اسے اتنی بڑی ذمہ داری نہ دیں کہ وہ دو محترم ادیبوں کے درمیان پوری لکیر کھینچ دے۔



















