وطن! ہر بدعنوان حکمران کے خلاف جمہوریت پسندوں کا احتجاج ان کا بنیادی حق ہے۔ قارئین اور عزیزانِ وطن! بہنیں اور رہنما گرفتار ہیں جبکہ کارکنوں کو گلی کوچوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ 27 مارچ کی ریلی کا خوف اور اس خوف کا اصل منبع تحریک انصاف کے رہنما عمران خان صاحب ہیں۔ جعلی حکومتوں کا یہی حال ہوتا ہے اور ادھر قوم کی بدحالی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ خوف کا یہ عالم صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی اور ان کے نمائندوں کی دھمکیاں بھی محض ملک کے اندر تک محدود نہیں ہیں بلکہ فارم 47 کے وزیر اعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آمد سے قبل امریکہ میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں پر دھمکیوں کی بوچھاڑ شروع ہو چکی ہے۔ ہمارے دیرینہ دوست جو پہلے پاکستان مسلم لیگ کے ساتھی تھے، لیکن ن لیگ کے ساتھی نہیں تھے جو نواز شریف نے مشرف کے دور میں بنائی تھی، اور آج کل وہ تحریک انصاف کے نیویارک چیپٹر کے صدر ہیں اور عمران خان کے پرخلوص رہنما ہیں، انہیں نہ صرف درجن بھر دھمکی آمیز فون آتے ہیں بلکہ ایک طرف شہباز شریف کے حامیوں اور دوسری طرف انتظامیہ کے نوریٹنوں کی دھمکیاں الگ ہیں۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ امجد نواز شاہ صاحب سید زادے ہیں اور وہ جعلی حکومت کی دھمکیوں سے مرعوب ہونیوالے نہیں ہیں۔ وہ شہباز شریف کو ایسا تگنی کا ناچ نچائیں گے کہ وزیر اعظم بھی یاد کریں گے کہ مخلص کارکن سے بے وفائی کا کیا نتیجہ ہوتا ہے۔
جلسے اور جلوس جمہوریت کا حسن ہوتے ہیں، لیکن ہماری انتظامیہ اور ہر دور کے فارم 47 کے حکمرانوں کو، بشمول جمہوریت کے داعی ذوالفقار علی بھٹو کے، اپنے خلاف عوامی احتجاج اور تنقید زہرِ قاتل لگتی ہے۔ نواز شریف اور ان کے ساتھ جڑے دیگر سیاسی عناصر کو نہ جمہوریت پسند ہے اور نہ ہی تنقید، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ سب انتظامیہ کے گملوں میں پروان چڑھے ہیں۔ شہباز شریف کی بدعنوان حکومت کے خلاف امریکہ آمد پر نہ صرف پاکستان تحریک انصاف بلکہ ہر جمہوریت پسند کا فرض ہے کہ وہ ان کے خلاف اپنا احتجاج بلند کرے۔ اکثر حکومتی نمائندے اور حامی یہ دلیل دیتے نہیں تھکتے کہ پاکستان سے باہر احتجاج کا کوئی معنی نہیں ہوتا۔ کوئی ان سے پوچھے کہ ملک کے اندر احتجاج کرنے والوں پر گولیاں چلائی جاتی ہیں تو عوام کیا کریں۔ ملک سے باہر اگر اپنے احتجاج کو درج کروانے کا موقع مل رہا ہے، اور خاص طور پر اس وقت جب غیر عوامی حکمران اقوام متحدہ کی اسمبلی میں شرکت کے لیے ایک بھاری وفد کے ساتھ قوم کے خزانے کو بے دردی سے خرچ کر کے آ رہے ہوں، تو اس آمد پر آواز بلند کرنا ہر جمہوریت پسند کا حق بنتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب نواز شریف آخری بار وزیر اعظم کی حیثیت سے اقوام متحدہ تشریف لائے تھے تو تقریباً پانچ ہزار جمہوریت پسندوں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا تھا، جبکہ ان کے مقابلے میں نواز شریف کے حامیوں کی تعداد پچاس ساٹھ لوگوں سے زیادہ نہیں تھی جو کیپٹن شاہین بٹ کی سربراہی میں آئے تھے۔ امید ہے کہ اس بار شہباز شریف کی بدعنوانی کیخلاف آواز بلند کرنیوالوں کی تعداد ہزاروں میں ہوگی اور ان کی آواز کو وزیر داخلہ محسن نقوی یا قونسل جنرل کے دفتر میں براجمان بیوروکریسی دبا نہیں سکے گی۔
احتجاج صرف پاکستان کے عوام کا حق نہیں ہے بلکہ امریکہ، جو دو سو سال سے زائد کی جمہوریت کا دعویدار ہے، کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف بھی احتجاج بلند ہوگا۔ بھارت کے نریندر مودی کیخلاف بھی وہاں کے عوام جو امریکہ میں مقیم ہیں، اور خاص طور پر سکھ برادری اور مسلمان، شدید احتجاج بلند کریں گے۔ بھارتی انتظامیہ بھی وہی حربے استعمال کرتی ہے، لیکن نعرہ حق بلند کرنے والے کب رکتے ہیں خواہ وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں آباد ہوں۔ دوسری طرف حکومتوں کے چاپلوس اور مفاد پرست ذرائع ابلاغ بھی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ میری آنکھوں نے ایوب خان کی آمریت سے لے کر آج تک ہر آمریت اور ان کے بنائے ہوئے ہر دور کے فارم 47 کا جبر و ستم دیکھا ہے۔ جمہوریت پسندوں کو، خواہ وہ تھوڑی تعداد میں ہی کیوں نہ ہوں، گولیاں اور ڈنڈے کھاتے اور پابندِ سلاسل ہوتے دیکھا ہے۔ اس کی زندہ مثال شورشِ پاکستان سلیمان کھوکھر صاحب ہیں جو آج کل امریکہ میں مقیم ہیں اور انہیں ہر جبر کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے دیکھا گیا ہے۔ تمام جمہوریت پسندوں کو میرا سلام، پاکستان زندہ باد۔














