قارئین کرام ، عربی تحریر کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے۔
پیارے نبی ۖ کے روضہ مبارک کے قریب سے چار پولیس اہلکاروں نے ایک نوجوان کو حراست میں لے لیا۔ انہوں نے بغیر کسی گفتگو کے فوراً نوجوان کے پیچھے سے رسی ڈال کر اس کے دونوں ہاتھ باندھ دیے۔ نوجوان نے متعجب ہو کر پولیس والوں سے دریافت کیا کہ تم لوگ میرے ساتھ ایسا سلوک کیوں کر رہے ہو، میں نہ تو چور ہوں اور نہ ہی ڈاکو۔ دور سے ایک بزرگ یہ پورا واقعہ دیکھ رہے تھے۔ وہ قریب آئے اور پولیس اہلکاروں سے بولے کہ وہ اس نوجوان کو جانتے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کے پوچھنے پر بزرگ نے بتایا کہ وہ اس نوجوان کو اکثر رسول اللہ کے روضہ مبارک کے سامنے خشوع و خضوع کے ساتھ درود و سلام پڑھتے اور روتے ہوئے دیکھتے ہیں، لہٰذا انہوں نے حراست کی وجہ دریافت کی۔
پولیس اہلکاروں نے وضاحت کی کہ یہ نوجوان چور نہیں ہے بلکہ البانیہ کا شہری ہے اور اس کی عمر تقریباً 35 یا 36 سال ہے، جس کے سر پر گھنے گھنگھریالے بال اور چہرے پر ہلکی داڑھی ہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ یہ نوجوان پچھلے چھ سال سے بغیر کسی قانونی دستاویزات، ویزہ یا اقامے کے مدینہ منورہ میں مقیم ہے۔ پولیس فورس پچھلے چھ سال سے اسے پکڑ کر البانیہ ڈی پورٹ کرنے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن ہر بار یہ گرفتاری کے بعد فرار ہو جاتا تھا۔ اس بار بھی اسے مسجدِ نبوی ہی سے حراست میں لیا گیا اور فرار سے روکنے کے لیے فوراً رسی سے باندھنا پڑا۔ بزرگ کے سوال پر پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ اب ریاست کا قانون لاگو کرتے ہوئے اسے فوراً ہوائی جہاز کے ذریعے البانیہ واپس بھیج دیا جائے گا۔
اس اثنا میں نوجوان شدید رنجیدہ تھا اور سوچ رہا تھا کہ شاید اب اسے واقعی مسجدِ نبوی اور مدینہ منورہ کی مقدس سرزمین کو خیرباد کہنا پڑے گا۔ اس نے پولیس اہلکاروں سے التجا کی کہ وہ یہاں کسی جرم یا دنیوی مقصد کے لیے نہیں بلکہ صرف رسول اللہ کی محبت میں مقیم ہے۔ تاہم پولیس اہلکاروں نے قانونی مجبوری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غیر ملکیوں کو بغیر اجازت نامے کے قیام کی اجازت نہیں ہے اور وہ اسے لے کر مسجدِ نبوی سے باہر نکل آئے۔
راستے میں نوجوان نے پولیس والوں سے ایک آخری التجا کی اجازت مانگی، جس پر انہوں نے رضامندی ظاہر کی۔ تب اس نوجوان نے سبز گنبد کی طرف دیکھتے ہوئے پْردرد آواز میں التجا کی:
اے اللہ کے رسول ۖ، کیا ہمارے درمیان معاہدہ ایسا ہی ہوا تھا، میں آپ کا پڑوسی بننے کی امید میں اپنی دکان، کاروبار اور والدین کو چھوڑ کر یہاں آیا تھا، لیکن اب یہ لوگ مجھے یہاں رہنے نہیں دے رہے۔
یہ الفاظ کہتے ہی وہ نوجوان زمین پر گر پڑا۔ پہلے تو پولیس اہلکاروں نے سمجھا کہ وہ بے ہوش ہونے کا بہانہ بنا کر فرار ہونے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن کچھ دیر بعد جب اسے اٹھایا گیا تو وہ واقعی بے حس و حرکت تھا۔ چہرے پر پانی چھڑکنے کے باوجود کوئی اثر نہ ہوا، جس پر بالآخر ایمبولینس کو طلب کیا گیا۔ہسپتال پہنچنے پر معائنہ کرنے والے ڈاکٹر نے تصدیق کی کہ اس نوجوان کا انتقال تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ پہلے ہی ہو چکا ہے اور اس میں زندگی کی کوئی رمق باقی نہیں ہے۔ یہ سن کر پولیس اہلکار فرطِ جذبات سے رو پڑے اور اعتراف کیا کہ وہ اپنی ڈیوٹی کے دوران اس نوجوان کی رسول اللہ سے سچی محبت کو نہ پہچان سکے۔ بعد ازاں غسل اور نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد نوجوان کی تدفین جنت البقیع میں کی گئی۔ البانیہ واپس بھیجا جانے والا وہ نوجوان ہمیشہ کے لیے مدینہ منورہ کی مٹی میں پیوندِ خاک ہو گیا اور دنیا کے لیے حبِ رسول کی ایک مثال قائم کر گیا۔












