نہ ان کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی !!!

0
15

یمن اور حجاز کی حالیہ کشیدگی کا آغاز 1934ء کے آس پاس بتایا جاتا ہے لیکن دورِ قبلِ مسیح کے دستیاب تاریخی شواہد سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ریاستِ سبا اور اس کے دارالحکومت مآرب کی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے، اس خطے کی زمانہ قدیم کی حکومتیں بھی باہمی اختلافات کا شکار رہتی تھیں۔ معدنی تیل کی دریافت کے بعد، مغربی طاقتوں کے اسلحے کی بدولت، سعودی حکومت نے یمن کے اندرونی معاملات میں ہمیشہ مداخلت جاری رکھی لیکن مکمل کامیابی اسے کبھی حاصل نہ ہو سکی۔
آج کی جدید دنیا ایک جانب تو سرمایہ دارانہ نظام پر قائم عالمی نظام کی گرتی ہوئی دیواروں کو بچانے میں مصروف ہے اور دوسری جانب مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر آنے والی روز افزوں تبدیلیوں کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہے۔ تبدیلیوں کے ان حالات میں، دنیا بھر کے مجبور، مظلوم اور پِسے ہوئے طبقات، اشرافیہ اور حکمرانوں کے لیے دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔ فیض نے اس کیفیت کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے۔
یوں ہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
نہ ان کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئی
یوں ہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
نہ ان کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی
اس ہفتے، جب حجازِ مقدس کے موجودہ حکمران نے اپنے حامیوں سے حوثی قبائل کی فتوحات سے نبٹنے کے لیے ایک مرتبہ پھر مدد مانگی تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب ایران کی حکومت کے خوف سے، عالمی طاقتوں نے گھٹنے ٹیکتے ہوئے اپنے سب سے چہیتے اتحادی کو اکیلا چھوڑ دیا۔ اپنی قوتِ سماعت پر یقین نہ آنے کی صورت میں ولی عہد نے فوراً ہی دوبارہ بات کی لیکن بعینہ وہی جواب سن کر انہیں حالات کی نزاکت کا اندازہ ہوا۔ یمن کی سرزمین پر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے، گزشتہ کئی برسوں میں لاکھوں مظلوم، مجبور اور نہتے افراد کو دنیاوی طور پر خانماں برباد تو کیا جا سکتا ہے لیکن وقت تو کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ فیض نے اس حقیقت کی ترجمانی کچھ اس طرح کی ہے۔
بجھا جو روزن زنداں تو دل یہ سمجھا ہے
کہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہوگی
چمک اٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہے
کہ اب سحر ترے رخ پر بکھر گئی ہوگی
گزشتہ دس بارہ سال کے طویل عرصے کے دوران جب آلِ سعود اور اماراتی حکمران یمن کی سرزمین پر مظالم ڈھا رہے تھے، تو مغرب میں تو کبھی کبھی اس حقیقت کے خلاف آوازیں اٹھتی تھیں کہ امریکی ساخت کا اسلحہ اور گولہ بارود یمنی آبادی کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں استعمال ہو رہا ہے، لیکن مسلمان ممالک سمیت باقی ساری دنیا اس طرح خاموش رہی جیسے یمنیوں کا مقدر ہی یہی ہو۔ آج جب پوری دنیا کی معیشت اللہ نے انہی مظلوموں کے حوالے کر دی ہے تو ہر طرف کہرام مچا ہوا ہے۔ ریاستِ سبا کے رہائشیوں نے تو اپنے زمانہ عروج میں سدِ مآرب بنا کر، اس وقت کی معلوم دنیا میں معاشی اور زرعی انقلاب برپا کر دیا تھا۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر سورة سبا میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ
ترجمہ؛ اسی طرح قوم سبا کے لیے بھی ان کے مسکن میں ایک نشانی موجود تھی دو باغات کے سلسلے تھے دائیں اور بائیں طرف کھاؤ اپنے رب کے رزق میں سے اور اس کا شکر ادا کرو تمہارا شہر بہت پاکیزہ ہے اور تمہارا رب بہت بخشنے والا ہے۔
آٹھویں صدی قبلِ مسیح کے زمانے میں، مٹی، پتھر، اور سیسہ سے بنا ہوا یہ بند، 25 ہزار سے بھی زیادہ ایکڑ زمین کو سیراب کرتا تھا۔ انجینئرنگ کا یہ شاہکار بلکہ عجوبہ، یمن کی سبائی تہذیب کی ترقی کو قرآنی حوالہ جات کے درجے تک پہنچا دیتا ہے، اسی لیے یہاں کے لوگ آج کے ترقی یافتہ دور میں جدید ترین طیاروں کو بھی گرانے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ فیض تو کہہ گئے ہیں کہ
بہت ہے ظلم کے دست بہانہ جو کے لیے
جو چند اہل جنوں تیرے نام لیوا ہیں
جس تیل کی دولت اور مغربی طاقتوں پر موجودہ دور کے بادشاہوں کو بڑا ناز رہا ہے، وہ اب ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔ ایران اب یہ ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے کہ اگر اس کا تیل نہیں بکے گا تو کسی اور کا بھی نہیں بک سکتا۔ مغرب کی رائے عامہ صیہونی طاقت کی غیر مشروط حمایت پر اب راضی نہیں اور مغربی قیادت قحط الرجال کا شکار ہے۔ ان حالات میں ایک نئے عالمی نظام نے وجود میں آنا ہے۔ اقبال کے الفاظ میں،
کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ!
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ!
اس جلوہ بے پردہ کو پردہ میں چھپا دیکھ!
ایام جدائی کے ستم دیکھ جفا دیکھ!
بیتاب نہ ہو معرکہ بیم و رجا دیکھ!

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here