ٹرمپ کا مڈ ٹرم الیکشن تک ایران جنگ جاری رکھنے کا عزم انسانیت کیلئے لمحۂ فکریہ!!!

0
5

ٹرمپ کا مڈ ٹرم الیکشن تک
ایران جنگ جاری رکھنے کا عزم
انسانیت کیلئے لمحۂ فکریہ!!!

ٹرمپ کا یہ حالیہ دعویٰ دنیا کے سامنے جمہوریت، اقتدار اور عالمی تنازعات کے نادیدہ بندھنوں کو طشت ازبام کر چکا ہے، جس میں ایک بین الاقوامی جنگ کی میعاد کو میدان جنگ کی صورت حال کے بجائے امریکی مڈ ٹرم انتخابات کے طے شدہ کیلنڈر سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ جب کوئی سربراہِ مملکت کھلے عام یہ کہے کہ ایران کے ساتھ جاری تصادم کا خاتمہ انتخابات کے فوری بعد ممکن ہو جائے گا، تو یہ سوال اٹھنا ناگزیر ہو جاتا ہے کہ کیا انسانی جانوں کا ضیاع، خون ریزی اور معاشی تباہی محض سیاسی شطرنج کی بازی پر بچھے ہوئے پیادے ہیں؟ عالمی امور کے مبصرین اور کالم نگاروں کے لیے یہ جملہ صرف ایک بیان نہیں بلکہ ایک ایسا المیہ ہے جس نے طاقت اور اختیار کی بنیادوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ یہ صورت حال اس تلخ حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ اکیسویں صدی کے طاقتور ترین ایوانوں میں امن کی بحالی، دشمن کو مفلوج کرنے یا جغرافیائی توازن قائم کرنے سے زیادہ اندرونی سیاسی مصالح اور ووٹروں کو متوجہ کرنے کی تدبیروں کے تابع ہو چکی ہے۔
اس منظر نامے کے پس منظر میں عوامی پذیرائی اور معاشی دباؤ کا اشاریہ بھی انتہائی تشویش ناک حقیقت بیان کر رہا ہے۔ بین الاقوامی سروے کے مطابق امریکی عوام میں اس جنگ کی حمایت کی شرح سینتیس فیصد سے گر کر اکتیس فیصد پر آ چکی ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام اس جاری تنازع کی افادیت پر مسلسل شک و شبہے کا اظہار کر رہے ہیں۔ تاہم عوام کی اس گھٹتی ہوئی دلچسپی کے باوجود میدان جنگ کو گرم رکھنا اور پھر اسے نومبر تین کے بعد اچانک ختم کر دینے کا اعلان کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوامی رائے کو سیاسی مفادات کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب برنٹ خام تیل کی عالمی قیمتوں کا سو ڈالر فی بیرل کی خطرناک سطح کو عبور کر جانا محض معاشی اعداد و شمار کا کھیل نہیں ہے، بلکہ اس کا براہِ راست اثر دنیا بھر کے عام شہریوں پر پڑ رہا ہے۔ ایندھن، خوراک، ہوائی سفر اور روزمرہ کی بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قیمتیں یکسر بلند ہو رہی ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جنگ کے شعلے صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کے معاشی اثرات عام انسان کے باورچی خانے اور جیب تک پہنچ چکے ہیں۔
اس تمام تر سیاسی و معاشی گھماؤ میں اگر ایک طرف امریکی انتظامیہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے کیلنڈر کا سہارا لے رہی ہے تو دوسری جانب مخالف فریق پر بھی یہی الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ امریکی سیاسی ایوانوں کے نتائج کو متاثر کرنے کے لیے مذاکرات کی رفتار کو جان بوجھ کر سست کر رہا ہے۔ یعنی دو حکومتیں، ایک ہولناک جنگ اور دونوں کی نظریں ایک ہی ملک کی سیاسی تاریخ پر جمی ہوئی ہیں۔ یہ کوئی میدانِ جنگ کی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک ایسا بساطِ سیاست ہے جس کی میعاد کا تعین کسی معاہدے یا فتح سے نہیں بلکہ انتخاب کی تاریخ سے ہو رہا ہے۔ لیکن عالمی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جب سیاسی مقاصد کے لیے بین الاقوامی تنازعات کی میعاد طے کی جاتی ہے تو دنیا کے دیگر خطے خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھتے۔ الجزیرہ کی حالیہ اطلاعات کے مطابق حوثی ملیشیا کے حملوں کے جواب میں پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی دفاعی معاہدے کے فعال ہونے کے امکانات نمایاں ہو رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی بساط پر نئی صف بندیاں جنم لے رہی ہیں۔ واشنگٹن میں سیاسی کھلاڑی اگر ووٹوں کے حساب کتاب میں مصروف ہیں تو دوسری طرف خلیج کی سرزمین پر جغرافیائی اور سیاسی اتحاد خاموشی سے نئے قالب میں ڈھل رہے ہیں۔
سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انتخابی کیلنڈر کی یہ منطق واقعی طے شدہ وقت کے مطابق کام کر سکے گی یا دنیا کا معاشی اور علاقائی توازن اس سے پہلے ہی شل ہو جائے گا۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق اس کھیل کے تین ممکنہ نتائج نکل سکتے ہیں۔ پہلا راستہ یہ ہے کہ تمام تر کشیدگی کو محدود رکھتے ہوئے، کنٹرول شدہ کارروائیوں کے ذریعے وقت گزارا جائے اور انتخابات کے فوراً بعد جنگ بندی کا اعلان کر دیا جائے، بالکل اسی طرح جیسے طے کیا گیا ہے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ مخالف فریق اس سیاسی کیلنڈر کو تسلیم کرنے سے انکار کر دے اور کشیدگی کا گراف اس حد تک بلند ہو جائے کہ واشنگٹن کے پاس قبل از وقت قدم پیچھے ہٹانے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہے۔ اور تیسرا سب سے خوفناک راستہ یہ ہے کہ عالمی معیشت تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور افراطِ زر کے بوجھ تلے دب کر پہلے ہی دم توڑ دے، اور عوام انتخابات سے قبل ہی سڑکوں پر نکل کر فیصلے کو بدلنے پر مجبور ہو جائیں۔ ان تمام تر حالات میں معصوم شہریوں کی بقا اور عالمی استحکام داؤ پر لگا ہوا ہے اور وقت کی ٹک ٹک یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ اقتدار کی خواہش اور عوام پر مسلط کی جانے والی ان جنگوں کا اصل تاوان ہمیشہ عام انسان ہی ادا کرتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here