بھارتی تھیٹر کی دنیا میں اسٹیج ڈرامہ ”جانے پہچانے، انجانے” ایک ایسی پیشکش کے طور پر سامنے آیا ہے جو انسانی رشتوں، جذبات، تنہائی اور زندگی کے بدلتے رنگوں کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے اس ڈرامے کی سب سے بڑی کشش معروف اداکار انوپم کھیر کی شاندار اسٹیج اداکاری ہے جو اپنی پُر اعتماد آواز، برجستہ مکالموں اور جذباتی اظہار سے ناظرین کو مسلسل اپنی گرفت میں رکھتے ہیں۔ انوپم کھیر کا شمار بھارتی سینما اور تھیٹر کے اُن فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے مختلف النوع کرداروں کو اپنی منفرد اداکاری سے یادگار بنایا ”جانے، پہچانے انجانے” میں بھی ان کی فنکارانہ صلاحیت بھرپور انداز میں سامنے آئی ہے اسٹیج پر اُن کی موجودگی نہ صرف ڈرامے کو توانائی بخشتی ہے بلکہ ان کے جذباتی پہلوئوں کو بھی ناظرین تک مؤثر طریقے سے پہنچاتی ہے۔ پچھلے دنوں اسٹار پروموشن کے راجندر سنگھ نے اپنے دیرینہ دوست انوپم کھیر کیساتھ یہ اسٹیج ڈرامہ ہیوسٹن میں اسٹفورڈ سینٹر میں پیش کیا جو ہر اعتبار سے ایک لازوال ڈرامہ ثابت ہوا اور ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور لوگوں نے جس طرح تمام فنکاروں کی اداکاری کو سراہا وہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ ڈرامے کا عنوان ہی اپنے اندر ایک گہرا مفہوم رکھتا ہے ان رشتوں اور انسانوں کی کہانی محسوس ہوتا ہے جو بظاہر ہمارے لیے جانے پہچانے ہوتے ہیں مگر وقت گزرنے کیساتھ ان کی شخصیت اور ان کے جذبات کے نئے پلوئوں کو سامنے لاتے ہیں یہی کیفیت ڈرامے کو عام تفریح سے آگے لے جا کر انسانی زندگی کا آئینہ بنا دیتی ہے۔ انوپم کھیر کی اداکاری کی خاص بات یہ ہے کہ وہ سنجیدہ جذبات کو بھی فطری انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے مکالموں کی ادائیگی، چہرے کے تاثرات، اور اسٹیج پر حرکات و سکنات کردار میں حقیقت کا رنگ بھر دیتی ہے۔ کہیں ان کی اداکاری ناظرین کو مُسکرانے پر مجبور کر دیتی ہے تو کہیں یہی فنکارانہ انداز ایک گہری خاموشی اور سوچ کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ اس تھیٹر میں روایتی خوبصورتی بھی نمایاں نظر آتی ہے جہاں اداکار اور ناظر کے درمیان براہ راست تعلق قائم ہوتا ہے، فلم کے برعکس اسٹیج پر اداکار کو ہر لمحہ اپنی اداکاری کے ذریعے سامعین کی توجہ برقرار رکھنی پڑتی ہے اور انوپم کھیر اس امتحان میں ایک تجربہ کار اور پُر اعتماد فنکار کے طور پر نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ ”جانے، پہچانے، انجانے” کی کامیابی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ ڈرامہ محض ایک کہانی سنانے کے بجائے ناظرین کو اپنے ذاتی رشتوں اور زندگی کے تجربات پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انوپم کھیر کی پُر اثر اداکاری اس احساس کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔ تھیٹر کے شائقین کیلئے پیشکش اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ ثابت کرتی ہے کہ مضبوط کہانی، عمدہ مکالمے اور ایک تجربہ کار اداکار کی فنکارانہ گرفت آج بھی اسٹیج کو زندہ اور مؤثر ذریعہ اظہار بنا سکتی ہے۔ انوپم کھیر اور ان کی ساتھی اداکارہ سُپرا کی موجودگی اس اسٹیج ڈرامے کو ایسی اسٹیج پیشکش میں تبدیل کر دیتی ہے جس میں فن، جذبات اور انسانی زندگی کی حقیقتیں ایک ساتھ دکھائی دیتی ہیں یہی اس ڈرامے کی اصل طاقت اور اس کی سب سے بڑی کشش ہے ڈرامہ کا ایک بہت ہی خوبصورت ڈائیلاگ جو دل کے اندر گُھس گیا وہ یہ تھا کہ خاتون پودوں کو پانی دے رہی ہیں اور انوپم کھیر ان سے پوچھتے ہیں کہ آپ کتنے دن پانی استعمال کرتی ہیں نہاتی نہیں ہیں اس پر وہ کہتی ہیں کہ انسان اگر تین دن نہ نہائے تو مرتا نہیں ہے مگر پودوں کو پانی نہ دیا جائے تو وہ مر جاتے ہیں اس پر پورا ہال تالیوں سے گُونج اُٹھا۔ بہت عرصہ کے بعد بہت ہی معیاری ڈرامہ دیکھنے کو ملا راجندر سنگھ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ہیوسٹن کے لوگوں کو اس طرح کے معیاری پروگرام دکھانے کیلئے جو مدتوں یاد رکھا جائیگا۔
٭٭٭














