محبت و عقیدت!!!

0
8
رعنا کوثر
رعنا کوثر

محبت و عقیدت!!!

قارئین کرام! ماہ ربیع الاول گزرنے والا ہے۔ اس ماہ میں ہم دل سے خوشی محسوس کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیارے نبی کو اس دنیا میں بھیجا جو ہمارے لیے انتہائی خیر و برکت کا باعث ہے۔ اسی لیے اس مہینے میں مسلمان درود و سلام پڑھنے کا بے حد اہتمام کرتے ہیں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور کی جانے والی ایک نہایت اعلیٰ اور اشرف درجے کی دعا ہے جو رسول اللہ کی ذات سے اپنی ایمانی وابستگی کے اظہار کے لیے آپ کے حق میں کی جاتی ہے۔ اس کا حکم ہم بندوں کو خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن پاک میں دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہماری اس مادی دنیا میں پھلوں اور پھولوں کو الگ الگ رنگتیں دی ہیں اور ان میں مختلف قسم کی خوشبوئیں رکھی ہیں، اسی طرح مختلف عبادات اور اذکار کے بھی الگ الگ خواص اور برکات ہیں۔ درود شریف کی امتیازی خاصیت یہ ہے کہ خلوص دل سے اس کی کثرت اللہ تعالیٰ کی خاص نظرِ رحمت، رسول اللہ کے روحانی قرب اور آپ کی خصوصی شفقت و عنایت کا وسیلہ بنتی ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ درود و سلام اگرچہ بظاہر رسول اللہ کے حق میں اللہ تعالیٰ سے ایک دعا ہے، لیکن جس طرح کسی دوسرے کے لیے دعا کرنے کا اصل مقصد اس کو نفع پہنچانا ہوتا ہے، اس طرح رسول اللہ پر درود و سلام بھیجنے کا مقصد آپ کی ذات کو نفع پہنچانا نہیں ہوتا۔ ہماری دعاؤں کی آپ کو قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ جس طرح اللہ کا ہم پر یہ حق ہے کہ ہم اس کی عبادت کریں اور اس سے اللہ کو کوئی نفع نہیں پہنچتا بلکہ یہ ہماری اپنی ضرورت ہے جس سے ہمیں سکون ملتا ہے اور ہم اللہ سے مانگ کر اپنے لیے ہی نفع کما رہے ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح رسول اللہ کے کمالات، آپ کی پیغمبرانہ خدمات اور امت پر آپ کے عظیم احسانات کا یہ تقاضا اور حق ہے کہ ہم آپ پر عقیدت، محبت اور وفاداری کا نذرانہ پیش کریں۔
اسی لیے درود و سلام کا یہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے اور اس سے ہماری اپنی ذات کو یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کا ثواب حاصل ہوتا ہے نیز ہمارے پیارے نبی کا روحانی قرب بھی میسر آتا ہے۔ اس کو پڑھنے کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ آپ کی نظرِ عنایت ہم پر بھی ہو جائے، اور پھر یہ بھی ایک عجیب خوشی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا بھیجا ہوا یہ تحفہ اپنے رسول تک فرشتوں کے ذریعے پہنچواتے ہیں۔
ان تمام باتوں سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ درود کی بے انتہا اہمیت ہے اور صرف خاص اس مہینے میں ہی نہیں بلکہ ہمیں ہمیشہ ہی اس کا ورد کرتے رہنا چاہیے۔ اس کی سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ اس سے شرک کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے محترم ہستیاں انبیاء کرام ہیں اور ان میں سب سے افضل حضرت محمدۖ ہیں۔ جب ان کے بارے میں بھی یہ حکم دے دیا گیا کہ ان پر درود بھیجا جائے یعنی اللہ کی رحمت ان کے لیے مانگی جائے، تو معلوم ہوا کہ وہ بھی اللہ کی رحمت اور نظرِ کرم کے محتاج ہیں اور ان کے لیے اللہ سے اعلیٰ سے اعلیٰ دعائیں کی جانی چاہئیں۔ اس کے بعد شرک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اللہ کا بے حد کرم ہے کہ اس کے اس حکم نے ہم گناہ گار بندوں کو نبیوں کا دعا گو بنا دیا، اور جو بندہ ان عظیم ہستیوں کا دعا گو ہو وہ بھلا کسی اور مخلوق کا پرستار کیسے ہو سکتا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here