ابھی بھی وقت ہے…سنبھل جائو!!!

0
6
جاوید رانا

ہم نے اپنے گزشتہ کالم کا اختتام اس رائے پر ختم کیا تھا کہ اگر درحقیقت نظام کو ری سیٹ کرنا ہے تو اصل حکمرانوں کو این ایف سی کو صوبائی فنانشل کمیشن تک گرانٹ منتقل اور شفاف انتخابات کروا کر اختیارات کی بنیادی سطح تک منتقلی ہی بہتر راستہ ہو سکتا ہے۔ حالات جس رُخ پر جا رہے ہیں، یہ اندازہ تو منطقی نظر آرہا ہے کہ صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے صوبوں کی گرانٹ پر اختیارات کو ختم یا کم کرتے ہوئے نچلی سطح تک لے جانے کا اصولی فیصلہ تو کر لیا گیا ہے لیکن نظام کی شکل یا ایوب خان کی بنیادی جمہوریت یا پھر پرویز مشرف کے مضبوط لوکل باڈیز کا احیاء بشمول انتظامی و عملی اختیارات ہوگا۔ بادیٔ النظر میں تو یہ نظام بہتر نظر آتا ہے لیکن پس پردہ یہ کہانی اُن ادوار کا ری پلے نظر آرہا ہے جو ایوب خان اور پرویز مشرف کی خود مختاری و اقتدار کے مظہر رہے اور ڈنڈے سوٹے کے ذریعے چلتے رہے اور جمہوریت آمریت کی لونڈی بنی رہی۔
حالات جس رُخ پر گامزن ہیں اور مقتدر حلقوں کے ایجنڈے پُر محسن نقوی کا صوبوں کی تقسیم سے شروع ہونے والا فارمولا انتظامی یونٹس اور مضبوط بلدیاتی اداروں تک پہنچا ہے، اس نے باالخصوص ان دو سیاسی خاندانوں کو جو 40 برسوں سے کسی نہ کسی طرح اقتدار کے مزے لُوٹتے رہے اور اسٹیبلشمنٹ کی کسی نہ کسی طرح سہولتکاری کرتے رہے ہیں مجوزہ نظام کے نتیجے میں اپنے انجام اور جے ثباتی سے خوفزدہ ہو کر دیا ہے تو ایم کیو ایم جیسی جماعتیں اور ایسے سیاستدان جو مقتدرہ کے بل پر اپنا وجود برقرار رکھتے ہیں متذکرہ فارمولے کے حق میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں۔ ان حالات میں ہمارا تجزیہ یہی ہے کہ مقتدرہ کا سوچا سمجھا منصوبہ تکمیل کو پہنچنا طے ہو چکا ہے، الیکشن کمیشن کا اپنے ڈویژنل کمشنرز کو انتخابی ڈیٹا اور بنیادی تفصیلات کو اپڈیٹ کرنے کا حکم ہمارے تجزئیے کو تقویت دیتا ہے کہ منصوبے کی تکمیل جلد کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ اس حوالے سے میڈیا خصوصاً مقتدرہ کے مخصوص اینکرز و تجزیہ کاروں کے نقطۂ نظر اور تبصرے بھی پیش نظر رہیں کہ ہر صورت میں خواہ آئین میں ترمیم کر کے ریفرنڈم ہی سے کرنی پڑے، منصوبے پر جلد عمل ہوگا۔
مقتدرین کا سیاسی و گورننس کے حوالے سے مشن اور عمل تو اپنی جگہ، وطن عزیز میں سیاسی، معاشی، معاشرتی، امن و امان اور حکمرانوں کی عیاشیوں اور مظالم کا جو طوفان برپا ہے اس نے نہ صرف ملک بھر کو ایک ایسی آگ میں دھکیل دیا ہے جس سے کوئی فرد، کوئی شعبہ، کوئی طبقہ محفوظ نہیں ہے۔ ایک جانب عام شہری مہنگائی، عدم تحفظ اور بے سکونی سے ادھ مرا ہو چکا ہے تو دوسری طرف نام نہاد حکمرانوں کی عیاشیاں اور ریاستی وسائل پر ڈکیتی آسمان کو چُھو رہی ہیں۔ روزانہ پیٹرول کی مد میں مہنگائی کے بھوت سے لوگ بنیادی ضروریات و سہولتوں کو بھی ترس رہے ہیں، وزیراعظم صاحب نے موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑی والوں کیلئے ریلیف کے نام پر اونٹ کے منہ میں زیرہ ڈالا ہے لیکن انہیں شاید یہ علم نہیں کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے صرف نقل و حمل ہی نہیں روزی، رزق اور زندگی کی ہر چیز پر اس کے اثرات ہوتے ہیں۔ دوسری طرف وزیر اعظم کی بھتیجی اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہزادی مریم نواز شریف کی عیاشیوں کا سلسلہ تھمنے کانام ہی نہیں لے رہا ہے۔ میڈم کے شاہانہ انداز کا طویل سلسلہ ہے، ابھی حکومت کے جہاز پر بیٹی کی گریجویشن کیلئے ان کے لندن جانے اور اخراجات کا معاملہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ محترمہ کی بیٹی کے نکاح پر اربوں روپے کا ہار دیا جانا موصوفہ کے شاہانہ مزاج کی گواہی دے رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جہاز میں سفر کے ذاتی اخراجات کی ادائیگی کی رسیدوں سے گریز کی طرح ہار کے حوالے سے بھی کوئی حقیقت سامنے نہیں آئیگی کیونکہ وہ سابق وزیراعظم کی بیٹی، موجودہ وزیر اعظم کی بھتیجی اور سب سے بڑے صوبے کی وزیراعلیٰ ہیں، شاید ملک کی کوئی عدالت اور مقتدر اعلیٰ بھی نہ پوچھ سکیں۔
ہم نے گزشتہ سطور میں عرض کیا تھا کہ موجودہ حالات نے وطن کو ایک ایسی آگ میں دھکیل دیا ہے جس سے کوئی فرد، شعبہ یا طبقہ محفوظ نہیں۔ موجودہ حالات پر نظر ڈالیں تو ہماری اس تحریر لکھے جانے تک 27 ستمبر کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا اعلان ہو چکا ہے، آئینی و عدالت عظمیٰ میں تین مقدمے جاری ہیں جن کی تفصیل سے آپ یقیناً واقف ہیں، بات یہیں تک نہیں سہیل آفریدی کے دورۂ لاہور کا احوال بھی آپ تک پہنچ چکا ہوگا، ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کیساتھ دوسرے صوبے میں جو دشمنانہ اور غیر انسانی سلوک کیا گیا اسے کسی طرح بھی سراہا نہیں جا سکتا۔ 700 افراد و کارکنان کی گرفتاری، خواتین پر پولیس کا تشدد اور سہیل آفریدی کا احتجاجاً پولیس وین میں بیٹھنا، کسی مہذب معاشرے کی تصویر کہلا سکتی ہے؟ ہر گز نہیں، ہماری ریاست یا نام نہاد جمہوریت کے ٹھیکیداروں کے پاس اس کا کوئی جواز یا جواب ہے۔ حالات تو یہی بتاتے ہیں کہ نفرتوں کی آگ یونہی جلتی رہے گی۔
ظلم بڑھتا رہا تو ایک دن مٹ جائیگا
تم یہ مانو نہ مانو مگر ہوجائیگا
٭٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here