کینیڈا نے غیر ملکی طلبہ کیلئے مستقل رہائش کا پروگرام ختم کر دیا، ہزاروں بھارتی متاثر

0
9

ٹورنٹو (پاکستان نیوز)کینیڈا کے صوبے مانیٹوبہ نے بین الاقوامی گریجویٹس کے لیے امیگریشن کا ایک انتہائی مقبول راستہ فوری طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد اب صرف تعلیمی ڈگری کی بنیاد پر مستقل رہائش کا حصول ممکن نہیں رہے گا۔ مانیٹوبہ صوبائی نامزدگی پروگرام نے اپنے انٹرنیشنل ایجوکیشن اسٹریم کے تحت چلنے والے کیریئر ایمپلائمنٹ پاتھ وے کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے جس کا مقصد امیگریشن کے نظام کو لیبر مارکیٹ کی مقامی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ اس اچانک فیصلے کے بعد اب مانیٹوبہ کے تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے غیر ملکی طلبہ کو مستقل رہائش کی اہلیت حاصل کرنے کے لیے کم از کم 6 ماہ کا مسلسل کل وقتی کام کا تجربہ اور ایک طویل مدتی ملازمت کی پیشکش دکھانا لازمی ہوگا۔ اب تک اس پروگرام کے تحت طلبہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے فوراً بعد مطلوبہ شعبوں میں صرف ملازمت کا معاہدہ حاصل کر کے براہ راست مستقل رہائش کے لیے درخواست دینے کے اہل ہو جاتے تھے لیکن اب ان کی ترجیحات تبدیل کر دی گئی ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق مانیٹوبہ میں موجودہ ملازمین کو ہدف پر مبنی قرعہ اندازی کے ذریعے ترجیح دی جائے گی تاہم سیلف ایمپلائمنٹ یا دوران تعلیم حاصل کیا گیا تجربہ اس 6 ماہ کی مدت میں شمار نہیں کیا جائے گا۔ اس نئی پالیسی سے کینیڈا میں مقیم ہزاروں غیر ملکی طلبہ بالخصوص بھارتی شہری بری طرح متاثر ہوں گے جو مانیٹوبہ کے سستے رہائشی اخراجات اور یونیورسٹیوں کی وجہ سے وہاں مقیم ہیں اور مجموعی امیگریشن کا 33.1 فیصد حصہ بنتے ہیں۔ دوسری جانب ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کرنے والے ان طلبہ کے لیے گریجویٹ انٹرنشپ پاتھ وے اب بھی تبدیل رہے گا جنہوں نے مخصوص تحقیقی انٹرنشپ مکمل کی ہو۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here