نیویارک (پاکستان نیوز) امریکہ میں شدت پسندی اور دہشت گردی کی معاونت کے الزامات میں نوجوانوں کی گرفتاریاں ایک بار پھر بین الاقوامی میڈیا اور سیکورٹی اداروں کی توجہ کا مرکز بن چکی ہیں۔ حالیہ دنوں میں کیلیفورنیا سے لے کر نیو جرسی تک مختلف امریکی ریاستوں سے مسلم نوجوانوں کو ممنوعہ اور خطرناک غیر ملکی تنظیموں کی مدد کرنے اور ملک کے اندر پرتشدد کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب قانون نافذ کرنیوالے وفاقی ادارے اور عوامی نمائندگان داخلی سلامتی کے حوالے سے مسلسل تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ملکی ایوانِ نمائندگان کی مختلف کمیٹیوں کی جانب سے جاری کردہ حالیہ جائزوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا بھر میں پھیلی دہشت گرد تنظیموں کا نیٹ ورک انٹرنیٹ کے ذریعے مقامی آبادی، خصوصاً نوجوان نسل کو گمراہ کرنے اور انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں سرگرم ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، امریکی وکلاء استغاثہ کم و بیش پچیس مختلف ریاستوں میں ایسے مقدمات کی پیروی کر رہے ہیں جہاں مقامی شہریوں پر غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی نظریاتی یا مالی مدد کرنے کا سنگین الزام عائد ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جدید تکنیکی دور میں دور دراز علاقوں میں مقیم تخریب کار کس طرح مقامی معاشروں کے اندر سرایت کر کے نوجوانوں کی سوچ کو تبدیل کر رہے ہیں اور انہیں اپنے ہی وطن کے خلاف ہتھیار اٹھانے یا مالی وسائل فراہم کرنے پر آمادہ کر رہے ہیں۔ حالیہ واقعات میں سب سے نمایاں کارروائی نیو جرسی کے علاقے وین میں دیکھنے میں آئی جہاں ایک بائیس سالہ نوجوان محمد ساغہ کو وفاقی اداروں نے اس وقت دھر لیا جب اس کے بارے میں ٹھوس شواہد موصول ہوئے کہ وہ عراق اور شام میں سرگرم ایک بدنام زمانہ دہشت گرد گروہ کے ساتھ رابطے میں تھا اور اسے مادی و تکنیکی امداد فراہم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ عدالتی دستاویزات اور تفتیشی اداروں کے مطابق، مذکورہ نوجوان گزشتہ چھ ماہ سے انٹرنیٹ پر ایسے خفیہ حلقوں کا حصہ تھا جہاں تخریب کاری کی کارروائیوں اور ممکنہ اہداف پر بات چیت کی جاتی تھی۔ اس کارروائی کی سب سے تشویشناک بات یہ تھی کہ اس نوجوان نے انٹرنیٹ پر موجود قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ایک خفیہ اہلکار کو، جسے وہ غلطی سے دہشت گرد تنظیم کا رکن سمجھ بیٹھا تھا، امریکی حدود کے اندر واقع عبادت گاہوں اور قومی محافظوں کے مراکز پر حملے کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس نے اپنے رہائشی علاقے کے قریبی مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کیں تاکہ انہیں نشانہ بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ اس نے رواں سال مارچ 2026 میں شام کے جنگ زدہ علاقوں کی طرف سفر کرنے کی بھی کوشش کی تاکہ وہ وہاں جا کر اس گروہ کا باقاعدہ حصہ بن سکے، مگر وہ اس میں ناکام رہا۔ وفاقی وکلاء کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر جو ملک کے اندر خوف و ہراس پھیلانے اور معصوم شہریوں یا عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کے خواب دیکھ رہے ہیں، انہیں قانون کے فولادی ہاتھوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں بیس سال تک قید اور بھاری جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اسی نوعیت کا ایک اور وسیع نیٹ ورک کینساس اور کیلیفورنیا میں بے نقاب ہوا ہے جہاں اکیس سے پچیس سال کی عمر کے تین نوجوانوں کو سنگین سازش کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ ان نوجوانوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک طویل عرصے کے دوران باہم مل کر انٹرنیٹ کے مختلف خفیہ ذرائع سے نہ صرف دہشت گردی کے نظریات کی تشہیر کی بلکہ ایک ایسے شخص کو مالی رقم بھی منتقل کی جسے وہ غیر ملکی تخریب کار تنظیم کا اہم کارندہ سمجھ رہے تھے۔ ان نوجوانوں کے مابین ہونے والی گفتگو اور پیغامات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ ملک کے اندر اور بیرونِ ملک موجود فوجی اہلکاروں اور شہریوں کو جانی نقصان پہنچانے کے شدید خواہش مند تھے۔ تفتیش کے دوران یہ ہولناک انکشافات بھی سامنے آئے کہ ان میں سے ایک نوجوان نے بیرون ملک داغے جانے والے ایک میزائل پر اپنا نام لکھنے کی خواہش ظاہر کی تاکہ اس کے ذریعے فوجیوں کو نشانہ بنایا جا سکے، جبکہ دوسرے نے جدید خودکار اڑنے والے آلات یعنی ڈرون طیاروں کی خریداری کے لیے مالی وسائل فراہم کیے تاکہ ان کے ذریعے بیرونِ ملک تعینات فورسز پر حملے کیے جا سکیں۔ ان نوجوانوں نے انٹرنیٹ کے مختلف سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر اس تنظیم کے سربراہ کے وفاداری کے حلف بھی اٹھائے اور مسلسل سولہ ماہ تک اس سازش کو پروان چڑھاتے رہے۔ وفاقی دارالحکومت اور دیگر ریاستوں کے تفتیشی اداروں کی مشترکہ کوششوں سے اس نیٹ ورک کو وقت پر توڑ دیا گیا، ورنہ یہ مادی اور مالی امداد کسی بڑے جانی نقصان کا سبب بن سکتی تھی۔ طویل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے ادارے شہریوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دہشت گردی اب کسی دور دراز ملک کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ اب معاشرے کے اندر موجود بعض گمراہ عناصر کی شکل میں ہمارے دروازوں تک پہنچ چکی ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انٹرنیٹ اور جدید مواصلاتی نظام نے جہاں دنیا کو قریب کیا ہے، وہاں تخریب کاروں کو یہ موقع بھی فراہم کیا ہے کہ وہ کسی بھی ملک میں بیٹھ کر دنیا کے دوسرے کونے میں موجود نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر گھول سکیں۔ کینساس کے وفاقی وکیل نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان پوشیدہ خطرات سے نمٹنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ معاشرے کا ہر فرد بیدار رہے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع حکام کو دی جائے۔ مختلف ریاستوں کی پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ادارے اب مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کام کر رہے ہیں کیونکہ ایسے نیٹ ورک کسی ایک جغرافیائی حد تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ان کے ڈانڈے مختلف ریاستوں اور ممالک سے جڑے ہوتے ہیں۔ یہ گرفتاریاں اس وقت عمل میں آئی ہیں جب بین الاقوامی سطح پر بھی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں، جیسا کہ گزشتہ سال دسمبر 2025 میں شام کے اندر بعض مقامات پر فضائی حملے کیے گئے تھے اور حال ہی میں افریقی خطے میں بھی ایک اہم شدت پسند رہنما کو ہلاک کیا گیا تھا۔ ان تمام حالات کے تناظر میں، داخلی سطح پر نوجوانوں کی کڑی نگرانی اور ان کے آن لائن رجحانات پر نظر رکھنا ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ عسکری اور سول ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے صرف عسکری قوت کافی نہیں بلکہ نظریاتی سطح پر بھی ان گمراہ کن خیالات کا مقابلہ کرنا ضروری ہے جو نوجوان نسل کو تباہی کی راہ پر گامزن کر رہے ہیں۔












