لاچار شادی زدہ مرد!!!

0
5
سید کاظم رضوی
سید کاظم رضوی

محترم قارئین کرام! آپ کی خدمت میں سید کاظم رضا نقوی کا سلام پہنچے۔ مضمون کا موضوع پڑھ کر آپ بھی چونک چکے ہوں گے لیکن یہ حیرت زیادہ دیر نہیں رک سکتی جب آپ مرد کی مجبوری کا احوال مندرجہ ذیل کہانی میں پڑھیں گے جو ایک آپ بیتی ہے، کوئی گھڑا ہوا افسانہ نہیں ہے۔ نام و مقام بدل دیا گیا ہے اور اس واقعہ کی مماثلت کسی کی زندگی سے اتفاقیہ ہوگی۔
شاید میری بیوی میرا قتل کر دے۔ میں نے آج سے 14 سال پہلے اپنی وائف سے محبت کی شادی کی تھی۔ ہماری فیملیز ہمارے خلاف تھیں، میں نے اپنی وائف کی خاطر اپنی فیملی کو چھوڑ دیا، اپنے پورے خاندان سے کٹ گیا اور اپنے ماں باپ سب سے ملنا چھوڑ دیا کیونکہ میری وائف کو انہوں نے عزت نہیں دی تھی اور میری وائف ان کو قبول نہیں تھی۔ اس لیے میں نے ان سے تعلق ختم کر دیا۔ میں نے اور میری وائف نے مل کر بہت محنت کی۔ شادی کے ٹائم پہ ہمارے پاس ایک پیسہ نہیں تھا، ہم نے اپنی پسند کی شادی کی تھی اور کسی نے ہمیں کوئی سپورٹ نہیں کیا تھا مگر بہت جلد ہم نے محنت کر کے اپنا گھر بنایا، گاڑی خریدی اور زندگی کی تمام سہولیات خرید لیں۔ اللہ نے ہمیں تین خوبصورت بچوں سے نوازا جن میں دو بہت پیاری بیٹیاں ہیں جو کہ بالکل میری جان ہیں۔
مگر ان سب باتوں کے علاوہ ایک چیز جو میں شیئر کرنا چاہوں گا وہ میری وائف کا غصہ ہے۔ شادی سے پہلے سے ہی مجھے کافی لوگوں نے سمجھایا کہ اس لڑکی کا غصہ بہت خراب ہے، یہ غصے کے وقت بالکل پاگل ہو جاتی ہے اور اسے کچھ نظر نہیں آتا مگر میں نے یہ سوچا کہ انسان ساری زندگی ایک جیسا نہیں رہتا، وقت اور حالات اسے بدل دیتے ہیں اور ضروری نہیں کہ جو شادی سے پہلے غصے کا تیز ہو وہ شادی کے بعد بھی ویسا ہی رہے۔ مگر میری یہ سوچ غلط ثابت ہوئی۔ میری وائف نے شادی کے بعد تھوڑے ہی عرصے میں وہی سب کیا جو وہ شادی سے پہلے کیا کرتی تھیں؛ توڑ پھوڑ، چیخنا چلانا اور گالم گلوچ۔ سوچیں ذرا کہ اگر کوئی وائف اپنے ہسبینڈ کو گالیاں دے اور وہ بھی محبت کی شادی کے بعد، تو اس کے دل پہ کیا گزرے گی؟
میں نے اپنے گھر کے حالات دیکھتے ہوئے ڈبل جاب کی اور اپنے آپ کو گھس دیا۔ میرا یہ ماننا ہے کہ جب ایک مرد اپنے گھر اور اپنی فیملی کے لیے سب کچھ کرتا ہے، اپنی ذات، اپنی خواہش اور اپنی پسند ہر چیز کو مار دیتا ہے، تو بدلے میں اس کو زیادہ کچھ نہیں بس تھوڑی سی عزت چاہیے ہوتی ہے جو کہ مجھے نہیں ملی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں کسی اور لڑکی کی طرف اٹریکٹ ہو گیا کیونکہ جو عزت مجھے اپنے گھر سے چاہیے تھی وہ مجھے وہاں ملی۔ ایک سال تک ہمارا تعلق رہا، ہم فون پر بات چیت کرتے رہے مگر نہ ہم کبھی ملے اور نہ کبھی فزیکل ہوئے۔ اس کے بعد میری وائف کو ہماری بات چیت کا پتہ چل گیا جس کے بعد گھر میں شدید قسم کی لڑائی ہوئی یہاں تک کہ بات طلاق تک پہنچ گئی مگر اللہ کا شکر ہے کہ ہماری طلاق نہیں ہوئی۔
میں کچھ دنوں تک گھر سے باہر رہا مگر پھر اپنی بیٹیوں کا سوچ کر واپس آ گیا کیونکہ میری بیٹیوں میں میری جان بستی ہے۔ مجھے واپس آئے ہوئے دو سال ہو چکے ہیں مگر ان دو سالوں میں میری وائف رتی بھر بھی نہیں بدلی۔ آج بھی اس کا مزاج وہی ہے اور اسے اپنے کیے پہ کبھی کوئی افسوس نہیں ہوا بلکہ اب وہ پہلے سے زیادہ بدتمیز، چڑچڑی اور بد مزاج ہو گئی ہے۔ جب وہ مجھ سے لڑائی کرتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے اس پر جن آ گیا ہو۔ وہ کھانے کے برتن اٹھا کر پھینک دیتی ہے، اکثر تو مجھ پر ہی دے کے مار دیتی ہے اور کتنے ہی موبائل توڑ چکی ہے۔ کبھی روڈ پر تماشے، کبھی شادی بیاہ میں تماشے اور کبھی شاپنگ پر تماشے؛ نہ وہ کسی کی شکل دیکھتی ہے نہ موقع ماحول دیکھتی ہے۔
یقین جانیں میں صرف اپنے بچوں کی وجہ سے اس کے ساتھ ہوں ورنہ اب میری اس میں کسی قسم کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میں اسے ہاتھ تک لگانا نہیں چاہتا، اسے چھونا تک نہیں چاہتا۔ وہ جس کمرے میں ہوتی ہے میں چپ چاپ دوسرے کمرے میں چلا جاتا ہوں۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ میں اس سے صرف ضرورت کے تحت بات کروں۔ ہر قسم کی گالیاں وہ مجھے دے چکی ہے اور ہر قسم کی بددعائیں وہ مجھے دے چکی ہے۔
ظاہر ہے کہ آپ لوگ یہی سوچ رہے ہوں گے کہ کوئی عورت ایسے بلا وجہ تو نہیں کرتی، کوئی نہ کوئی وجہ تو ہوگی۔ تو وجہ صرف اتنی ہی ہے کہ میری بیوی کے اندر برداشت نہیں ہے۔ وہ یہ چاہتی ہے کہ وہ جو چاہے کرے اور اسے کوئی کچھ نہ بولے۔ اگر آپ نے اس کے کسی کام میں عیب نکال دیا یا اسے کچھ بھی کہہ دیا تو اس کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ توڑ پھوڑ، سامان اٹھانا پھینکنا، چیخنا چلانا، گالم گلوچ اور بددعائیں؛ پورے گھر کا ماحول خراب ہو جاتا ہے۔ سب سے زیادہ دکھ مجھے اپنی بچیوں کا ہے کہ وہ بے انتہا ڈر جاتی ہیں اور رونے لگ جاتی ہیں۔
میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا کروں اور اب تو وہ صاف کہتی ہے کہ اگر تم نے یہاں سے جانے کی کوشش بھی کی تو میں تمہیں زندہ جانے نہیں دوں گی، یا تو میں تمہیں مار دوں گی یا میں ان تینوں بچوں کو مار کر خود جیل چلی جاؤں گی یا خودکشی کر لوں گی۔ جو اس کی حالت ہوتی ہے اس وقت، اسے دیکھ کر مجھے 100 فیصد یقین ہے کہ وہ ایسا بالکل کر سکتی ہے۔ میں بہت بری طرح سے پھنس چکا ہوں۔ میں اس کے گھر والوں سے بھی سو دفعہ بات کر چکا ہوں مگر کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ اب مجھے سب یہی کہتے ہیں کہ تم نے اپنی پسند سے شادی کی تھی اور تمہیں پتہ ہی تھا کہ اس کا مزاج ایسا ہے، اس لیے اب برداشت کرو۔
اب تو ذرا سی کوئی بات ہوتی ہے تو وہ ہاتھ میں چھری یا کینچی لے کر کھڑی ہو جاتی ہے اور بالکل ایسا لگتا ہے کہ جیسے یا تو وہ خود کو مار لے گی یا مجھے مار دے گی۔ اتنا سب کچھ کرنے کے بعد، یقین جانیں، دو منٹ کے بعد وہ ایسے ہو جاتی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔ وہ آ کر سوری کر لیتی ہے اور کہتی ہے کہ جو ہوا اسے ختم کرو اور بھول جاؤ۔ شروع شروع میں مجھے لگتا تھا کہ شاید وہ کسی بات سے پریشان ہے اس لیے میں بھی اسے معاف کر دیا کرتا تھا اور گھر کا ماحول ٹھیک رکھنے کی کوشش کرتا تھا مگر اب میرے لیے برداشت کرنا بالکل ناممکن ہو گیا ہے۔
روز روز کی لڑائی، چڑچڑا پن، گالم گلوچ، توڑ پھوڑ، چیخنا چلانا اور بددعائیں دینا کہ مرتا کیوں نہیں ہے، کسی گاڑی کے نیچے آ کے مر جا، ٹرک کے نیچے آ جا؛ میرے بچوں کے سامنے اس طرح کی باتیں کی جاتی ہیں۔ پھر مجھے میرا افیئر یاد دلانا، ہر بات کے بیچ میں چاہے وہ کسی قسم کی بھی بات ہو فورا میرا افیئر بیچ میں لے آتی ہے۔ میرے بچوں کے سامنے الٹی سیدھی گندی باتیں کرتی ہے کہ تو نے رنگ رلیاں منائی ہیں، تیرا کردار خراب ہے۔ میرا بیٹا 13 سال کا ہے اور میری دو چھوٹی بچیاں ہیں جو سب سمجھتی ہیں۔ سوچیں ذرا کہ میرے دل پہ کیا گزرتی ہوگی!
محترم قارئین! اس کہانی کو پڑھ کر مجھے افسوس ہوا کیونکہ بچوں کی خاطر ماں کی قربانی کو ہر شخص مانتا ہے اور سراہتا ہے لیکن باپ کی قربانیوں کا تذکرہ کم ہی ہوتا ہے۔ اس وجہ سے کوئی بھی شادی شدہ مرد دیکھو، اس کے بیوی بچے دیکھو، تو اس مردِ میدان کو دعائیں دو۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here