فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ
محترم قارئین!١٤٤٨ کا ربیع الثانی غوث اعظم سرکار الشیخ عبدالقادر جیلانی الحسنی والحسینی رضی اللہ عنھم کا مہینہ شروع ہوچکا ہے۔ حضور غوث صمدانی، شہباز لامکانی، قندیل نورانی رضی اللہ عنہ کو محبوب سبحانی ہونے کا مقام بھی حاصل تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو اپنے خداتعالیٰ سے سچا عشق تھا سچی محبت تھی اپنے نانا جان امام الانبیائ، شب اسرٰی کے دولہا حضرت محمد مصطفیٰۖ سے بھی والہانہ عشق اور محبت تھی یہی وجہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے دنیا سے دل نہیں لگایا بلکہ واصل باللہ کا درجہ حاصل کرکے دنیا کو اپنے ساتھ جوڑ لیا۔ اللہ والوں کی یہی نشانی اور علامت ہوتی ہے۔ عشق الٰہی کا دعویٰ تو بہت سارے لوگ کرتے ہیں لیکن یہ نبھانا کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے کیونکہ عشق ومحبت کی کیفیت بڑی سخت ہے اس کا تھوڑا سے بیان حصول برکت وفیضان کے لئے کرتے ہیں۔
عشق طبیعت میں رقت اور دردو سوز پیدا کرتا ہے نفس میں لطافت پیدا کرتا ہے نفس کی مرونی اور اس کی مشقت وکلفت دور ہوجاتی ہے عشق انسان کو مکارم اخلاق پر آمادہ کرتا ہے اور شجاعت وبہادری، کرم وسخا اور مروّت و رقت پیدا کرتا ہے۔ جوارح وجسم میں فروتنی پیدا کرتا ہے عشق شرفا اور معزز لوگوں کے دل کی دوا ہے۔ عشق کی صلاحیت اس میں پیدا ہوتی ہے جو پاک مروّت اور پاکیزہ اخلاق رکھتا ہو۔ پاکیزہ زبان اور کامل احسان رکھتا ہو پاکیزہ ادب اور ممتاز عادات رکھتا ہو۔ عشق بزدل ونامرد کو بہادر اور مرد بنا دیتا ہے۔ غبی کے ذہن کو روشن کر دیتا ہے بخیل کو سخاوت وکرم سکھاتا ہے بادشاہوں کا غرور توڑ دیتا ہے انسان میں اعلیٰ اخلاق پیدا کرتا ہے عشق ان لوگوں کا انیس ہے جن کا دنیا میں کوئی انیس نہیں۔ ان لوگوں کا جلیس ہے جن کا کوئی جلیس نہیں۔ عشق دنیا کی گراں باریوں کو ہلکا کر دیتا ہے۔ قلب کو کدورتوں سے پاک صاف کر دیتا ہے۔ شرفاء کو نیک اعمال وکردار پر ابھارتا ہے عشق کا اظہار طبعی امر ہے اور اس اخفاء سراسر تکلیف ہے عشاق وہ ہیں جو عضیف اور پاکیزہ ہوں عشاق جب عضیف ہوتے ہیں۔ تو بہت بڑے بن جاتے ہیں۔جیسا کہ بعض عشاق سے پوچھا گیا کہ اگر تم اپنے محبوب پر ظفر مند ہو جائو تو کیا کرو؟ جواب دیا کہ اگر میں ظفر مند ہو جائوں تو یہ کروں کہ اس کا منہ دیکھنے سے اپنی آنکھیں نیچی کرلوں۔ اور اس کی یاد اس کی باتوں سے اپنے دل کو خوش کرتا رہوں۔ اور اس کی باتیں جو قابل کشف واظہار نہ ہوں۔ اُن کو مخفی رکھوں اور کوئی بھی ایسی بات مجھ سے سرزونہ ہو جو اس کے درجہ، مرتبہ اور منصب کے خلاف ہو عاشق روحیں لطیف عطر ہیں۔ اُن کے اجسام رقیق اور ہلکے پھلکے ہیں۔ ان کی موانسیت پاکیزہ ہے اُن باتیں مردہ دلوں میں جان ڈال دیتی ہیں۔ اگر عشق ومحبت نہ ہو تو دنیا کی ساری نعمتیں بیکار اور ہیچ ہیں۔ بندوں کے پاس اللہ کی طرف سے جو کچھ پہنچ رہا ہے وہ اس امر کی دعوت دے رہا ہے کہ اللہ ہی سے محبت کی جائے اور جس سے اللہ محبت کرتا ہے اس سے اللہ کی محبت کی وجہ سے محبت کی جائے۔ اللہ کی طرف سے عطیات اور رکاوٹیں، معافات اور ابتلائیں، قبض و بسط، عدل وفضل، مارنا زندہ کرنا، لطف وکرم، رحمت واحسان، ستر پوشی، عفووحلم، اجابت دعا، دفع کرب وتکالیف، مصبت زدوں کی اعانت وامداد اُس کی یہ ساری مہربانیاں ہیں۔
حالانکہ وہ بندوں سے ہر لحاظ سے مستغنی اور بے پرواہ ہے یہ تمام باتیں انسان کو اس امر کی دعوت دے رہی ہیں کہ عبادت ومحبت صرف اللہ ہی کی اور اللہ ہی سے کی جائے۔ پس بندوں کو شرم آنی چاہئے کہ اس شان کے پرورد گار سے وہ اعراض کرتے ہیں اور دوسروں سے محبت کرتے ہیں۔ اور اللہ کے سوا دوسروں کی محبت میں غرق اور محو رہتے ہی۔ نیز یہ کہ مخلوق میں سے کوئی بھی تم سے اس وقت تک بھلائی اور اچھا معاملہ نہیں کرتا جب تک وہ اپنا فائدہ نہ سوچ لے۔ لیکن ربّ العٰلمین کی یہ شان ہے کہ تمہارے ہی فائدہ کے لئے اور تمہاری ہی بھلائی کے لئے تمہارے ساتھ بھلائی اور اچھا معاملہ کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ تمہیں بڑے سے بڑا فائدہ اور اعلیٰ سے اعلیٰ نفع ملے۔ نیکی کرو تو ایک درھم کے عوض دس اور دس سے لے کر سات سو تک اور اس سے بھی زیادہ تمہیں نفع ملے اور اگر گناہ کرو تو ایک کے بدلے میں ایک ہی سزا دے اور توبہ کر لو تو بھی معاف فرما دے۔ جوان، جوانی کے نشہ میں اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی کے کھلیاں کو تباہ وبرباد کرتا ہے۔ اور نشیب وفراز سے بے نیاز ہو کر ہر اس سیہ کاری کو اپنی کامیابیوں اور سرفرازیوں کا مننہا سمجھتا ہے کہ یہ شب ڈھل جانے کے بعد مرتے دم تک ان کی بداعمالیوں کا تخیل بھی اس کو لرزہ براندام اور اشکبار کر دیتا ہے۔ آج کل کے ماحول نے جوانوں کے ہی نہیں بلکہ بوڑھوں کے مزاح میں جوانی کے ولولے زندہ کر رکھے ہیں۔ توبہ کی ہر حال میں ضرورت ہے۔ حضور غوث اعظم سرکار رضی اللہ عنہ نے اپنی جوانی کیا بچپن میں بھی رضاء الٰہی کو ترک نہیں کیا۔اور پیرانہ سالی تو پھر کیا بات ہے آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی مبارکہ کا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے وقف کردیا تھا آپ کی یاد میں ویسے تو ہر مہینہ میں گیارہویں شریف ہوتی ہے ماہ ربیع الثانی شریف کی گیارہ تاریخ کو اور اس پورے مہینہ میں عرس غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی محفلیں سمجھتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے فیوض وبرکات سے ہمیں وافر حصہ عطا فرمائے(آمین ثمہ آمین)۔
٭٭٭٭٭













