لگتا ہے انہوں نے آخر کار توڑ نکال لیا ہے۔ آئین، قانون، عدالتیں، مدت ملازمت اور عہدوں کی مدت سب کچھ اپنی ضرورت اور سہولت کے مطابق ترتیب دے دیا گیا ہے۔ اب بظاہر کوئی ایسا خطرہ باقی نہیں رہا جس سے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کی نیند خراب ہو۔ فیلڈ مارشل کو استثنا حاصل ہے اور آصف علی زرداری بھی استثنا کے حصار میں ہیں۔ زرداری صاحب تو ویسے بھی اپنے اہل خانہ اور قریبی عزیزوں کو بیرون ملک منتقل کرنے کا انتظام پہلے ہی کر چکے ہیں۔ بڑے میاں صاحب بچوں سمیت لندن میں مقیم ہیں، بظاہر شاید ٹیسٹ میچ دیکھنے گئے ہوں مگر ڈاکٹر عدنان بھی ساتھ ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو ایک کتے کے خون کا ٹیسٹ اور طبی سند یہ بتانے کے لیے کافی ہوگی کہ میاں صاحب مزید سفر کے قابل نہیں، لہٰذا وطن واپسی ممکن نہیں۔ زرداری صاحب کی صحت کے بارے میں بھی سب جانتے ہیں کہ شوگر کبھی بھی شوٹ کر سکتی ہے۔ بلاول صاحب ساتھ ہیں، سو اگر وزارت عظمیٰ کی شیروانی نہ سہی دولہے والی شیروانی ہی سہی، تاہم موجودہ حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ دونوں طرح کی شیروانیاں شاید مشکل میں ہیں۔ ادھر پنجاب کی وزیر اعلیٰ بھی لندن جا پہنچی ہیں، باقی شہباز شریف رہ گئے ہیں لیکن ان کی پرواز اور رفتار سے کون واقف نہیں، اشارہ ہوا نہیں کہ ادھر پرواز بھرنے میں دیر نہیں لگتی۔
کچھ عرصہ پہلے تک سب سے بڑا خوف عمران خان تھے، سعد رفیق سمیت کئی لوگوں نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ اگر عمران خان باہر آ گئے تو وہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ شاید اسی خوف نے بہت سے فیصلوں کی سمت متعین کی مگر اب منظرنامہ بدلتا دکھائی دیتا ہے۔ عدالتیں موجود ہیں، آئین موجود ہے، پارلیمان موجود ہے مگر سوال یہ ہے کہ ان سب کی روح بھی وہی باقی ہے یا نہیں؟ مدت ملازمت ہو یا کسی عہدے کی آئینی مدت، ناقدین کا اعتراض یہی ہے کہ قانون کو ضرورت کے مطابق موڑا اور بدلا گیا۔ اب شاید عمران خان کو باہر لانے میں بھی کوئی خطرہ نہیں کیونکہ وہی وہ شخص ہیں جنہوں نے مشکل ترین حالات میں معیشت کا پہیہ چلتا رکھا، کورونا کے دنوں میں صنعت اور کاروبار کو مکمل جمود سے بچایا، برآمدات بڑھائیں اور کسانوں کو بہتر حالات فراہم کیے۔
بیرون ملک پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد آج بھی ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ اگر انہیں سیاسی اور معاشی استحکام کی امید نظر آئے تو یہی پاکستانی ترسیلات زر کے ذریعے ملک میں سرمایہ کاری کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ انہیں ووٹ کا مکمل اور شفاف حق دیا جائے تو وہ ملک کے سیاسی عمل میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ عمران خان کی سب سے بڑی سیاسی طاقت شاید یہی تصور ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد روایتی سیاست کے بجائے کچھ مختلف کرنے کی کوشش کریں گے۔ وہ اب کندن بن چکے ہیں اور ان کے مخالفین بھی کم از کم یہ مانتے ہیں کہ ان پر ذاتی کرپشن کا وہ الزام نہیں لگایا جا سکتا جو پاکستانی سیاست کے کئی دوسرے کرداروں کے ساتھ جڑا رہا ہے، وہ لینے والے نہیں بلکہ لگانے والے ہیں۔
ویسے بھی اب فضا میں کچھ اشارے مل رہے ہیں کیونکہ سیاسی پرندے اڑنے لگے ہیں۔ کچھ لوگ خطرہ بھانپ کر روانہ ہو چکے ہیں اور کچھ شاید اپنے ٹکٹ اور سامان کے ساتھ موقع کے منتظر ہیں۔ خان کی تصویر، نام اور آواز پر پابندی رہی لیکن مزید صوبوں کے موضوع پر خان کا کلپ چلانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اقتدار کی راہداریوں میں خاموشی کبھی کبھی بہت کچھ کہہ رہی ہوتی ہے۔ بس چند روز اور میرے خان چند روز، پردہ اٹھنے والا ہے۔












