قارئین اور عزیزانِ وطن! اسٹیبلشمنٹ اور مقتدرہ کا ذکرِ خیر ان دنوں انتہائی زور پکڑ چکا ہے، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے بنائے ہوئے بت خود ان سے زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ہمارے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر صاحب کو سپریم کورٹ پر حملے کی طرز پر گھیرے میں لے رکھا ہے، جس کے باعث وہ نئے صوبوں کے قیام میں کوئی عملی پیش رفت نہیں کر پا رہے ہیں۔ دوسری جانب عوام کی کامل تائید ان کے ساتھ ہے، کیونکہ عوام کا ماننا ہے کہ موروثی حکمرانی کے ان بتوں کو صرف وہی توڑ سکتے ہیں جو چھبیس کروڑ لوگوں کے وسائل پر قابض ہیں۔
روزانہ مختلف وی لاگز پر بیٹھے ہوئے تجزیہ کاروں اور دانشوروں سے سننے کو ملتا ہے کہ اسلام آباد کو صوبہ بنانے پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے۔ تاہم زبانی جمع خرچ تو بہت ہو رہا ہے لیکن عملی پیش رفت کہیں نظر نہیں آ رہی۔ ذرائع سے یہی معلوم ہو رہا ہے کہ سپاہ سالار فی الحال سیاسی گماشتوں سے ٹکرانے کے موڈ میں نہیں ہیں اور وہ اس پالیسی پر عمل پیرا ہیں کہ آپ بھی خوش رہیں اور میں بھی خوش رہوں۔ دوسری جانب محسن نقوی صاحب سینہ تانے نئے صوبوں کے قیام پر مصر نظر آتے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ صوبوں کے اس معرکے میں فتح کس کی ہوتی ہے۔
قارئین اور عزیزانِ وطن! ماضی میں ایوب خان نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے کسی اسمبلی کی پروا کیے بغیر ملک کو ون یونٹ میں تبدیل کر دیا تھا، جس کے منفی نتائج بالآخر ملک کے دو لخت ہونے کی صورت میں سامنے ائے۔ انہوں نے یہ قدم منظور قادر کے مشورے پر اٹھایا تھا، جنہوں نے کہا تھا کہ اگر اپ نے محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف الیکشن جیتنا ہے تو ملک کو ون یونٹ میں تقسیم کریں اور بنیادی جمہوریتوں کے اراکین کا نظام رائج کریں تاکہ دھاندلی میں آسانی ہو۔ اس فیصلے میں جو بھی بدنیتی شامل تھی، اس کا خمیازہ قوم نے بھگتا۔
اب میری موجودہ عسکری قیادت جنرل عاصم منیر صاحب سے استدعا ہے کہ فارم ٧٤ کے حکمرانوں کو عوام پر مسلط کر کے جو حالات پیدا کیے گئے ہیں، اگر اپ واقعی عوام کی خوشنودی اور ملک کی بہتری چاہتے ہیں تو خدارا پاکستان کو ان موروثی خاندانوں سے نجات دلوائیں جو ہمارے قومی وسائل پر قابض ہو کر منی ڈکٹیٹر بنے بیٹھے ہیں۔ ملک میں سات نئے صوبے بنا کر تاریخ میں ایک سنہری باب رقم کر جائیں، کیونکہ یہ جرات مندانہ کام ہماری اسٹیبلشمنٹ کے علاوہ کوئی اور نہیں کر سکتا۔ لہٰذا قدم بڑھائیں، قوم اپ کا ساتھ دے گی کیونکہ ہمیں ہر حال میں پاکستان کی سلامتی عزیز ہے، ان فارم ٧٤ کے حکمرانوں کی نہیں جو گورننس کے محاذ پر مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ عوام اب شدید تنگ ا چکے ہیں اور عسکری قیادت کو وقت کی نزاکت اور دیوار پر لکھی تحریر پڑھ لینی چاہیے کہ عوام واقعی کیا چاہتے ہیں۔
قارئین اور عزیزانِ وطن! عوام اس حد تک بدحال ہو چکے ہیں کہ بار بار اسی عطار کے لونڈے سے دوا مانگنے پر مجبور ہیں جس کے سبب وہ بیمار ہوئے ہیں۔ میرے قارئین اور عزیزانِ وطن مجھے معاف رکھیں کہ میں سیاسی بدمعاشی اور موروثی سیاست دانوں کا اس طرح مقابلہ نہیں کر سکتا، تاہم میں پاکستان میں انتظامی اور سیاسی بہتری کے لیے مزید صوبوں کے قیام کا مکمل حامی ہوں۔ میں محض انتظامی اکائیوں کی تشکیل کے نظریے کی حمایت نہیں کرتا بلکہ باقاعدہ نئے صوبوں کا حامی ہوں۔ چونکہ ہمیں موجودہ اسمبلیوں سے اصلاحات کی کوئی امید باقی نہیں رہی، اس لیے اس حساس اور اہم قومی معاملے پر عوامی ریفرنڈم کرایا جانا چاہیے، کیونکہ عوامی رائے کے احترام اور حقیقی اصلاحات ہی میں پاکستان کی بقا اور سلامتی مضمر ہے۔ پاکستان زندہ باد!













