اسلامی انسٹی ٹیوٹ کی گریجویشن تقریب !!!

0
7

اسلامی انسٹی ٹیوٹ کی حال ہی میں منعقد ہونے والی گریجویشن تقریب محض ایک روایتی سند کی تقسیم کی محفل نہیں تھی، بلکہ یہ علم کی راہ میں درپیش دشواریوں، بے لوث خدمات اور غیر متزلزل استقامت کا ایک روشن ثبوت بن کر سامنے آئی ہے۔ اس باوقار تقریب کا بنیادی مقصد ان تمام کمسن طالبات کی کوششوں کی پذیرائی کرنا تھا جنہوں نے قرآن مجید کا طویل اور کٹھن علمی سفر کامیابی سے مکمل کیا۔ اس پروقار موقع پر جہاں ایک طرف خوشی کا ماحول تھا، وہاں دوسری جانب مقرّرہ نے اپنے فکر انگیز خطاب میں طالبات، اساتذہ اور معاونین کی قربانیوں کا گہرائی سے احاطہ کیا۔ طالبات کا یہ علمی سفر کسی صورت آسان نہ تھا، مگر ان کا ثابت قدم رہنا اور تمام تر مشکلات کے باوجود ہمت و حوصلے کا مظاہرہ کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر نیت سچی ہو تو کوئی بھی رکاوٹ منزل کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔ اس تاریخی اور بابرکت سفر میں طالبات کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کا کردار بھی نہایت اہمیت کا حامل رہا، جن کی مسلسل حوصلہ افزائی اور پشتیبانی کے بغیر بچیوں کا اس منزل تک پہنچنا تقریباً ناممکن تھا۔
اس تقریب کی سب سے نمایاں اور قابلِ تحسین بات اساتذہ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔ ایسے دور میں جہاں سہولیات کی فراوانی کو کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے، اس ادارے کے اساتذہ نے وسائل کی شدید کمی، طلبہ کی قلیل تعداد اور سخت ترین موسمی حالات کے باوجود تدریسی عمل کو کبھی رکنے نہیں دیا۔ معلمین کا یہ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حقیقی تعلیم صرف شاندار عمارتوں یا جدید ترین وسائل کی مرہونِ منت نہیں ہوتی، بلکہ یہ معلم کے اندر چھپی ہوئی لگن اور جذبہ خدمت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ خصوصی طور پر معلّمہ رابیہ کی خدمات کا ذکر انتہائی ضروری ہے، جنہوں نے چار برس کے طویل عرصے تک بے پناہ جستجو، لگن اور اعلیٰ درجے کی ذمہ داری کے ساتھ ان طالبات کو قرآن کریم کی تعلیم مکمل کروائی۔ رابیہ کی اپنی ذات بھی ایک بے مثال مثال کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ وہ پیشے کے اعتبار سے ایک طبیبہ ہیں اور انہوں نے اس دورانیے کے دوران امریکہ کے دو انتہائی مشکل امتحانات نہ صرف دئیے بلکہ شاندار نمبروں سے کامیابی بھی حاصل کی۔ اس تمام تر پیشہ ورانہ اور تعلیمی مصروفیت کے باوجود انہوں نے قرآنی تدریس کی کلاسوں سے کبھی غفلت نہیں برتی اور باقاعدگی سے تعلیم دیتی رہیں۔ ان کا یہ رویہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ قرآنی تعلیمات صرف زبانی باتوں تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ انہیں اپنی عملی زندگی اور وقت کی تنظیم کا حصہ بنانا ہی اصل مقصد ہے۔
کسی بھی ادارے کی کامیابی کے پیچھے ایک مضبوط اور منظم انتظامی ٹیم کا ہاتھ ہوتا ہے، اور اس تقریب میں اس کا اعتراف کھلے دل سے کیا گیا۔ ٹیم کے تمام اراکین کا شکریہ ادا کیا گیا جنہوں نے ہر مشکل مرحلے پر الرٹ رہ کر تدریسی عمل کو سہارا دیا اور بہترین مشوروں سے ادارے کو آگے بڑھایا۔ اس سلسلے میں بہن شامین کی خدمات بالخصوص قابلِ ذکر ہیں، جنہوں نے اپنی بے پناہ ذاتی اور گھریلو مصروفیات کے باوجود کلاس کے تمام انتظامی مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کیا۔ انہوں نے بچیوں اور ان کے والدین کے درمیان رابطہ کاری کا نظام نہایت پائیدار بنیادوں پر قائم رکھا، وقت سے پہلے انسٹی ٹیوٹ پہنچ کر کلاس کی مکمل تیاری کو یقینی بنایا، اور ادارے میں نظم و ضبط قائم رکھنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ان کی یہ محنت اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارہ صرف ایک استاد کے دم سے نہیں بلکہ مکمل ٹیم ورک، باہمی رابطے اور مستقل مزاجی سے ہی پھلتا پھولتا ہے۔
تقریب کا سب سے اہم اور تنقیدی پہلو وہ نصیحتیں تھیں جو مقررہ نے فارغ التحصیل ہونیوالی طالبات کے سامنے رکھیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گریجویشن کی یہ تقریب درحقیقت کسی سفر کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئے اور زیادہ ذمہ دارانہ دور کا آغاز ہے۔ محض قرآن کریم کی تلاوت کر لینا یا اس کا علم حاصل کر لینا ہی کافی نہیں، بلکہ اصل چیلنج حاصل کردہ علم کو اپنی عملی زندگی، اخلاق اور معاملات میں نافذ کرنا ہے۔ علم کا حقیقی مقصد ایک ایسا مومن بننا ہے جس کی شخصیت، گفتگو اور طرزِ عمل سے قرآن کی تعلیمات واضح طور پر نظر آئیں۔
تقریب کے آخری حصے میں تمام محنتوں کی قبولیت، اساتذہ اور ٹیم کی جزا، اور ان کی آنے والی نسلوں میں اس علمی سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے دعا کی گئی۔ اس پورے خطاب اور تقریب کا مجموعی ہدف بالکل واضح تھا کہ ان بچیوں کا یہ تعلیمی سفر ایک ایسے مضبوط کردار کی صورت میں سامنے آئے جو آگے چل کر ان کی دینی وابستگی اور بہترین اخلاق کا عکاس بنے۔ یہ تقریب محض ایک روایتی اجتماع کے بجائے استقامت، بہترین ٹیم ورک اور علم کو عمل میں ڈھالنے کا ایک روشن منشور پیش کرتی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here