کسی بھی ریاست کی کامیابی کے لیے عدل و انصاف کے صاف و شفاف نظام کی موجودگی لازمی قرار دی جاتی ہے۔ دنیا کے اکثر مذاہب کی تعلیمات میں بھی عدل کو معاشرے کا لازمی جزو قرار دیتے ہوئے، حضرتِ انسان کو ظلم و ناانصافی کے خلاف جدوجہد کی واضح ہدایات دی گئی ہیں۔ ریاستِ مدینہ کے خوشحال و فلاحی نظامِ حکومت میں بھی عدل و انصاف کے سنہری اصولوں کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں، امتِ مسلمہ کی ریاستوں نے جب تک نبی اکرم ? کے بتائے ہوئے عدل و انصاف کے اصولوں کو اپنائے رکھا، عالمی نظام پر مسلمان ہی حاوی رہے۔ جب بھی ان الہامی اصولوں کو نظر انداز کیا گیا، بحر و بر میں ایسا فساد برپا ہوا کہ بڑھتی ہوئی خوں ریزی اور تباہی کو روکنا مشکل ہو گیا۔ علامہ اقبال نے خوب کہا تھا کہ
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
ہمارے آبائی وطن، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں، 1973ء کے متفقہ آئین کے نفاذ اور بعد ازاں کی گئی کاوشوں کے نتیجے میں ایک آزاد عدلیہ کا وجود قائم تو ہو چکا تھا لیکن شومئی قسمت کہ گزشتہ چند سالوں میں، مقتدرہ کے منہ زور اور بے لگام اہلکاروں نے ایک فردِ واحد کی بے پناہ مقبولیت سے گھبرا کر ریاست کے سب سے زیادہ اہم اور مضبوط ترین ستون یعنی عدلیہ کا حلیہ ہی بگاڑ دیا ہے۔ آئینِ پاکستان میں پیہم ترامیم کرکے بنیادی انسانی حقوق کی بھی مکمل پامالی کردی گئی ہے۔ انہی ناجائز تبدیلیوں کا شاخسانہ ہے کہ آجکل پورا ملک فسطائیت کی زد میں ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی ماتحت عدالت ہو یا بڑے سے بڑا ایوانِ عدالت، ہر طرف انصاف کی دھجیاں بکھری ہوئی ملتی ہیں۔ سیاسی وابستگیاں، نام نہاد انصاف کے دہرے معیار کا اظہار اس بھونڈے طریقے سے کرتی ہیں کہ اکثر پاکستانیوں کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ تنخواہوں اور مراعات کی زنجیروں میں جکڑا ہوا منصف جب ناپسندیدہ سائل کی جانب اپنی عینک ہٹا کر دیکھتا ہے تو وسیم بریلوی صاحب کے الفاظ میں کہہ رہا ہوتا ہے کہ!
فیصلہ لکھا ہوا رکھا ہے پہلے سے خلاف
آپ کیا خاک عدالت میں صفائی دیں گے
بیشک آج کل کی ڈوگر کورٹ ہو یا نام نہاد غیر آئینی عدالت، ان کی انتہائی مضحکہ خیز کاروائیوں کی رودادیں، سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر مذاق کا بہترین مواد ثابت ہو رہی ہیں۔ کینگرو کورٹ کا درجہ بھی ان اعلیٰ عدالتوں سے کہیں زیادہ بلند محسوس ہوتا ہے۔ عدالتی دہرے معیار تو صاف ظاہر ہی ہیں لیکن دیگر مروجہ حدود و قیود کا پاس بھی نہیں رکھا جا رہا۔ جرم ہونے سے پہلے ہی مفروضہ مجرموں کو سزا دینے کے اعلانات ہو رہے ہیں۔ مقتدرہ کی سیاسی لڑائیوں کو لڑنے والے مجاہد یعنی نام نہاد ججوں کی مٹی پلید ہوتے دیکھ کر دکھ بھی ہوتا ہے اور ہنسی بھی آتی ہے۔ تنخواہ اور اختیار کی مجبوریاں، معاشرے کے معزز ترین حضرات کو کس قدر گہری پاتال میں پہنچا دیتی ہیں، اس پر اسفل السافلین کی قرآنی اصطلاح ہی صادق آتی ہے۔ سوچتا ہوں، آج کے دور کے لیے مؤرخ کو کتنی تاریک تاریخ لکھنی پڑے گی اور اس بیچارے کے لیے یہ کتنا مشکل کام ہوگا، اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ راحت اندوری تو یہ کہہ گئے ہیں کہ
انصاف ظالموں کی حمایت میں جائے گا
یہ حال ہے تو کون عدالت میں جائے گا
کسی بھی ریاست کے انتظام میں چونکہ عدلیہ کا کردار بے حد کلیدی ہوتا ہے، اس لیے ہماری آج کی عدلیہ تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ریاست کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ سائلین کا عدالتوں پر سے اٹھتا ہوا اعتماد بہت سے خطرات کا پیشِ خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔ احمد فراز کے یہ اشعار دگرگوں حالات کی ترجمانی کرتے ہوئے امید کی ایک کرن بھی دکھا رہے ہیں۔
مرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
مرا قلم تو عدالت مرے ضمیر کی ہے
میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں یقیں ہے مجھے
کہ یہ حصار ستم کوئی تو گرائے گا
تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم
مرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا
فراز کی طرح ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ ظلم و جبر کے اس دور کے خلاف آواز بلند کرے۔ مقتدرہ کی بد انتظامیوں کے نتیجے میں گرتی ہوئی معیشت کے خلاف، جماعت اسلامی پاکستان کا احتجاج کرتے ہوئے مسلسل سڑکوں پر رہنا، مشکل لیکن ضروری عمل ہے۔ جماعت کے دھرنوں میں خواتین کی ایک بڑی تعداد کی شمولیت کی یقیناً بہت بڑی اہمیت ہے اور اسی کے ساتھ نوجوان بھی اپنا کردار بخوبی نبھا رہے ہیں۔ اس تمام صورتِ حال میں خاموش رہنے والوں کے لیے، مظفر وارثی کا یہ شعر بہت سبق آموز ہے۔
کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن
ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے












