نافرمان کی رب سے صلح !!!

0
5

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ایک مرتبہ سخت قحط پڑا، لوگ پریشان اور بے حال ہو کر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے کہ حضرت! دعا فرمائیں کہ اللہ رب العزت باران رحمت نازل فرما دے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام دعا کے لیے ستر ہزار بنی اسرائیل کے ہمراہ جنگل میں نکل گئے اور بارش کی دعا فرمائی کہ الہی! معصوم بچوں، نیک بوڑھوں اور بے زبان جانوروں کے طفیل ہم پر رحم فرما کر باران رحمت نازل فرما۔
ہر نبی مستجاب الدعوات ہوتا ہے، اس اعتبار سے دعا کے بعد بجائے امید بندھنے کے آسمان پہلے سے زیادہ صاف اور آفتاب پہلے سے زیادہ گرم ہو گیا، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بہت حیرت ہوئی۔ پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر عرض کیا کہ یااللہ! اگر تیری بارگاہ میں میری وجاہت ختم ہو گئی ہے تو نبی آخر الزماں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے التجا کرتا ہوں کہ تو اپنی رحمت متوجہ فرما کر بارش نازل فرما۔اسی وقت وحی آئی کہ اے موسیٰ! تمہارا مرتبہ ہمارے یہاں بالکل نہیں گھٹا، تم اب بھی ہمارے نزدیک مرتبے والے ہو، مگر بات یہ ہے کہ تمہاری قوم میں ایک ہمارا نافرمان بندہ ہے جو چالیس سال سے ہمیں ناراض کرتا رہا ہے۔ جب تک وہ موجود ہے ہم ہرگز ایک قطرہ بارش نہیں برسائیں گے، آپ اعلان کریں تاکہ مجمع سے وہ نافرمان چلا جائے جس کے سبب بارش روکی گئی ہے۔حکم پا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اعلان فرمایا، تو وہ نافرمان بندہ اپنی جگہ کھڑا رہا اور چاروں طرف نظر ڈالی۔ جب اس کے علاوہ اور کوئی مجمع سے نکلتا نظر نہ آیا تو اس نے سوچا کہ اگر باہر نکلتا ہوں تو سب کے سامنے رسوائی ہوتی ہے، اور اگر نہیں نکلتا تو میرے گناہوں کے سبب بارش نہ ہونے سے سب کے لیے پریشانی ہوتی ہے۔یہ سوچ کر اس نے دل میں توبہ کا فیصلہ کر لیا، پھر چہرے پر پردہ ڈالا اور غفار الذنوب، ستار العیوب سے معافی طلب کی کہ اے میرے رب کریم! یہ تیرا بندہ، سراپا گندہ، اپنے گناہوں پر نادم و شرمندہ اور طالب توبہ ہے۔ یااللہ! میں نے چالیس سال تک تیری نافرمانی کی مگر تو مہلت دیتا رہا، اب تیری طرف توبہ کے ارادے سے متوجہ ہوا ہوں، پس قبول فرما، محروم نہ فرما اور مایوس نہ فرما۔بس پھر کیا تھا، روایت میں آتا ہے کہ ابھی دعا اور توبہ ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ آسمان سے موسلادھار بارش شروع ہو گئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بڑا تعجب ہوا اور انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ! ابھی تو وہ بندہ مجمع سے باہر نکلا بھی نہیں، پھر یہ بارش کیسے برسی؟اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ! اس نے توبہ کر لی اور میں نے اس سے صلح کر لی۔تو موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا کہ یااللہ! کون ہے وہ بندہ؟اللہ تعالی نے فرمایا کہ جب وہ نافرمان تھا تب بھی میں نے کسی کو نہیں بتایا اور اس کے گناہ پر پردہ ڈالا، اور آج جب وہ توبہ کر چکا ہے تو میں اسے کیسے رسوا کروں؟ یہ تو میرا اور اس کا باہمی معاملہ ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here