پاکستان اس تنظیم کا رکن ملک نہیں ہے مگر 2023 میں پاکستان نے اس کی ممبر شپ کے لیے درخواست دی تھی جو بھارتی مخالفت کی وجہ سے تاحال زیر التوا ہے یا دوسرے الفاظ میں کہہ سکتے ہیں کہ منظور نہیں کی گئی۔ اس فورم کی اہم بات یہ ہے کہ اس کا کوئی بھی رکن ملک اگر کسی ملک سے متعلق اعتراضات پیش کرتا ہے تو اس کی شمولیت کا معاملہ موخر کر دیا جاتا ہے تاکہ کوئی بھی ایک یا ایک سے زائد ممالک اس تنظیم کو اپنے زیر اثر نہ بنا لیں۔
دنیا تیزی سے ایک نئے عالمی معاشی اور سفارتی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد عالمی سیاست اور معیشت پر مغربی طاقتوں کا جو غلبہ قائم ہوا تھا، اب اسے چین، روس، بھارت اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتیں چیلنج کر رہی ہیں۔ اسی بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں برکس ایک اہم عالمی فورم کے طور پر سامنے آیا ہے۔برکس بنیادی طور پر ابھرتی ہوئی معیشتوں کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو معاشی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور عالمی نظام میں ترقی پذیر ممالک کے کردار کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ ابتدا میں اس میں برازیل، روس، بھارت اور چین شامل تھے، بعد ازاں جنوبی افریقہ بھی اس گروپ کا حصہ بنا۔ وقت کے ساتھ اس کی رکنیت میں مزید توسیع ہوئی اور اب یہ پہلے سے کہیں زیادہ اہم عالمی فورم بن چکا ہے۔
پاکستان نے 2023 میں برکس کی رکنیت کے لیے باقاعدہ درخواست دی تھی۔ اسلام آباد کے لیے اس فورم میں شمولیت محض سفارتی اعزاز کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے اہم معاشی اور تزویراتی مفادات بھی موجود ہیں۔ پاکستان کی معیشت طویل عرصے سے بیرونی قرضوں، زرمبادلہ کے دباؤ، محدود برآمدات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں برکس جیسے فورم کا حصہ بننا پاکستان کے لیے چین، روس، برازیل، مشرق وسطیٰ اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے راستے کھول سکتا ہے۔
برکس کے حوالے سے ایک اہم پہلو اس کا ترقیاتی بنک بھی ہے، جو رکن ممالک میں بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔ اگر پاکستان مستقبل میں اس نظام کا مؤثر حصہ بن جاتا ہے تو اسے توانائی، بنیادی ڈھانچے، نقل و حمل اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع مل سکتے ہیں۔
لیکن پاکستان کے لیے برکس کی رکنیت کا راستہ اتنا آسان نہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ بھارت ہے۔ بھارت خود برکس کا بانی رکن ہے اور عالمی سطح پر اس فورم میں اس کا اثر و رسوخ خاصا اہم ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر، سکیورٹی اور دہشت گردی سمیت متعدد دیرینہ تنازعات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی برکس رکنیت کے معاملے میں بھارتی تحفظات ایک بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
دوسری طرف پاکستان کو چین کی حمایت حاصل ہونے کی توقع ہے۔ چین اور پاکستان کے درمیان کئی دہائیوں سے قریبی تزویراتی اور اقتصادی تعلقات قائم ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک بھی دونوں ممالک کے تعلقات کی ایک نمایاں مثال ہے۔ روس بھی پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے اور اسلام آباد نے ماسکو سے بھی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔
تاہم برکس کی رکنیت کا معاملہ صرف چین یا روس کی حمایت سے حل نہیں ہو سکتا کیونکہ نئے ارکان کے معاملے میں موجودہ رکن ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے انتہائی اہم ہے۔ چنانچہ اگر بھارت پاکستان کی مخالفت جاری رکھتا ہے تو اسلام آباد کے لیے رکنیت حاصل کرنا مشکل رہے گا۔
یہاں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ چین اور بھارت دونوں برکس کے رکن ہیں، لیکن دونوں کے درمیان بھی سرحدی تنازعات اور عالمی اثر و رسوخ کی کشمکش موجود ہے۔ اس کے باوجود دونوں ممالک برکس کے پلیٹ فارم پر ایک ساتھ بیٹھتے ہیں۔ اس حقیقت سے یہ سبق ضرور ملتا ہے کہ معاشی مفادات بعض اوقات سیاسی اختلافات سے زیادہ طاقتور ثابت ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے برکس کی رکنیت ایک سفارتی کامیابی ضرور ہوگی، لیکن اسے کسی معاشی بحران کا فوری حل سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ رکنیت ملنے کے باوجود پاکستان کو اپنی برآمدات بڑھانا، صنعتی پیداوار بہتر بنانا، ٹیکس نظام مضبوط کرنا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ پاکستان برکس میں شامل ہوگا یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اگر اسے رکنیت مل جاتی ہے تو پاکستان اس موقع سے کتنا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ برکس پاکستان کے لیے عالمی معیشت میں نئے دروازے کھول سکتا ہے، مگر ان دروازوں سے گزرنے کے لیے پاکستان کو اپنی داخلی معیشت بھی مضبوط بنانا ہوگی۔ بھارت کی مخالفت ایک بڑی سفارتی رکاوٹ ضرور ہے، لیکن مستقل معاشی اصلاحات کے بغیر محض کسی عالمی فورم کی رکنیت پاکستان کے بنیادی معاشی مسائل حل نہیں کر سکتی۔













