مشرق وسطیٰ میں طاقت کا نیا توازن اور امریکی ساکھ کا المیہ

0
1

مشرق وسطیٰ کا تپتا ہوا ریگزار ایک بار پھر بارود کی بو اور جنگی جہازوں کے شور سے گونج رہا ہے جہاں عالمی سیاست کے دو روایتی حریف آمنے سامنے صف آرا ہیں۔ موجودہ بحران محض دو ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپ یا فوجی چھیڑ چھاڑ نہیں بلکہ یہ اس طویل مدتی کشمکش کا شاخسانہ ہے جس کا محور خلیج کی سٹراتیجک گزرگاہیں اور تیل کی عالمی منڈی پر تسلط قائم کرنے کی جنگ ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی ٹکراؤ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ طاقت کا توازن اب تیزی سے بدل رہا ہے اور وہ وقت گزر چکا ہے جب واشنگٹن کے اشارے پر خطے کی تقدیر کے فیصلے ہوا کرتے تھے۔ عالمی سطح پر اس نئے جغرافیائی اور سیاسی منظرنامے نے سپر پاور کے فوجی دبدبے اور سفارتی ساکھ پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس تصادم کی سب سے اہم کڑی آبنائے ہرمز کی وہ اہم آبی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی کل ضرورت کا ایک بڑا حصہ یعنی پٹرولیم مصنوعات گزرتی ہیں۔ تہران نے ہمیشہ اس شاہراہ پر اپنے تاریخی اور تزویراتی حق کو تسلیم کروایا ہے جبکہ امریکہ اپنی روایتی چودھراہٹ قائم رکھنے کے لیے یہاں بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
امریکی قیادت کی حالیہ پالیسیوں کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ واشنگٹن خطے میں اپنی ڈوبتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لیے سیاسی چالوں اور فوجی دھمکیوں کا سہارا لے رہا ہے۔ تہران کے ساتھ طے پانے والے سابقہ معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کی یکطرفہ خلاف ورزی نے ثابت کیا ہے کہ امریکی صدر کی نظر میں بین الاقوامی وعدوں اور عہدوپیمان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ وہ عالمی سیاست کو ایک کاروباری سودے بازی یا جوئے کی میز کی طرح چلاتے ہیں جہاں ان کا مقصد حریف کو زبردستی اور دباؤ کے ذریعے جھکنے پر مجبور کرنا ہوتا ہے۔ تاہم تہران نے امریکی دھمکیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے ہمیشہ عملی جواب دینے کی پالیسی اپنائی ہے جس کی وجہ سے امریکی دباؤ کی حکمت عملی ناکام ہو چکی ہے۔ جب بھی واشنگٹن نے خفیہ طور پر یا فوجی طاقت کے بل بوتے پر اس آبی گزرگاہ پر ایرانی حقوق کو چیلنج کیا تو تہران کے اسلامی محافظ دستوں نے اس کے تجارتی اور جنگی جہازوں کو نشانہ بنا کر یہ واضح پیغام دیا کہ گیدڑ بھبکیوں کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔ اس جوابی کارروائی نے خلیج میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کی فضیلت اور طاقت کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔
اس سارے کھیل میں خلیجی ممالک کی حالت زار انتہائی قابل رحم ہے کیونکہ یہ ممالک تاریخی طور پر اپنی بقا اور اقتدار کے تحفظ کے لیے امریکی چھتری کے محتاج رہے ہیں۔ عوامی حمایت اور جمہوری اصولوں سے عاری یہ خاندانی حکومتیں اس وقت بدترین سفارتی مخمصے کا شکار ہیں جہاں انہیں ایک طرف اپنے عوام کے غیظ و غضب کا ڈر ہے جو فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم اور مغربی جارحیت کے خلاف شدید احتجاج کر رہے ہیں اور دوسری طرف ان کے لیے اپنے آقا یعنی واشنگٹن کی حکم عدولی کرنا ممکن نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان میں سے بیشتر ریاستیں سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد برطانیہ اور امریکہ کے مفادات کی چوکیداری کرنے کی قیمت پر وجود میں آئیں اور آج بھی ان کے مالی و فوجی وسائل مغرب کی مرضی کے مطابق استعمال ہوتے ہیں۔ دوسری جانب چین اور روس جیسی ابھرتی ہوئی عالمی طاقتیں اس صورتحال کا خاموشی مگر انتہائی چابکدستی سے مشاہدہ کر رہی ہیں۔ بیجنگ اور ماسکو اگرچہ فرنٹ فٹ پر آ کر اس جنگ میں براہ راست شریک نہیں ہو رہے لیکن تہران کو پس پردہ فوجی ساز و سامان، مصنوعی سیارچوں کی معلومات اور جدید برقی جنگی ٹیکنالوجی فراہم کر کے وہ امریکہ کو تھکا دینے اور کمزور کرنے کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ اس سے دنیا کا رخ یک قطبی نظام سے کثیر قطبی نظام کی طرف تیزی سے مڑ رہا ہے۔اگر موجودہ کشیدگی مزید چند روز تک برقرار رہتی ہے تو اس کا سب سے بھیانک اور خطرناک منظرنامہ خطے سے امریکی افواج کا شرمناک انخلا یا ایرانی ہتھیاروں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ امریکی فوج کوئی ایسی نظریاتی قوت نہیں ہے جو بغیر وسائل اور بند سپلائی لائن کے لڑ سکے بلکہ یہ روایتی اور مادی بنیادوں پر کھڑی فوج ہے جس کے قدم اکھڑنے میں دیر نہیں لگتی جیسا کہ ہم نے 2021 میں افغانستان سے ان کے عبرت ناک اور اچانک فرار کے وقت دیکھا تھا جہاں وہ اپنی لاشیں اور جنگی ساز و سامان چھوڑ کر رات کی تاریکی میں بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ عراق اور اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی میزائلوں اور بغیر پائلٹ کے طیاروں کے مسلسل حملے واشنگٹن کے اعصاب پر سوار ہو چکے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ عراق کی کٹھ پتلی حکومت تمام تر امریکی دباؤ اور بینکوں پر کنٹرول کے باوجود اپنے عوام کے تہران نواز جذبات کو دبانے میں ناکام رہی ہے کیونکہ وہاں کی طاقتور عوامی عسکری تنظیمیں ایرانی قیادت کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔آخر کار اس جنگ کا فیصلہ کسی دھمکی یا بیانیے سے نہیں بلکہ زمین پر موجود حقیقی طاقت سے ہوگا۔ تہران نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب تک اس کے پاس آبنائے ہرمز کا کنٹرول اور افزودہ یورینیم کا ذخیرہ موجود ہے، کوئی بھی مغربی طاقت اس کا بال بیکا نہیں کر سکتی۔ سفارت کاری کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے لیکن اس بار مذاکرات کی میز پر تہران کی پوزیشن ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مستحکم اور طاقتور ہوگی۔ امریکہ کو جلد یا بدیر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مشرق وسطیٰ اب واشنگٹن کا نجی قبرستان نہیں بلکہ ایک آزاد خطہ ہے جہاں طاقت کے نئے سرچشمے جنم لے چکے ہیں اور اب یہاں کے فیصلے واشنگٹن کی مرضی کے بغیر ہوں گے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here