سیاہ ادوار میں یورپ پر پاپائیت کا غلبہ تھا جس کے سامنے بادشاہ بھی کمزور تصور کیا جاتا تھا۔ سلطنت کے ہر بڑے فیصلے یا حکم نامے کے لیے بادشاہ کو پوپ کی مرضی شامل کرنا ہوتی تھی اور عام لوگوں کو سزائیں یا جزائیں بھی پاپائیت کی مرضی کے مطابق دی جاتی تھیں۔ اس سخت گیر نظام کا شکار اس دور کے مشہور اطالوی سائنسدان اور مفکر گلیلیو گیلیلی بھی بنے، جنہیں زمین کی گردش اور اس کے گول ہونے کے نظریے کی تشہیر پر مذہبی عدالت نے شدید غضب ناک ہو کر سزا سنائی۔ پاپائیت کا یہ وہ دور تھا جب کلیسا عام لوگوں کو بھاری رقوم کے عوض جنت کے پروانے یعنی معافی نامے فروخت کیا کرتا تھا۔ جب پاپائیت اور بادشاہت کے اس گٹھ جوڑ کے نتیجے میں عوام غربت اور بھوک کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے تو انہوں نے غاصبوں، جاگیرداروں اور اجارہ داروں کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے تاریخی انقلاب فرانس برپا کیا۔ اس انقلاب نے مذہب اور ریاست کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جس کی سیکولر بنیادوں پر آج پورا یورپ، امریکہ، چین، روس، بھارت، برطانیہ، کینیڈا اور دوسرے لاتعداد ممالک کاربند ہیں۔ اس جدید نظام میں ہر شہری کو اپنے مذہب پر مکمل آزادی کے ساتھ عمل کرنے کا حق حاصل ہے لیکن مذہبی اداروں کو ریاستی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جاتی۔
دوسری طرف مسلم دنیا کے کئی حصوں میں بادشاہتیں، خلافتیں، آمریتیں اور مذہبی پیشوائیت قائم ہیں جو ماضی کی پاپائیت سے گہری مماثلت رکھتی ہیں بلکہ بعض حوالوں سے اس سے بھی زیادہ طاقتور ہیں کیونکہ یہ بغیر عوامی مرضی کے براہ راست اقتدار پر قابض ہیں۔ اس صورتحال کی بدولت عرب ممالک، ایران اور افغانستان کے عوام اپنی سیاسی، معاشی اور سماجی آزادیوں سے محروم ہیں۔ افغانستان میں آج بھی وہی قوتیں حکمران ہیں جن کا نظام حکومت کسی منتخب عوامی مینڈیٹ کے بجائے مخصوص گروہی طاقت پر قائم ہے اور اس سیاسی جمود کو صرف طاقت کے زور پر یا کسی دوسرے گروہ کے غلبے کی صورت میں ہی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
ایران کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں ہے جہاں گزشتہ پچاس برسوں سے مذہبی نظام غالب ہے اور عوام ایک متبادل آمریت کے حصار میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایرانی عوام ماضی میں شاہی آمریت کا شکار تھے اور آج مذہبی قیادت کے غلبے تلے زندگی گزار رہے ہیں جہاں صدر، پارلیمان کے سربراہ اور عسکری قیادت کو بھی رہبرِ اعلیٰ کے احکامات کی تعمیل کرنی پڑتی ہے۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو جب 1953 میں جمہوریت پسند وزیر اعظم ڈاکٹر محمد مصدق نے ایران میں تیل کی صنعت کو قومیایا تو اس وقت کی قدامت پسند مذہبی قوتوں نے برطانوی اور امریکی خفیہ اداروں کے مفادات کی راہ ہموار کی جس کے نتیجے میں مصدق حکومت کا خاتمہ ہوا اور شاہِ ایران کا اقتدار دوبارہ بحال ہوا۔ اس مطلق العنانیت کے خلاف تودہ پارٹی اور نیشنل فرنٹ نے طویل جدوجہد کی جس کی بدولت بالآخر محمد رضا شاہ پہلوی کو ملک سے فرار ہونا پڑا، لیکن اس عوامی تحریک کے ثمرات عوامی حکومت کی شکل میں ظاہر ہونے کے بجائے مذہبی قیادت کے قبضے کی صورت میں سامنے آئے۔ غیر ملکی طاقتیں ایران میں بائیں بازو اور اشتراکیت کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے اس تبدیلی کی پشت پناہی کر رہی تھیں لیکن وہ اس حقیقت سے ناواقف تھیں کہ پاپائیت کی طرح مذہبی پیشوائیت بھی اقتدار میں آ کر اپنی بقا کا بندوبست خود کر لیتی ہے۔
یہ تاریخی عمل قدیم ہندوستان سے بھی مماثلت رکھتا ہے جہاں برہمن طبقہ رفتہ رفتہ سیاسی اور ریاستی امور پر حاوی ہو گیا تھا اور راجہ داہر کے دورِ حکومت تک اس کے اثرات سندھ پر بھی واضح تھے۔ حالانکہ برہمنوں کے عروج سے پہلے اقتدار تاریخی طور پر راجپوتوں کے پاس تھا جو آریا قبائل کا جنگجو طبقہ کہلاتے تھے اور جن کا بنیادی کام ریاست کا دفاع کرنا تھا جو بعد میں راجوں اور مہاراجوں کی شکل اختیار کر گئے۔ اس تاریخی پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران کے موجودہ نظام حکومت سے وہاں کے عوام کو حقیقی جمہوری چھٹکارا کب ملے گا، اس کے لیے ابھی ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد کا انتظار کرنا ہو گا۔
٭٭٭٭٭٭

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)












