قرآن کریم ہدایت، رحمت اور حکمت کی کتاب ہے اور یہ ایک ایسی الہامی وحی ہے جو اصلاح کے بنیادی اصولوں کا تعین کرتی ہے جن کی بنیاد نیکی، انصاف، امن اور مساوات پر قائم ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ آج مسلمان اسے بنیادی طور پر روحانی انعامات کے لیے تلاوت کی کتاب کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور اسے ضابطہ حیات کے طور پر نافذ نہیں کر رہے۔ اتحاد کے بجائے ہم اسے تقسیم کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے فرقہ واریت اور مذہبی تعصب حاوی ہو چکا ہے اور تمام فرقوں کے علمائ نفرت اور تشدد کو فروغ دیتے ہیں۔ بادشاہت اور ملایت کی وجہ سے ہم اپنا اصل مقصد کھو چکے ہیں اس لیے ہمیں قرآن کی روشنی میں اسلام کی صحیح تفہیم کو دوبارہ دریافت کرنے کی ضرورت ہے اور ہمیں تقسیم کرنے والے تاریخی، فرقہ وارانہ اور فقہی اختلافات کو ترک کر دینا چاہیے۔
دولت اور سماجی انصاف کے بارے میں قرآن پاک کے ارشادات نہایت واضح ہیں۔ سور? الماعون کی آیات ایک سے سات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا تم نے اس شخص کو دیکھا ہے جو قیامت کے دن کا انکار کرتا ہے، وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا، ان لوگوں کے لیے افسوس ہے جو نماز پڑھتے ہیں لیکن اپنی نماز سے غافل ہیں، جو تقویٰ کا مظاہرہ کرتے ہیں اور مسکینوں کو خیرات نہیں دیتے۔ اسی طرح سورہ التکاثر میں ارشاد ہوتا ہے کہ تمہیں کثرتِ مال کی ہوس نے آخرت سے غافل کر دیا ہے یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے، نہیں تمہیں جلد معلوم ہو جائے گا، پھر نہیں تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا، اگر تم یقین سے جانتے تو تم جہنم کی آگ کو دیکھ لیتے، پھر اس دن تم سے ان نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا جو تم نے حاصل کی تھیں۔ مزید برآں سورہ حمزہ کی آیات ایک سے چار میں بیان کیا گیا ہے کہ ہر اس شخص کے لیے ہلاکت اور خرابی ہے جو طعنہ زنی کرنے والا اور عیب جوئی کرنے والا ہے، جو مال جمع کرتا ہے اور اسے گنتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ کے لیے زندہ کر دے گا، ہرگز نہیں وہ ضرور تباہ کن شعلے میں ڈالے جائیں گے۔ پھر سورہ الفجر کی آیات سترہ سے بیس میں قرآن پاک کہتا ہے کہ نہیں لیکن تم یتیم کی عزت نہیں کرتے اور نہ ہی ایک دوسرے کو مسکینوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو اور وراثت کو لالچ سے کھا جاتے ہو اور مال کو بے پناہ پیار کرتے ہو۔ سورہ لیل کی آیات پانچ سے گیارہ میں قرآن پاک اعلان کرتا ہے کہ جو شخص صدقہ کرتا ہے اور اللہ سے ڈرتا ہے اور نیکی پر یقین رکھتا ہے تو ہم اس کے لیے نجات کا راستہ آسان کر دیں گے لیکن جو نہ کبھی دیتا ہے، نہ اللہ سے اجر طلب کرتا ہے اور نیکی سے انکار کرتا ہے، ہم اس کے لیے مصیبت کا راستہ ہموار کر دیں گے اور جب وہ آخری سانس لے گا تو اس کا مال اس کے کام نہ آئے گا۔
یہ تمام آیات واضح کرتی ہیں کہ صرف نماز، روزہ اور حج ہی نجات کے لیے کافی نہیں ہیں بلکہ قرآن کے مطابق سماجی اور معاشی انصاف ان رسومات سے زیادہ اہم ہے کیونکہ رسومات منزل کا راستہ ہیں، منزل نہیں ہیں۔ یہ امر نہایت افسوسناک ہے کہ صدیوں سے ظالمانہ اور آمرانہ بادشاہت کے تحت مسلمان فقہائ ، دانشور، علمائ اور یہاں تک کہ بہت سے صوفیوں نے قرآن کے انقلابی مشن کو نظر انداز کیا ہے۔ آج بھی ہم آزادی، جمہوریت، سماجی انصاف اور میرٹ پر مبنی اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لیے کام کرنے کے بجائے فرسودہ معاملات پر بحث کرتے ہیں اور مذہب کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیتے رہتے ہیں حالانکہ مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اب تمام استحصالی قوتوں کے خلاف اٹھنے کا آخری موقع ہے خواہ وہ مذہبی ہوں، روحانی ہوں یا سیاسی ہوں۔ جیسا کہ ڈاکٹر علامہ اقبال نے اپنے ایک فارسی شعر میں کہا ہے:
چیست قرآن خواجہ را پیغامِ مرگ
دستگیرِ بندہ بے ساز و برگ
اس شعر کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن سرمایہ دار کے لیے موت کے پیغام کے سوا کیا ہے، یہ ان بے سہاروں کا سہارا ہے جس کے پاس نہ اسباب ہیں اور نہ ہی رزق۔ قرآن پاک ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو نہ صرف مذہبی، اخلاقی اور روحانی ہے بلکہ قانونی، عقلی، سماجی اور سیاسی بھی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے اور قیامت کے دن نجات کے لیے ہمیں لالچ، دولت کمانے کی ہوس اور اقتدار کی بھوک سے پرہیز کرنا چاہیے۔ قرآن اس غریب انسان کے لیے واحد پناہ، طاقت اور رہنما ہے جس کی کوئی دولت یا حیثیت نہیں ہے۔ نیک لوگوں کے لیے یہ موت کی یاد دہانی اور ضرورت مندوں، لاچاروں اور بے سہاراوں کے لیے حتمی مدد ہے اس لیے ہمیں قرآن کی طرف آنا ہو گا۔
ان آیات کی روشنی میں یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ غریبوں کی ضروریات سے غافل معاشرہ اور ریاست ہمیشہ تباہی کی طرف گامزن رہتی ہے۔ اس صورتحال سے ایک سنگین سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی کسی اسلامی معاشرے اور ریاست میں کوئی غریب، محتاج یا بے سہارا ہو سکتا ہے۔ اس کا جواب بالکل واضح ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس مسلم ریاستیں تو موجود ہیں لیکن ہمارے پاس حقیقی اسلامی ریاستیں نہیں ہیں۔ ایک حقیقی اسلامی ریاست وہی ہوتی ہے جو جمہوری ہو اور اس کی بنیاد سماجی انصاف پر قائم ہو، کیونکہ ایک بہترین سماجی فلاحی ریاست کا قیام ہی قرآن کریم کا پہلا اور آخری پیغام ہے۔















