امریکہ میں رہتے ہوئے یہ بات بارہا محسوس ہوتی ہے کہ بعض شخصیات صرف اپنے ملک کی تاریخ کا حصہ نہیں رہتیں بلکہ عالمی ضمیر کا استعارہ بن جاتی ہیں۔ نیلسن منڈیلا بھی ایسی ہی ایک بے مثال شخصیت ہیں۔ امریکہ، یورپ اور دنیا کے دیگر خطوں میں ان کا نام انتہائی احترام سے لیا جاتا ہے۔ جامعات، لائبریریوں، عجائب گھروں اور انسانی حقوق سے متعلق مباحث میں ان کی طویل جدوجہد کو آزادی، مساوات اور انسانی وقار کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
ہر سال 18 جولائی کو اقوام متحدہ نیلسن منڈیلا کا عالمی دن مناتی ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد صرف جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر کی سالگرہ منانا نہیں بلکہ ان اعلیٰ اقدار کو زندہ رکھنا ہے جن کے لیے انہوں نے اپنی پوری زندگی وقف کر دی تھی۔ یہ دن دنیا کو یاد دلاتا ہے کہ ایک اکیلا فرد بھی ظلم، ناانصافی اور تعصب کے خلاف کھڑا ہو کر تاریخ کا دھارا بدل سکتا ہے۔
جنوبی افریقہ میں کئی دہائیوں تک نسل پرستانہ نظام نافذ رہا جس کے تحت سیاہ فام باشندوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا۔ ان کی رہائش، تعلیم، ملازمت، ووٹ دینے کے حق، حتیٰ کہ روزمرہ زندگی کے بہت سے معاملات بھی نسل کی بنیاد پر طے کیے جاتے تھے۔ نیلسن منڈیلا نے ابتدا میں پرامن جدوجہد کا راستہ اختیار کیا، لیکن 1960 میں شارپ ویل کے المناک واقعے کے بعد، جب نہتے مظاہرین پر فائرنگ کی گئی، انہوں نے محسوس کیا کہ حالات ایک نئے طرزِ مزاحمت کا تقاضا کر رہے ہیں۔ چنانچہ 1962 میں انہیں گرفتار کیا گیا اور 1964 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے 27 قیمتی سال جیل کی سخت ترین صعوبتوں میں گزار دیے، مگر ان کے پختہ عزم میں کوئی لغزش نہ آئی۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ منڈیلا صرف ایک قیدی نہیں رہے بلکہ آزادی کی عالمی علامت بن گئے۔ دنیا بھر میں ان کی رہائی کے لیے آوازیں بلند ہوئیں، معاشی پابندیاں لگیں اور بین الاقوامی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا گیا۔ بالآخر 1990 میں وہ غیر مشروط طور پر رہا کر دیے گئے۔ رہائی کے بعد انہوں نے انتقام کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے مفاہمت، برداشت اور قومی یکجہتی کی سیاست کو فروغ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ 1993 میں انہیں اور اس وقت کے صدر ایف ڈبلیو ڈی کلرک کو مشترکہ طور پر نوبیل امن انعام سے نوازا گیا، اور 1994 میں وہ جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام جمہوری صدر منتخب ہوئے۔
یہی وہ پہلو ہے جو نیلسن منڈیلا کو دنیا کے عظیم رہنماؤں کی صف میں سب سے ممتاز کرتا ہے کہ انہوں نے نفرت کے جواب میں نفرت نہیں بلکہ معافی، انصاف اور قومی ہم آہنگی کا راستہ اختیار کیا۔ جن اصولوں کو آج دنیا انسانی حقوق، مساوات اور انصاف کے نام سے سراہتی ہے، دین اسلام ان کی تعلیم چودہ سو سال پہلے ہی دے چکا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اے لوگو، ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ (سورة الحجرات: 13)
اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ حجة الوداع میں انسانیت کا ایسا عظیم الشان منشور پیش کیا جو ہر دور کے لیے ابدی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ اور نیک کردار کے۔ اس تاریخی اعلان نے رنگ، نسل اور قبیلے کی تمام مصنوعی برتریوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ اسی لیے اگر نیلسن منڈیلا کی جدوجہد انسانیت کے لیے ایک روشن مثال ہے تو اسلام کی تعلیمات اس مثال کی حقیقی روح ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اسلام نے یہ سنہری اصول ساتویں صدی میں پیش کیے، جبکہ دنیا نے انہیں صدیوں بعد عالمی انسانی اقدار کے طور پر تسلیم کیا۔
اقوام متحدہ نے اس دن کے لیے ایک خوبصورت روایت بھی قائم کی ہے جس کے تحت دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ کم از کم 67 منٹ انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کریں، کیونکہ منڈیلا نے اپنی زندگی کے 67 برس عوامی خدمت اور آزادی کی جدوجہد میں گزارے تھے۔ یہ چند لمحے کسی بیمار کی عیادت، کسی ضرورت مند کی مدد، کسی طالب علم کی رہنمائی، شجرکاری کرنے یا معاشرے کے لیے کسی بھی مثبت کام میں صرف کیے جا سکتے ہیں۔
آج کی دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ انصاف، برداشت، مکالمے اور انسان دوستی کی ضرورت ہے۔ نفرت، نسل پرستی، مذہبی انتہا پسندی اور معاشرتی تقسیم نے انسان کو انسان سے دور کر دیا ہے۔ ایسے دگرگوں حالات میں نیلسن منڈیلا کی زندگی ہمیں صبر، استقامت اور مفاہمت کا عملی درس دیتی ہے، جبکہ اسلام ہمیں ان تمام اقدار کی مضبوط روحانی اور اخلاقی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ 18 جولائی محض ایک عالمی دن نہیں بلکہ خود احتسابی کا ایک بہترین موقع بھی ہے۔ یہ دن ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے رویوں کا جائزہ لیں کہ کیا ہم رنگ، نسل، زبان، قومیت یا مذہب کی بنیاد پر دوسروں کے ساتھ امتیاز تو نہیں برتتے؟ اور کیا ہم اپنے دین کی ان تعلیمات پر دل سے عمل کر رہے ہیں جو ہر انسان کے احترام، عدل اور مساوات کی ضمانت دیتی ہیں؟
لہٰذا اس عالمی دن پر نیلسن منڈیلا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں ان اعلیٰ انسانی اقدار کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے جو اسلام کے آفاقی پیغامِ عدل، مساوات اور رحم کا حصہ ہیں، کیونکہ یہی اس دن کی حقیقی روح اور انسانیت کے لیے ہمارا بہترین تحفہ ہو گا۔












