فٹ بال، سیاست اور فلم!!!

0
4
کامل احمر

آج ہمارے پاس لکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ آئیں پہلے کھیل کی باتیں کر لیں کہ پچھلے ہفتے فیڈریشن انٹرنیشنل ڈی فٹ بال ایسوسی ایشن یعنی فیفا کے ٹورنامنٹ میں مصر اور ارجنٹائن کے درمیان کھیلے گئے فٹ بال میچ میں ریفری کے جانب دارانہ فیصلوں کی وجہ سے نہ صرف فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو کو برطرف کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے بلکہ ارجنٹائن کی طرفداری کرنے پر ریفری کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ریفری کے بعض فیصلے جو مصر کے خلاف تھے، کسی بھی عام دیکھنے والے کو صاف بتا رہے تھے کہ وہ ارجنٹائن کے کھلاڑی میسی اور ان کی ٹیم کی طرفداری کر رہا تھا۔ اس میچ میں مصر کو سات بار پیلے کارڈ دکھائے گئے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ مصر کے تیسرے گول کو خارج کر دیا گیا۔ دنیا بھر کے شائقین نے فیفا کے اس کھیل کو ایک مذاق بنا دیا ہے اور انٹرنیٹ پر صارفین نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ فیفا نہیں بلکہ چوروں کی انجمن ہے۔ تجزیہ نگاروں نے میسی کے رویے کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کھیلوں کے میدان میں ماضی کے کردار کو دیکھا جاتا ہے اور سوشل میڈیا پر اس کھلاڑی کے حوالے سے بحث گرم ہے۔ یہاں تک کہ الجزائر کے خلاف میچ میں بھی ایسے ہی الزامات سامنے آئے تھے اور اب مصر کو آخری لمحات میں شکست دینے پر دنیا بھر کے فٹ بال پرستاروں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر لاکھوں صارفین کا کہنا ہے کہ ارجنٹائن کو اس میچ میں شکست ہونی چاہیے تھی کیونکہ کھیل کے میدان میں ایسی کھلی دھاندلی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ کرکٹ تو پہلے ہی جوا بازی اور تنازعات کا شکار رہتی ہے لیکن اب فٹ بال جیسے عالمی کھیل میں بھی اس سطح کی بے ایمانی فیفا کی انتظامیہ کے لیے ایک لمحہ فکر ہے۔ اب شائقین کو سیمی فائنل کا انتظار ہے۔
کھیلوں کے میدان سے نکل کر اگر سیاست کا رخ کریں تو حال ہی میں امریکہ کے متنازع سینیٹر لنڈسے گراہم اکہتر سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے ہیں۔ وہ طویل عرصے تک امریکی سینیٹ کا حصہ رہے اور اسرائیل کے کٹر حامی سمجھے جاتے تھے۔ فلسطین، لبنان اور ایران کے حوالے سے سابق صدر ٹرمپ کی پالیسیوں میں ان کا اہم کردار تھا۔ ان کی وفات پر کیپٹل ہل پر امریکی پرچم سرنگوں کیا گیا ہے۔ جنوبی کیرولائنا کی اس خالی نشست پر اب ڈیموکریٹک پارٹی کا نمائندہ انتخاب لڑے گا جس کے بعد ریپبلکن پارٹی کو سینیٹ میں ایک نشست کی کمی محسوس ہوگی۔ دوسری جانب امریکی عوام میں یہ تاثر جڑ پکڑ رہا ہے کہ تیل کی بڑی کمپنیاں جنگی حالات کا فائدہ اٹھا کر قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہیں جس سے مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ اسٹاک مارکیٹ بھی چند ہاتھوں میں کھیل رہی ہے جو عام امریکی کی سمجھ سے باہر ہے۔ اگرچہ ملکی سطح پر مہنگائی کے خاتمے اور روزگار کے مواقع کے دعوے کیے جاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ساڑھے بارہ فیصد یعنی تقریباً بیالیس اعشاریہ دو ملین امریکی اس وقت بھی اضافی غذائی امدادی پروگرام یعنی فوڈ اسٹیمپ پر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں نیویارک کے میئر ممدانی اور گورنر ہوچل کی جانب سے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کی جانے والی کوششیں خوش آئند ہیں۔
سیاست کے بعد اب بات کرتے ہیں فلم کی جو ہمیشہ سے ایک دلچسپ موضوع رہا ہے۔ ماضی میں ہالی ووڈ اور ہندوستانی سنیما نے لارنس آف عربیہ، ڈاکٹر ڑواگو، گون ود دی ونڈ، بین ہر، دی گاڈ فادر، رومیو اینڈ جولیٹ، دی گریٹ ایسکیپ اور دی ٹین کمانڈمنٹس جیسی لاجواب اور شاہکار فلمیں تیار کیں جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ طویل عرصے سے فلمی دنیا میں ایسی شاہکار فلموں کی کمی محسوس کی جا رہی تھی لیکن اب کرسٹوفر نولان جیسے باصلاحیت ہدایت کار سامنے آئے ہیں جنہوں نے ممینٹو جیسی فلموں سے اپنی پہچان بنائی۔ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے اس اکیڈمی ایوارڈ یافتہ ہدایت کار کی نئی فلم اوڈیسی جلد ہی ریلیز ہونے جا رہی ہے۔ ہومر کی تین ہزار سال پرانی یونانی کہانی پر مبنی یہ فلم تقریباً تین گھنٹے طویل ہے۔ اگر یہ فلم باکس آفس پر کامیاب ہوتی ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ جدید دور میں بھی ناظرین کا علمی اور تخلیقی شعور زندہ ہے اور وہ محض سوشل میڈیا کے سطحی مواد تک محدود نہیں ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here