پاکستان ڈے پریڈ!!! کیا ہم قومی وقار اپنے ہی ہاتھوں دفن کر دیں گے؟

0
4

پاکستان ڈے پریڈ!!!
کیا ہم قومی وقار اپنے ہی ہاتھوں دفن کر دیں گے؟

پریڈ صرف چند گاڑیوں کے قافلے، رنگ برنگے لباس یا سڑکوں پر نعرے لگانے کا نام نہیں ہوتی، بلکہ یہ سمندر پار بسنے والے کسی بھی جاندار معاشرے کی تاریخ، اس کی شناخت اور اس کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضامن ہوتی ہے۔ جب ہم ماضی کے دریچوں میں جھانکتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ کس طرح ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے ایک عظیم الشان روایت کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا۔ بات سال 1980 کی دہائی کی ہے جب نیویارک کے قلب میں ہم نے دیارِ غیر میں اپنے وطن کا پرچم لہرانے کا خواب دیکھا تھا۔ سال 1986 کا وہ دور مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے جب قاسم مجید اور میرے جیسے چند مخلص ساتھی کسی ذاتی نمود و نمائش یا مالی فائدے کے بغیر، محض حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر صبح پانچ بجے ہی میڈیسن ایونیو پر واقع پریڈ کی جگہ پر پہنچ جایا کرتے تھے۔ اس وقت نہ تو کوئی بڑا بجٹ تھا اور نہ ہی کوئی سرکاری سرپرستی، بلکہ ہم خود اپنے ہاتھوں سے سٹیج سجاتے، کرسیاں لگاتے اور پنڈال تیار کرتے تھے۔ وہ خلوص اور رضاکارانہ جذبے کا ایک ایسا بے مثال نمونہ تھا جس کی مثال آج ملنا ناممکن ہے۔ میڈیسن ایونیو اور گرینڈ سینٹرل کے ارد گرد جب پاکستانی برادری جوق در جوق جمع ہوتی تھی، تو وہ منظر دیکھ کر آنکھیں نم ہو جاتی تھیں۔ نیویارک کے میئر اور امریکی سیاست کے دیگر اعلیٰ ترین عہدیدار اس پریڈ میں شرکت کرنا اپنے لیے ایک اعزاز سمجھتے تھے، اور ہماری برادری کی طاقت کا اعتراف کیا جاتا تھا۔ وہ واقعی پاکستان ڈے پریڈ کا ایک سنہرا دور تھا جہاں ہر دل میں صرف اور صرف اپنے ملک کا نام روشن کرنے کی تڑپ موجود تھی۔
مگر افسوس کہ وقت بدلا اور سال 1990 کی دہائی کے بعد اس خوبصورت اور پاکیزہ روایت کو گرہن لگنا شروع ہو گیا۔ کچھ ایسے گروہ اور عناصر سامنے آئے جنہوں نے اس قومی وقار کے حامل پروگرام کو اپنے ذاتی، کاروباری اور مالی مفادات کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ تعمیراتی کاموں کے ٹھیکے حاصل کرنے، مقامی انتظامیہ میں اپنا ناجائز اثر و رسوخ بڑھانے اور نمود و نمائش کی ہوس نے اس پریڈ کے اصل مقصد کو یکسر دھندلا دیا۔ جب میں نے دیکھا کہ خلوص کی جگہ خود غرضی نے لے لی ہے اور وطن کی محبت کی آڑ میں لوگ اپنی تجوریاں بھرنے اور اپنی انا کی تسکین میں مصروف ہیں، تو میرا دل اس مایوس کن صورتحال کو برداشت نہ کر سکا۔ چنانچہ سال 2016 میں، میں نے انتہائی بوجھل دل مگر پوری عزت و وقار کے ساتھ خود کو اس تمام عمل سے الگ کر لیا، کیونکہ ایک سچے اور مخلص کارکن کے لیے ایسی سازشوں کا حصہ بنے رہنا ممکن نہیں تھا۔
آج صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں خاموشی اختیار کرنا قومی جرم کے مترادف ہوگا۔ میں آج ایک انتہائی سنگین اور تلخ خطرے کی نشاندہی کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ اگر ہماری آپسی لڑائیوں، ہٹ دھرمی اور عدالت بازی کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا، تو وہ دن دور نہیں جب نیویارک کی انتظامیہ ہم سے یہ تاریخی موقع اور جگہ ہمیشہ کے لیے چھین لے گی۔ یاد رکھیے کہ اس شہر میں دیگر تارکینِ وطن کی کمیونٹی خصوصاً بنگلہ دیشی برادری، انتہائی متحرک اور منظم انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔ اگر ہم نے اپنی نااہلی کی وجہ سے یہ جگہ خالی چھوڑی، تو دوسری کمیونٹی اس تاریخ اور مقام پر اپنا دعویٰ دائر کر دیں گی، اور ہم ہمیشہ کے لیے اس عظیم اعزاز سے محروم ہو جائیں گے۔ یہ نقصان صرف ہمارا نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کا ہوگا جو کبھی ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
اسی لیے میں آج ڈاکٹر حق، منیر لودھی، اور احمد جان جیسے تمام سینیئر اور ذمے دار لوگوں سے نہایت دردمندانہ اور مخلصانہ اپیل کرتا ہوں کہ خدا کے لیے اپنے ذاتی اختلافات، رنجشوں اور انا کو پسِ پشت ڈال دیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ آپ سب ایک ساتھ بیٹھیں، ایک دوسرے کے گلے شکوے دور کریں اور اس قومی وقار کے حامل ایونٹ کو بچانے کے لیے سرجوڑ کر فیصلے کریں۔ یہ لڑائی کسی ایک فرد کی جیت یا ہار کی نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کے نام اور اس کی ساکھ کا معاملہ ہے۔ اگر آج بھی ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور اس انا کی جنگ کو ختم نہ کیا، تو تاریخ ہمیں کبھی اچھے لفظوں میں یاد نہیں رکھے گی۔ مجھے امید ہے کہ پریڈ کے موجودہ اور سینیئر ذمہ داران میری اس مخلصانہ پکار پر لبیک کہیں گے اور نیویارک کی سڑکوں پر پاکستان کے نام کو اسی طرح بلند و بالا رکھیں گے جیسے ہم نے ماضی میں رکھا تھا۔پاکستان زندہ باد۔۔!!
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here