اسٹیبلشمنٹ کے مہرے!!!

0
5
شبیر گُل

پاکستان زندہ باد۔ ہمیشہ زندہ باد۔ مملکت خداداد کلمہ طیبہ کی بنیاد پر وجود میں آئی جس کی اساس میں لاکھوں اہل ایمان کا خون شامل ہے۔ مگر وطن عزیز روز اول سے سازشوں کا شکار رہا ہے۔ کبھی سکندر مرزا اور کبھی ایوب خان کی ڈکٹیٹر شپ، کبھی ضیائ کا اسلامی ڈرامہ، کبھی بھٹو کی مساوات اور کبھی مشرف کا سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ اور امریکہ سے یاری۔ آج ہم ایک بار پھر امریکی غلامی اور یاری کے اسی جال میں مبتلا ہیں۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا اور اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ ایک طرف عالمی غنڈے اسرائیل کی بدمعاشی جاری ہے تو دوسری طرف خطے میں بھارت اور افغانستان کی پراکسی وار فعال ہے۔ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی دہشت گردی نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حالات خراب کر رکھے ہیں، جبکہ بعض سیاسی مہرے ان دہشت گردوں کے سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ریاستی ستون اپنے چہیتوں کی آؤ بھگت میں مصروف ہیں جہاں بے جا پروٹوکول اور ہٹو بچو کے کلچر نے ریاستی اداروں کی توجہ بدمعاشوں کی حفاظت پر مرکوز کر دی ہے اور اصل دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں۔
پاکستان اس وقت سنگین اندرونی سازشوں میں گھرا ہوا ہے۔ اسٹبلشمنٹ کے مہرے اور چہیتے ہر روز گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں۔ اسٹبلشمنٹ کو الیکٹیبلز، سیاسی یتیموں اور بلیک میلر مولویوں کی لت لگ چکی ہے جنہیں وہ وقت فوقتاً اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور پھر خود بھی ان سے بلیک میل ہوتے ہیں۔ اسٹبلشمنٹ کی گود کے پالے ہوئے مولانا فضل الرحمن آج کس سے گلہ کر رہے ہیں۔ ان کے بیانات سن کر اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا کسی نئے مفاد کے چکر میں ہیں۔ مولانا گزشتہ چالیس سال سے ہر دور اقتدار میں رہے، ڈکٹیٹرز کے ساتھ وفاداریاں نبھائیں اور حکومتیں گرانے اور بنانے کے کھیل میں شامل رہے۔ کوئی ایسی حکومت نہیں گزری جس میں مولانا کی شراکت داری نہ رہی ہو۔ بلوچستان میں مولانا کے ارکان اسمبلی ایک طرف اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں اور دوسری طرف مبینہ طور پر بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے سہولت کار بن کر تنقید بھی کر رہے ہیں۔ منافقانہ کردار کے حامل مولانا فضل الرحمن وہ سیاسی بلیک میلر ہیں جو خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہمیشہ اقتدار کا حصہ رہے اور مرکز میں بھی ان کا حصہ رہا، لیکن نہ کبھی سود کے خلاف ان کے ارکان اسمبلی کھڑے ہوئے اور نہ انہوں نے اسلامی نظام کے احیاء کے لیے کوئی عملی جدوجہد کی۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ ایسے ہی منافقوں، ابن الوقتوں اور بلیک میلروں سے بھری پڑی ہے۔ مثال کے طور پر نواز شریف ایک طرف خود اقتدار کا حصہ ہیں اور دوسری طرف تنقید بھی کرتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ یہ تنقید اپنے بھائی وزیراعظم شہباز شریف پر کرتے ہیں یا اپنی بیٹی وزیراعلیٰ پنجاب پر کرتے ہیں۔ اسی طرح پیپلز پارٹی اقتدار میں برابر کی شراکت دار بھی ہے اور ناراضگی کا ناٹک کر کے تنقید بھی کرتی ہے۔ آخر وہ ناراض کس سے ہیں؟ ایم کیو ایم بھی اقتدار میں حصہ دار بن کر ناراض ہونے کا ڈھونگ رچاتی ہے۔ اسی ایم کیو ایم نے کراچی کو برباد کیا، لاشوں کے انبار لگائے اور روشنیوں کے شہر کو کچرے کا ڈھیر بنا دیا، لیکن آج انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ عوام کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی سیاست بھی انتہائی منفی اور مفاد پرستانہ ہے۔ اس پارٹی کے کئی قبلے ہیں، ایک طرف یہ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتے ہیں تو دوسری طرف حب الوطنی کے بھاشن دیتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی ذہنی کیفیت یہ بن چکی ہے کہ اگر عمران خان اقتدار میں نہیں تو یہ ملک بھاڑ میں جائے۔
اگر ان تمام سیاسی بدمعاشوں، بلیک میلروں اور منافقوں کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ اقتدار کے بھوکے گروہ ہیں جن کا ریاست پاکستان اور یہاں کے عوام کے مفادات سے کوئی تعلق نہیں۔ سادہ لوح عوام ہر بار اپنی قسمت ان کے ہاتھوں میں سونپ کر پچھتاتے ہیں۔ ملک کی بربادی میں جتنا حصہ ان سیاسی لٹیروں کا ہے، اس سے زیادہ قصور وار وہ عوام ہیں جنہیں اپنے بچوں کے مستقبل کا کوئی احساس نہیں۔ جنرل یحییٰ خان ہو، جنرل ضیائ الحق، جنرل مشرف ہوں یا جنرل عاصم منیر، یہ سبھی اپنے اپنے دور کے فرعون رہے ہیں جو طاقت کو ہی سچ مانتے ہیں اور خود کو عقل کل سمجھتے ہیں۔ الطاف حسین جس کی مرضی کے بغیر کبھی کراچی میں چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی تھی اور جس نے ہزاروں بے گناہوں کا خون بہایا، آج نشان عبرت بن کر زندگی کی آخری سسکیاں لے رہا ہے۔ زرداری جس سے اب ٹھیک سے چلا بھی نہیں جاتا، وہ صدارت کے مزے لوٹ رہا ہے۔
وطن عزیز میں مخلص جماعت اور دیانتدار قیادت صرف جماعت اسلامی کی شکل میں موجود ہے جو امانت و دیانت کے معیار پر پورا اترتی ہے۔ یہ محب وطن، نظریاتی اور اخلاقی اقدار کے امین لوگ ہیں جو بغیر کسی ذاتی غرض کے قوم کے ہر مسئلے کو اجاگر کرتے ہیں اور عوام کا مقدمہ لڑتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ قوم اپنے ووٹ جاہلوں، لٹیروں اور بدمعاشوں کے سپرد کر دیتی ہے۔ سیاسی پارٹیوں میں ڈکٹیٹر براجمان ہیں، ملک پر عملاً جرنیلوں کا تسلط ہے اور سیاسی قیادتیں اپنے مفادات کے لیے ہر محاذ پر سمجھوتہ کر چکی ہیں۔ ملک پر ایک ظالمانہ نظام مسلط ہے جہاں ایک چور جاتا ہے تو اس سے بڑا چور آ جاتا ہے اور ایک ڈکٹیٹر کے بعد دوسرا قابض ہو جاتا ہے، جبکہ عوام ان کی فرعونیت کے سامنے سرنگوں نظر آتے ہیں۔
قارئین کرام، میں آپ کی توجہ تاریخ کے ایک ایسے ہی ڈکٹیٹر کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں جو کروڑوں انسانوں کا قاتل تھا، سرعام خالق کائنات کی شان میں گستاخی کرتا تھا اور آخر کار اپنے ہی پیشاب میں لت پت ہو کر گونگی حالت میں نشان عبرت بن گیا۔ روسی ڈکٹیٹر جوزف سٹالن اپنی نوعمری میں چرچ کا پادری بننے کی تربیت لے رہا تھا، مگر پھر وہ اشتراکیت سے متاثر ہو کر پکا دہریہ اور کٹر ڈکٹیٹر بن گیا۔ وہ خدا کا انکار کرتا، طاقت کے نشے میں فوجیں بھیج کر کلیساؤں اور مسجدوں کو مسمار کرتا، یا انہیں شراب خانوں اور مویشیوں کے باڑوں میں تبدیل کر دیتا۔ جس گھر سے بھی مذہبی لٹریچر یا عبادت گزار لوگ پکڑے جاتے، وہ انہیں عقوبت خانوں میں بھیج دیتا یا سائبیریا کی شدید برفباری میں بھوک و پیاس سے مرنے کے لیے چھوڑ دیتا۔ جدید محققین کے مطابق ڈکٹیٹر سٹالن نے اپنے دور حکمرانی میں دو کروڑ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔
لیکن اس کا انجام انتہائی ذلت آمیز اور عبرت ناک ہوا۔ ایک رات وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ شراب نوشی اور فلم دیکھنے کے بعد اپنے کمرے میں جا کر سو گیا۔ اگلی صبح دس بج گئے لیکن وہ باہر نہ آیا۔ اس کے محافظ خوف کے مارے کمرے میں داخل نہ ہوئے کیونکہ اس نے آرام کے دوران خلل ڈالنے سے سختی سے منع کر رکھا تھا۔ رات کے ساڑھے دس بجے جب تشویش بڑھنے پر کمرے کا دروازہ توڑ کر کھولا گیا تو یہ جابر ڈکٹیٹر اپنے ہی پیشاب میں لت پت فرش پر اوندھے منہ گرا پڑا تھا۔ اسے دل کا شدید دورہ پڑا تھا اور وہ مفلوج ہو چکا تھا، تاہم وہ کچھ دن اسی حالت میں نیم مردہ رہا۔ سٹالن کی بیٹی سوئیلانہ لکھتی ہے کہ آخری وقت میں اس ڈکٹیٹر نے جب اپنی آنکھیں کھولیں تو وہ شدید خوف اور دہشت کا شکار تھا۔ وہ انتہائی بے بسی سے سب کو دیکھتا، اپنی شہادت کی انگلی اوپر کی جانب اٹھاتا اور پھر لوگوں کی طرف دیکھ کر کچھ کہنے کی کوشش کرتا، مگر اس کی زبان گنگ ہو چکی تھی۔ وہ اسی رب العزت کی پکڑ میں آ چکا تھا جس کا وہ انکار کرتا تھا، اور وہ تمام تر کوشش کے باوجود کچھ بھی بول نہ سکا اور اسی حالت میں مر گیا۔
سورت الدخان کی آیت نمبر 49 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ عذاب کا مزہ چکھ تو دنیا میں بڑا جابر اور معزز بنا پھرتا تھا۔ سورت الحاقہ کی آیت نمبر 33 میں اللہ فرماتا ہے کہ وہ عظمتوں والے اللہ تعالیٰ کو مانتا ہی نہ تھا۔ اس ظالم کا عبرت ناک انجام دیکھنے کے بعد اس کی بیٹی سوئیلانہ امریکہ منتقل ہو گئی اور اس نے الحاد ترک کر کے عیسائیت قبول کر لی۔ موت سے پہلے ان ظالم حکمرانوں اور ڈکٹیٹروں کی بے بسی دیکھنے کے لائق ہوتی ہے جب ان کا آخری وقت اور ذلت آمیز موت دنیا کے لیے نشان عبرت بن جاتی ہے۔
موت ایک اٹل حقیقت ہے، آج نہیں تو کل ہم سب نے اللہ رب العزت کے حضور پیش ہونا ہے۔ ہم دنیا میں جو بھی اعمال کرتے ہیں، وہ سب اس کے سامنے ہیں۔ اس لیے آخرت کی جوابدہی کا احساس ہر مسلمان کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ ہمیں شخصیت پرستی کے چنگل سے نکلنا ہو گا کیونکہ حق اور سچائی کے ساتھ کھڑا ہونا ہی ایمان کی اصل کسوٹی ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں حق کا ساتھ دینے اور برائی کے خلاف ڈٹ جانے کی توفیق عطا فرمائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here