تاخیر انکار نہیں ہے!!!

0
5

سورہ یوسف کی ایک آیت ہے کہ قَالَ لِلَّذِی ظَنَّ اْنَّہْ نَاج مِنْھْمَا اذکْرْنِی عِندَ رَبّکَ اور یوسف نے ان دونوں میں سے اْس شخص سے، جس کے بارے میں وہ سمجھتے تھے کہ وہ نجات پا جائے گا، کہا کہ اپنے رب یعنی بادشاہ کے سامنے میرا ذکر کرنا۔ حضرت یوسف علیہ السلام قید خانے میں تھے اور ان کے ساتھ دو اور قیدی بھی موجود تھے۔ ان میں سے ایک رہا ہونے لگا تو حضرت یوسف علیہ السلام نے اس سے یہ ایک چھوٹی سی فرمائش کی کہ جب تم بادشاہ کے پاس جاؤ، تو میرا ذکر کرنا کہ ایک بے گناہ انسان قید میں ہے، تاکہ وہ بادشاہ میرے لیے کچھ کرے اور میں رہا ہو جاؤں۔ لیکن آگے قرآن میں ارشاد ہے کہ فَاَّنسَاہ الشّیطَانْ ذِکْرَ رَبّہِ فَلَبث فیِ السّجْنِ بضعَ سِنِینَ پس شیطان نے اسے اپنے بادشاہ سے ذکر کرنا بھلا دیا چنانچہ یوسف کئی سال مزید قید خانے میں رہے۔ اگر ظاہری طور پر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس قیدی کو بات بھول گئی، جس کی وجہ سے حضرت یوسف علیہ السلام مزید کئی سال قید میں رہے اور قید خانے کی تکلیف اور اذیت سہتے رہے۔ لیکن اگر ایک لمحے کے لیے غور کیا جائے کہ اگر وہ قیدی اسی وقت ذکر کر دیتا تو کیا ہوتا، تو زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا کہ وہ بادشاہ حضرت یوسف علیہ السلام کو ایک بے گناہ قیدی سمجھ کر رہا کر دیتا۔ وہ جیل سے تو نکل جاتے، مگر شاید ایک عام مسافر بن کر چلے جاتے۔
اللہ تعالیٰ نے اس قیدی کو کئی سال تک یہ بات بھلائے رکھی کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتے تھے کہ ابھی مصر کے حالات سازگار نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ وہ وقت لانا چاہتے تھے جب بادشاہ کو ایک خواب آئے گا اور پورے ملک کو ایک ماہر معیشت کی ضرورت ہوگی۔ جب کئی سال بعد بادشاہ نے وہ عجیب خواب دیکھا جس کی تعبیر کوئی نہ دے سکا، تب اللہ تعالیٰ نے اس قیدی کے دماغ میں وہ بات ڈالی اور اسے اچانک حضرت یوسف علیہ السلام یاد آئے۔ اللہ تعالیٰ چاہتے تو حضرت یوسف علیہ السلام کبھی بھی رہا ہو جاتے، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو جیل سے اْس وقت نکالا جب وہ صرف ایک رہا ہونے والے قیدی نہیں بلکہ پورے ملک کے نجات دہندہ بن کر نکلے۔ وہ جیل سے نکلے تو سیدھا تخت اقتدار پر بیٹھے۔ انسانی زندگی میں بھی بہت سے لوگ ہمارا ذکر کرنا بھول جاتے ہیں۔ کبھی محسوس ہوتا ہے کہ فلاں بندہ ہماری سفارش کرسکتا تھا مگر اس نے نہیں کی، یا فلاں شخص رشتے کے لیے کوشش کر سکتا تھا لیکن اس نے نہیں کی۔ انسان مختلف دروازوں پر دستک دیتا ہے مگر وہ نہیں کھلتے، جس سے مایوسی پیدا ہوتی ہے کہ وقت ضائع ہو رہا ہے، عمر نکل رہی ہے، یا شاید اللہ تعالیٰ نے نظر انداز کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی نہیں بھولتے، وہ دراصل انہیں بچا رہے ہوتے ہیں اور جیل سے تب نکالتے ہیں جب باہر ان کے لیے تخت تیار ہوچکے ہوتے ہیں۔ اگر انسان پہلے نکل جائے تو شاید عام رہ جائے، چنانچہ اللہ کی تاخیر بندے کو خاص بنانے اور اس کی تربیت کے لیے ہوتی ہے۔ وہ رب العالمین ہے اور بہتر مستقبل کو جانتا ہے، اس لیے وہ ہمیشہ خاص وہ وقت لاتا ہے جو بندے کے حق میں بہتر ہوتا ہے۔ تاخیر ہرگز انکار نہیں ہے بلکہ یہ صبر کا امتحان ہے، جس کا صلہ بہترین صورت میں ملتا ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here