دنیا ایک بار پھر اسی موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں بارود کی بو، میزائلوں کی گھن گرج اور طاقت کے مظاہرے انسانی عقل و شعور پر غالب دکھائی دیتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ایک بار پھر حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ ہر فریق اپنے اقدام کو دفاع، قومی سلامتی یا قومی مفاد کا نام دیتا ہے، مگر سوال آج بھی وہی ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے جواب کا منتظر ہے کہ آخر اس جنگ کا حاصل کیا ہوگا؟
تاریخ بتاتی ہے کہ جنگیں شروع کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، لیکن انہیں ختم کرنا انتہائی مشکل عمل ثابت ہوتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ جنگ کا سب سے بڑا نقصان وہ معصوم لوگ اٹھاتے ہیں جن کا ان فیصلوں سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔ نہ وہ میزائل داغتے ہیں، نہ جنگی حکمتِ عملی بناتے ہیں، مگر انہی کے گھر اجڑتے ہیں، انہی کے بچے یتیم ہوتے ہیں اور انہی کے خواب بارود کے ملبے تلے دب جاتے ہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، لیکن ہر نئی جھڑپ پوری دنیا کو ایک شدید بے چینی میں مبتلا کر دیتی ہے۔ خلیج فارس میں تناؤ بڑھتے ہی تیل کی قیمتیں یکسر اوپر چلی جاتی ہیں، عالمی منڈیاں لرزنے لگتی ہیں، سرمایہ کاری کا عمل سست پڑ جاتا ہے اور مہنگائی کا ایک نیا طوفان جنم لیتا ہے۔ اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک ہی محدود نہیں رہتے بلکہ ایشیا، یورپ، افریقہ اور امریکہ سمیت ہر خطے میں عام آدمی کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی عالمی طاقتیں اپنے اختلافات کا حل مذاکرات کے بجائے طاقت کے استعمال میں تلاش کرتی نظر آتی ہیں۔ دنیا نے دو عالمی جنگوں کی تباہ کاریاں دیکھیں، لاکھوں جانوں کا ضیاع دیکھا اور انسانیت کو بے شمار زخم کھاتے دیکھا، مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ کے ان اسباق کو ابھی تک پوری طرح نہیں سیکھا گیا۔
آج دنیا پہلے ہی مہنگائی، موسمیاتی تبدیلی، غذائی بحران، بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے مخدوش حالات میں ایک نئی فوجی کشیدگی صرف مزید تباہی، خوف اور غیر یقینی صورتحال کو جنم دے گی۔ اس جنگ میں شاید کوئی حتمی فاتح نہ ابھر سکے، لیکن ہارنے والوں کی فہرست میں پوری انسانیت ضرور شامل ہوگی۔
طاقت کا حقیقی امتحان میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر ہوتا ہے کیونکہ جو قومیں اختلافات کو بات چیت، برداشت اور سفارت کاری سے حل کرتی ہیں، وہی تاریخ میں پائیدار امن کی بنیاد رکھتی ہیں۔ میزائل چند لمحوں میں عمارتیں تو گرا سکتے ہیں، مگر وہ اعتماد، امن اور انسانی رشتوں کو دوبارہ تعمیر کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری صرف رسمی بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک مؤثر سفارتی کردار ادا کرے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو بھی اپنی حقیقی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ایسے عملی اقدامات کرنے چاہییں جو جنگ کے ان شعلوں کو مزید بھڑکانے کے بجائے انہیں مکمل طور پر بجھا سکیں۔
آخرکار، ہر جنگ اپنے پیچھے ایک بڑا سوال چھوڑ جاتی ہے کہ اگر انجام کار پھر مذاکرات ہی ہیں تو آغاز گولیوں سے کیوں کیا جاتا ہے؟ شاید یہی وہ سلگتا ہوا سوال ہے جس کا جواب انسانیت کو آج بھی تلاش ہے۔ دنیا کو اب مزید جنگوں کی نہیں، بلکہ امن، انصاف اور تعمیری مکالمے کی ضرورت ہے، کیونکہ جب توپیں بولتی ہیں تو انسانیت خاموش ہو جاتی ہے۔

















